واپس
قرآن کی فریاد اور ہماری ذمہ داری: ہجرِ قرآن کا مفہوم اور اس کے ازالے کی صورتیں

قرآن کی فریاد اور ہماری ذمہ داری: ہجرِ قرآن کا مفہوم اور اس کے ازالے کی صورتیں

قرآنِ مجید میں اہلِ ایمان کے لیے اس شکایت سے بڑھ کر شاید ہی کوئی منظر زیادہ دل گداز ہو، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولِ اکرم ﷺ کی زبانِ مبارک سے یوں بیان فرمایا ہے: وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا۔الفرقان: 30۔ اور رسول کہیں گے: اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو واقعی ترک کر دیا تھا۔

الشيخ مصطفى الحجري

قرآنِ مجید میں اہلِ ایمان کے لیے اس شکایت سے بڑھ کر شاید ہی کوئی منظر زیادہ دل گداز ہو، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولِ اکرم ﷺ کی زبانِ مبارک سے یوں بیان فرمایا ہے: وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا۔الفرقان: 30۔ اور رسول کہیں گے: اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو واقعی ترک کر دیا تھا۔

اگرچہ یہ آیت اپنے سیاق کے اعتبار سے مشرکین کے اعراض اور بے رُخی کے بیان میں وارد ہوئی ہے، تاہم اس کا مفہوم کسی ایک دور یا کسی مخصوص قوم تک محدود نہیں۔ اس کی دلالت زمانی و مکانی قیود سے ماورا ہے۔یہ آیت درحقیقت ایک آئینہ ہے، جس میں ہر عہد اور ہر نسل اپنے طرزِ عمل کو کتابِ الٰہی کے مقابل دیکھ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا ہم واقعی اہلِ قرآن میں شمار ہوتے ہیں، یا ہم نے بھی اس کے تقاضوں سے سبکدوش ہو کر، عملاً اسے پسِ پشت ڈال رکھا ہے؟

لفظِ ہجر لغت میں ترک کرنے اور چھوڑ دینے کے مفہوم میں آتا ہے؛ تاہم قرآن کی منطق میں اس کا مفہوم اس قدر محدود نہیں کہ اسے صرف مصحف کو بند کر دینے یا تلاوت سے کنارہ کش ہو جانے تک محصور کر دیا جائے۔ ممکن ہے کوئی شخص قرآنِ مجید کو اپنے ہاتھ میں تھامے، اپنی آواز کو اس کی قراءت سے مزین کرے، اور اس کے باوجود بے شعوری میں کسی نہ کسی درجے کے ہجر کا مرتکب ہو۔

اسی نکتے سے یہ ضرورت  محسوس ہوتی ہے کہ قرآن کے ساتھ اپنے تعلق کی از سرِ نو تعیین کی جائے کہ

کیا وہ ہمارے فکری سانچے کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے؟

کیا وہ ہمارے عملی رویّوں کی سمت متعین کرتا ہے؟

کیا وہ ہمارے قلوب کی حیات و بیداری کا سرچشمہ ہے؟

قرآن محض ایک متن نہیں جسے مخصوص مواقع اور مذہبی تقریبات میں یاد کیا جائے، بلکہ وہ انسان کی ہمہ جہت تعمیر کا ایک جامع اور مربوط منصوبہ ہے۔ مسلمان کی زندگی میں اس کی موجودگی کو کم از کم تین بنیادی دائروں میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اول: دائرۂ رؤیت و فہم

قرآن وہ بنیادی سرچشمہ ہے جو انسان کو اس کائنات میں اس کی حیثیت سے آگاہ کرتا ہے، اسے اپنے رب کی معرفت دیتا ہے، زندگی کی حقیقت سمجھاتا ہے اور اس کے انجام و انجام سے باخبر کرتا ہے۔ اسی سے عقیدہ جنم لیتا ہے اور اسی کی روشنی میں انسان کا کائناتی تصور تشکیل پاتا ہے

پس اگر مسلمان اپنی بنیادی اور کلّی تصوّرات کسی ایسے منبع سے اخذ کرنے لگے جو اس سرچشمۂ وحی سے ماخوذ نہ ہو، یا وہ فکری مرجعیت کے باب میں وحیِ الٰہی پر دیگر نظریاتی حوالوں کو مقدم کرے، تو گویا اس نے ایمان کے مرکز میں شگاف ڈال دیا۔ یہ محض ترجیحات کی تبدیلی نہیں، بلکہ بنیادی  انحراف ہے، اور یہی ہجرِ قرآن کی ایک نہایت عمیق اور دور رس اثرات رکھنے والی صورت ہے۔ کیونکہ جب بنیاد ہی متزلزل ہو جائے تو پوری تعمیر عدمِ توازن کا شکار ہو جاتی ہے۔

ثانیاً: دائرۂ سلوک و عمل

قرآن کریم محض وعظ و نصیحت کا نظری مجموعہ نہیں، بلکہ ایک عملی دستورِ حیات ہے۔ اس کی ہدایت انسان کے تعلق کو اس کے ربّ سے مربوط کرتی ہے، اس کے باطن کی اصلاح کرتی ہے، اور معاشرتی زندگی میں اس کے طرزِ تعامل کو اخلاقی اصولوں کے تابع بناتی ہے۔قرآن کی یہ عملی جہت اپنی کامل ترین صورت میں سیرتِ نبوی ﷺ میں جلوہ گر ہوئی۔ لہٰذا  جب ہماری زبانیں آیاتِ الٰہی کی تلاوت کریں مگر ہمارے اعمال ان کی روح سے ہم آہنگ نہ ہوں، تو متن اور زندگی کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی فاصلہ رفتہ رفتہ وسعت اختیار کرتا ہے اور عملی ہجر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

ثالثاً: دائرۂ قلب و وجدان

انسان صرف عقل کا پیکر نہیں، بلکہ ایک ایسا دل بھی رکھتا ہے جو خوف، امید، محبت اور شوق جیسی کیفیات سے  عبارت  ہے، جیسے  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 28)

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اہلِ تقویٰ کی کیفیت اس انداز سے بیان کی ہے جو قرآن کریم کے ساتھ حقیقی تعلق کی روح کو واضح کر دیتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب وہ آیاتِ ترغیب سے گزرتے ہیں تو ان کے دل امید، شوق اور رجاء سے بھر اٹھتے ہیں، گویا وعدۂ رحمت ان کے سامنے مجسم ہو۔ اور جب آیاتِ تخویف آتی ہیں تو ان کی توجہ اس درجہ گہری ہو جاتی ہے کہ انہیں عذاب کی ہولناکی اپنے قریب محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ قرآن کے ساتھ ایک زندہ اور بامعنی تعلق ہے، محض ایسے الفاظ نہیں جو صرف زبان پر دہرائے جاتے رہیں۔

ہجر یا ترکِ قرآن کی صورتیں: ظاہر سے باطن تک

ہجر ایک یکساں اور سادہ کیفیت نہیں، بلکہ اس کی متعدد سطحیں اور مدارج ہیں۔

اوّلاً: ظاہری انقطاع: یہ وہ صورت ہے جس میں انسان قرآن کی تلاوت  کرنےاور سننے سے عملاً کنارہ کش ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ اس کا قرآن سے کوئی قابلِ ذکر تعلق باقی نہ رہے۔ یہ صورت واضح طور پر نظر آتی ہے، مگر اثر کے لحاظ سے زیادہ گہری نہیں ہوتی ہے۔


ثانیاً: مرجعیت سے جدائی: اس میں قرآن اپنی ظاہری موجودگی برقرار رکھتا ہے. یعنی قرآن تو الماریوں میں اور مساجد کے طاقچوں میں موجود ہو، لیکن انسان کے نظریات اور فیصلے ایسے اصولوں پر قائم ہوں جو اس کی ہدایت سے ہم آہنگ نہ ہوں۔ جب سیاست، معاشرت یا معیشت کے تصورات باہر سے لے کر اپنائے جائیں اور انہیں وحی کے معیار پر پرکھا ہی نہ جائے، تو یہ قرآن سے ایک غیر اعلانیہ اعراض کی شکل بن جاتی ہے۔ یوں قرآن موجود تو رہتا ہے، مگر مؤثر نہیں؛ پڑھا تو جاتا ہے، مگر رہنما نہیں بنتا۔

ثالثاً: کردار اور سلوک میں  تناقض: یہ ہجر کی وہ صورت ہے جس میں کثرتِ تلاوت موجود ہوتی ہے، لیکن آیات حلق سے آگے نہیں بڑھتیں۔ الفاظ ادا ہوتے ہیں، مگر دل متأثر نہیں ہوتا اور عمل تبدیل نہیں ہوتا۔رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ( يقرأون القرآن لا يجوز تراقيهم) یعنی وہ قرآن پڑھتے ہیں، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کلمات صوت کی حد تک محدود رہتے ہیں؛ نہ وہ قلب میں نفوذ کرتے ہیں، نہ کردار میں ڈھلتے ہیں۔ ایسی حالت میں قرآن آواز میں حاضر ہوتا ہے، مگر واقعیت میں غائب۔

رابعا: غور وفکر کے بغیر تلاوت کرنا

یہ قرآن سے دوری کی نہایت باریک اور مخفی صورت ہے۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ بار بار قرآن کریم ختم کرنا قرآن سے قریب ہونے  کی علامت ہے، حالانکہ اصل معیار یہ ہے کہ جو پڑھا جا رہا ہے اسے سمجھا اور اس پر غور بھی کیا جائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔( أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا) (محمد: 24) کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔

تدبّر ہی وہ کلید ہے جو صوتی قراءت کو تحویلی قراءت میں بدل دیتی ہے، یعنی ایسی قراءت جو انسان کے فکر وعمل میں تبدیلی پیدا کرے۔ اسی لیے شعور، توجہ اور قلبی حضور کے ساتھ پڑھی گئی چند آیات، ان طویل صفحات سے کہیں زیادہ اثر انگیز ہو سکتی ہیں جو بے حضوریِ قلب کے ساتھ محض عادتاً پڑھے جائیں۔

اسی تناظر میں اس بات سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ کہیں انسان حقیقت کو چھوڑ کر صرف ظاہری شکل و صورت میں نہ الجھ جائے۔ حضرت موسیٰ بن جعفر علیہ السلام اپنے آباء کے واسطے سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں: (مَنِ انْهَمَكَ فِي طَلَبِ النَّحْوِ سُلِبَ الْخُشُوعَ) یعنی جو شخص نحو کی باریکیوں میں حد سے زیادہ مشغول ہو جائے، اس سے خشوع چھین لیا جاتا ہے۔

اس کا مقصود ہرگز علم یا نحو کی تحصیل کی مذمت نہیں، بلکہ اس امر کی تنبیہ ہے کہ کہیں ذریعہ ہی مقصد نہ بن جائے۔ اگر انسان متن کی روح اور اس کے پیغام سے غافل ہو کر صرف اس کی فنی اور شکلی تفصیلات میں گم ہو جائے، تو خشوع اور تاثیر مفقود ہو سکتی ہے۔ علم مطلوب ہے، مگر اس کا مقصد نص کی گہرائی تک رسائی ہے، نہ کہ اس کی روح سے غفلت۔

قرآن سے حقیقی وابستگی کی راہ

ہجر کا علاج صرف تلاوت کی کثرت میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ ہم اپنی زندگی میں قرآن کا مقام درست طور پر متعین کریں۔ اس کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:

  • قرآن کو اپنی فکری تشکیل کا اعلیٰ ترین مرجع بنایا جائے۔
  • اپنے روزمرہ اعمال کو پہلے اس کی میزان پر پرکھا جائے، قبل اس کے کہ ہم دوسروں کا محاسبہ کریں۔
  • اسے عادت اور تکرار کی قراءت کے بجائے سوال، تلاش اور غور و فکر کی قراءت کے ساتھ پڑھا جائے۔
  • اسے اس شعور کے ساتھ سنا اور پڑھا جائے کہ گویا اس کا خطاب براہِ راست ہم سے ہے، نہ کہ صرف گزشتہ اقوام سے۔

قرآن اس بات کی شکایت نہیں کرتا کہ اسے پڑھنے والی زبانیں کم ہیں، بلکہ اس کی اصل شکایت یہ ہے کہ ایسے دل کم ہیں جو اس کے لیے اپنے دروازے کھولیں۔ تلاوت اور تأثر کے درمیان جو فاصلہ ہے، اسے تدبّر طے کرتا ہے؛ اور علم و آگہی اور عملی تبدیلی کے درمیان جو خلا ہے، جس کا نام امتثال (عمل و اطاعت) ہے۔۔

یہیں سے وہ سفر شروع ہوتا ہے جس میں قرآن (مہجور) نہیں رہتا بلکہ (معاش)بن جاتا ہے، محض پڑھی جانے والی کتاب نہیں، بلکہ ایسی کتاب جو انسان کی تعمیر کرے اور زندگی کی تشکیل کا سرچشمہ بن جائے۔

قرآن کا سوگ کے مواقع تک محدود ہو جانا

انتہائی افسوس ناک مظاہر میں سے ایک یہ ہے کہ قرآن کو تدریجاً مجالسِ عزا اور وفات کے مواقع  تک محصور کر دیا گیا ہے۔ گویا اس کی تلاوت کو حیاتِ اجتماعی کے عمومی بہاؤ سے کاٹ کر صرف لحظاتِ فقدان سے وابستہ کر دیا گیا ہو۔ نتیجتاً بعض اذہان میں یہ تصور راسخ ہو گیا ہے کہ قرآن کی آواز بلند ہونا کسی سانحۂ وفات کی علامت ہے۔ اگر کسی گھر یا مسجد سے تلاوت کی صدا آئے تو پہلا سوال یہی ابھرتا ہے کہ کیا کوئی انتقال ہو گیا ہے؟ گویا قرآن کا تعلق زندگی کی تعمیر سے نہیں، بلکہ قبروں کے کنارے سے ہے۔

حالانکہ قرآن نے اپنا تعارف اس کے بالکل برعکس کرایا ہے۔ وہ حیات بخش کتاب ہے، نہ کہ صرف مرنے والوں کی یاد میں پڑھا جانے والا کلام۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ(الأنفال: 24) اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی عطا کرتی ہے۔

یہ دعوت محض جسمانی حیات کی نہیں، بلکہ دلوں، عقلوں اور معاشروں کی حیات کی دعوت ہے۔ جس نے قرآن کو ایک رسمی جنازوی مظہر تک محدود کر دیا اور اسے روزمرہ کی فکری تشکیل اور عملی رہنمائی سے خارج کر دیا، اس نے دراصل اسے اس کے اصل میدان سے بے دخل کر دیا اور اس کے پیغامِ احیا کو سلب کر لیا۔

اگر ہم بعثتِ نبوی کے اولین ایام کی طرف رجوع کریں تو واضح ہوتا ہے کہ قرآن قلوبِ قاسیہ کو نرم کر رہا تھا، منجمد اذہان کے قفل کھول رہا تھا، اور ایک ایک آیت افراد کے داخلی اور خارجی نظام کو بدل دینے کی قوت رکھتی تھی۔سیرت میں مذکور ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ قرآن کی تعلیم حاصل کرے۔ جب اس نے یہ آیات سنیں:

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَه وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (الزلزلة: 7-8)

تو اس نے عرض کیا: (مجھے یہی کافی ہے)، اور واپس ہو گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصرف الرجل وهو فقيه۔

یعنی وہ شخص بصیرت و فہم کے ساتھ لوٹا۔ ان دو آیات میں اس نے حیاتِ انسانی کا کامل میزان پا لیا کہ عمل کی جواب دہی، حساب کی باریکی، اور عدلِ الٰہی کی ہمہ گیری۔ یہی وہ اثر ہے جو قرآن اس وقت پیدا کرتا ہے جب اسے متنبہ دل اور بیدار شعور کے ساتھ سنا جائے۔

آج کا المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کی زندگی میں قرآن سے اثر لینے کی صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے۔یہاں تک کہ تلاوت ایک صوتی مشق بن کر رہ گئی ہے، جو حلق سے آگے نہیں بڑھتی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی کیفیت کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا: يقرأون القرآن لا يجوز تراقيهم۔یعنی وہ قرآن پڑھتے ہیں، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا اثر نہ اندر تک پہنچ کر انسان کی اصلاح کرتا ہے اور نہ باہر ظاہر ہو کر اس کے کردار اور رویّے کو بدلتا ہے۔ درحقیقت یہ زبان کا مسئلہ نہیں بلکہ دل کے بحران کی علامت ہے۔

ہم قرآن سے دوری کے دائرے سے کیسے نکلیں؟

قرآن سے حقیقی تعلق کی بازیافت محض کثرتِ تلاوتِ قرآن، حسنِ تجوید یا حفظ پر فخر سے ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن کو زندگی کے مرکز میں اس کے حقیقی مقام پر واپس لایا جائے۔


۱۔  شعوری اور متفکرانہ تلاوت: تلاوت ایسی ہو جو محض صوتی ادائیگی نہ ہو، بلکہ تدبر و تأمل سے مزین ہو۔ قاری آیات پر ٹھہرے، ان کے مضامین پر غور کرے، اپنے حال کو ان کے آئینے میں دیکھے، اور ان سے ہدایت کشید کرے۔ معیار رفتار نہیں، بلکہ فہم کی گہرائی ہے۔

۲۔ فکری تشکیل میں قرآن کی مرجعیت: قرآن کو عقیدے، فکر اور اقدار کی تشکیل کا بنیادی منبع بنایا جائے۔ نظریات، آرا اور اجتماعی تصورات کو اس کی میزان پر پرکھا جائے، نہ کہ اسے ثانوی یا نمائشی حیثیت دی جائے۔

۳۔ معانی کا عملی تجسّم: قرآن کا حقیقی ثمر اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ اخلاق، معاملات اور رویّوں میں ڈھل جائے۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہا گیا: كان خُلُقُه القرآن۔یہ تعبیر پورے منہج کا خلاصہ ہے، یعنی قرآن محض پڑھا نہ جائے، بلکہ کردار بن جائے۔

خلاصۂ کلام

قرآن سے دوری (ہجر) کوئی ایک سادہ حالت نہیں، بلکہ اس کی کئی ظاہری اور مخفی صورتیں ہیں۔ یہ کبھی کھلی بے رغبتی اور انقطاع کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے اور کبھی محض رسمی تلاوت یا اسے صرف سوگوار مواقع تک محدود کر دینے کی صورت میں۔ اس کی سب سے خطرناک شکل وہ ہے جو قربت کا لباس اوڑھے ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں کتابِ الٰہی کی روح اور مقصد سے دوری کا اظہار ہوتی ہے۔

اس مرض کا علاج یہی ہے کہ قرآن کو زندگی کے مرکز میں واپس لایا جائے کہ وہ عقیدے کا مرجع ہو، سلوک کا میزان ہو، اور دلوں کا نور ہو۔تب وہ محض جدائی اور مصیبت  کے لمحات کی صدا نہیں رہے گا، بلکہ حیاتِ فرد اور حیاتِ امت دونوں کے لیے سرچشمۂ بیداری اور منبعِ انقلاب بن جائے گا جیسا کہ اسے ہونا تھا۔

شیئر: