الشيح معتصم السيد أحمد
عصرِ حاضر میں مسلمان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ نہ تو غربت ہے، نہ علمی پسماندگی، اور نہ ہی صرف معاشرتی انتشار؛ بلکہ اصل بحران رویّے اور بیانیے کا ہے۔ ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں ایمان اور کفر کا تصادم اب محض ایک نظری یا عقیدتی بحث نہیں رہا جس کی سرحدیں واضح ہوں، بلکہ یہ ایک اخلاقی اور وجودی کشمکش بن چکا ہے: کیا آپ حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں یا پیچھے ہٹ جاتے ہیں؟ کیا آپ گواہی دیتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں؟ کیا آپ حق کا ساتھ دیتے ہیں یا غیر جانبداری کا بہانہ اختیار کرتے ہیں؟
جدید انسان کو یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ غیر جانبداری ایک خوبی ہے، تنازعات سے دور رہنا پختگی کی علامت ہے اور ذاتی سلامتی ہر قدر سے بڑھ کر ہے۔ لیکن یہ سوچ خودبخود پیدا نہیں ہوئی یہ ایک ایسے عالمی نظام کی پیداوار ہے جو ایسا انسان چاہتا ہے جس کی قوتِ ارادی سلب ہو چکی ہوجو ظلم دیکھے مگر صرف تبصرہ کرسکے، جرائم سنے مگر محض ہمدردی تک محدود رہےاور سانحات کا مشاہدہ کرے مگر زیادہ سے زیادہ چینل بدل دینے پر اکتفا کرے۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہی سوچ آہستہ آہستہ دینی شعور میں بھی سرایت کرجاتی ہےاور یوں دین مزاحمت کی طاقت بننے کی بجائے ایک اخلاقی نشہ آور کیفیت میں بدل جاتا ہے، آزادی کے پیغام کی بجائے تنہائی کی چند رسومات تک محدود ہو جاتا ہے۔ پھر دینداری محض اللہ سے ایک پرسکون اور ذاتی تعلق کا نام رہ جاتی ہے جو نہ کسی کو ناگوار گزرے، نہ کسی ظلم کے سامنے کھڑی ہو، نہ کسی فساد کو چیلنج کرے گویا ایمان صرف ایک داخلی احساس ہو، کوئی تاریخی اور اجتماعی ذمہ داری نہ ہو۔
لیکن قرآنی نقطہ نظر میں انسان دنیا میں غیر جانبدار مخلوق نہیں ہے بلکہ وہ ایک گواہ ہے۔ یہ صرف جان لینے کا نام نہیں بلکہ مؤقف اختیار کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ آپ کسی چیز کو دیکھیں تو اس کے بارے میں ذمہ دار ہوتے ہیں اور جب کسی بات کو سمجھ لیں تو اس پر جواب دہ بھی ہوتے ہیں۔ اسی لیے قرآن زیادہ یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ آپ کیا عقیدہ رکھتے ہیں بلکہ یہ پوچھتا ہے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں۔
جدید تہذیب کی سب سے خطرناک پیداوار بڑی طاقتوں کی فوجی قوت نہیں بلکہ ظلم کو اخلاقی جواز دینے کی صلاحیت ہے۔ اب سلطنتیں یہ نہیں کہتی کہ ہم غلبہ حاصل کرنے کے لیے قبضہ کرتے ہیں بلکہ یہ کہتی ہیں کہ ہم یہ سب آزادی کے لیے کر رہے ہیں۔ یہ نہیں کہتی کہ ہم قوموں کو محکوم بنانے کے لیے محاصرہ کرتے ہیں بلکہ یہ کہتی ہیں کہ ان کی حفاظت کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ یہ تسلیم نہیں کرتی کہ وہ جنگیں مسلط کرتی ہیں بلکہ یہ کہتی ہیں کہ بحرانوں سے نمٹ رہے ہیں۔ یہی المیہ ہے۔ ظلم ایک اخلاقی بیانیہ بن جاتا ہے اور اس کی مخالفت کو انتہا پسندی قرار دے دیا جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں مسلمان دو شکست خوردہ راستوں میں سے کسی ایک کی طرف مائل ہو جاتا ہےیا تو دین کی حفاظت کے بہانے مکمل طور پر حقیقت سے کنارہ کش ہو جائے یا زندگی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے بہانے حقیقت میں مکمل طور پر گھل مل جائے۔ لیکن دونوں راستے اسے اس کی انسانیّت سے محروم کر دیتے ہیں پہلا راستہ دین کو زندگی سے کاٹ دیتا ہےاور دوسرا اسے جواز فراہم کرنے والا بناتا ہے۔
دین انسان سے یہ نہیں کہتا کہ وہ ہمیشہ شور شرابا کرنے والا ہو لیکن یہ کبھی بھی قبول نہیں کرتا کہ وہ ہمیشہ خاموش رہے۔ جب خاموشی ایک مستقل اصول بن جائے تو یہ حکمت نہیں بلکہ خوف بن جاتی ہےاور یہ پرہیزگاری نہیں بلکہ سازش ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسان کے پاس ہر وقت تبدیلی کی طاقت نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ انکار کرنے کی قوت کھو دے۔
یہاں اللہ تعالی کے لیے کھڑے ہونےکا مفہوم ظاہر ہوتا ہے۔ قیام صرف سیاسی انقلاب نہیں بلکہ خوف سے داخلی آزادی کا لمحہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان کا ضمیر فائدے یا نقصان کے حساب کتاب سے آزاد ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب بات اقدار کی ہو۔ یہ “نہیں” کہنا ہے، اس لیے نہیں کہ اس کے کہنے سے دنیا فوراً بدل جائےبلکہ اس لیے کہ خاموش رہنے سے وہ خود بدل جائے گا۔
ظلم کی سب سے بڑی فتح یہ نہیں کہ لوگ اس کے سامنے جھک جائیں بلکہ یہ ہے کہ لوگ اس کے وجود کو جواز فراہم کریں۔ جب لوگ کہنا شروع کر دیں کہ حقیقت پیچیدہ ہے، سیاست مفادات کی ہے اور دنیا مثالی خیالات سے نہیں بدلتی تو ظلم پہلے ہی کامیاب ہو چکا ہوتا ہے اور کوئی گولی بھی نہیں چلانی پڑی ہوتی۔ ظلم صرف ہتھیار کی طاقت پر نہیں بلکہ متاثرین کے مطابقت پذیر ہونے پر قائم رہتا ہے۔
اسی لیے مسئلہ یہ نہیں کہ تمام قومیں بغاوت پر اتر آئیں بلکہ یہ ہے کہ قوم میں ایسا بیدار ضمیر باقی رہے جو برائی کو جواز نہ دے۔ کیونکہ تاریخ تب نہیں شکست کھاتی جب آزاد لوگ کمزور ہو جائیں بلکہ تب شکست خوردہ ہو جاتی ہے جب وہ یہ یقین کر لیں کہ ہتھیار ڈال دینا عقلمندی ہے۔
آج مسلمان کا سب سے بڑی المیہ یہ ہے کہ وہ ایک واضح عالمی ظلم دیکھ رہا ہے کہ قومیں محاصرہ میں ہیں، وطن تباہ کیے جا رہے ہیں، خون کھلے عام بہایا جا رہا ہے اور پھر انہیں کہا جاتا ہے کہ اسے صرف ایک فوری خبر کی طرح دیکھویا ایک سیاسی پیچیدگی سمجھو جس کا تم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں داخلی زوال شروع ہوتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ اخلاقی حساسیت کھو دیتا ہے اور المیہ کے ساتھ ہم آہنگ ہونا شروع کر دیتا ہے۔
اور جب انسان اس مرحلے تک پہنچ جاتا ہے تو سوال یہ نہیں رہتا کہ کیا وہ تبدیلی لا سکتا ہے بلکہ یہ بنتا ہے کہ کیا وہ اب بھی برائی کو برائی سمجھتا ہے؟ کیونکہ سب سے خطرناک شکست فوجی شکست نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔
انسان کے پاس ہمیشہ ظلم کو روکنے کی طاقت نہیں ہوسکتی لیکن اس کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ اس کے ساتھ شریک ہو کر سازش نہ کرے۔ وہ اسے نفسیاتی جواز نہ دے اور نہ ہی خود کو اس کی توجیح کرنے دے۔ یہی قیام کا کم از کم تقاضا ہے۔
قیام کا مطلب لازمی طور پر ہتھیار اٹھانا یا ہمیشہ ٹکراؤ میں رہنا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ اندرونی توازن قائم رہے۔ یہ کہ آپ کے خیالات حقیقت کے دباؤ میں بگڑ نہ جائیں۔ ظالم تمہاری نظر میں صرف اس لیے طاقتور نہ لگے کہ وہ طاقتور ہے اور مظلوم اس لیے غلط قرار نہ پائے کہ وہ کمزور ہے۔
اسی مفہوم میں اخلاقی موقف ایک تہذیبی عمل میں بدل جاتا ہے۔ قومیں تب نہیں ہارتیں جب انہیں دبایا جائے بلکہ تب ہارتیں ہیں جب وہ اقدار کے مطابق فیصلہ کرنے کی طاقت کھو بیٹھیں۔ جب باطل ان کے شعور میں قابل قبول بن جائے کیونکہ وہ باطل کو دیکھنے کی عادت ڈال چکی ہوتی ہیں۔ہر تہذیب کا زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب سوال یہ بن جائے ہم کیسے بچیں؟ بجائے اس کے کہ ہم کیسے سچے رہیں؟ انفرادی بقا عارضی طور پر انسان کی حفاظت کر سکتی ہے لیکن وہ اس مقصد کو تباہ کر دیتی ہے جس کے لیے وہ زندگی گزار رہا ہے۔
اسی لیے جدید مسلمان کے لیے سب سے بڑا خطرہ صرف بیرونی دباؤ نہیں بلکہ اندرونی ماحول کا مطابقت پذیری کا رجحان ہے۔ جب انسان خود کے لیے اپنے سمجھوتے کو جواز فراہم کرتا ہے تو ظلم ایک مسلط شدہ طاقت سے ایک قابل قبول انتخاب میں بدل جاتا ہے۔ اصل میں موقف کوئی غیر معمولی بہادری نہیں بلکہ اپنی انسانیت کو برقرار رکھنے کا عمل ہے۔ یہ کہ آپ اس کے وفادار رہیں جو آپ جانتے ہیں کہ حق ہے، چاہے کوئی آپ کے ساتھ نہ ہو۔ ا قدار اور وقار اپنی صداقت حامیوں کی تعداد سے نہیں بلکہ نیت کی پاکیزگی سے حاصل کرتی ہیں۔ ہر زمانے میں ایسا امتحان ہوتا ہے جو بظاہر سادہ لگتا ہے لیکن اثر میں گہرا ہوتا ہے۔ کیا آپ ماحول کے مطابق ڈھل جائیں گے یا گواہی دیں گے؟ کیا آپ محفوظ جگہ تلاش کریں گے یا حقیقت کی تلاش کریں گے؟ یہ سوال مختلف صورتوں میں بار بار سامنے آتا ہےآسانی میں، کام میں، لوگوں میں، سیاست میں اور روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے پہلوؤں میں میں بھی درپیش ہوتا ہے۔
انسان بغیر کسی بڑی ٹکراؤ کے لمبی عمر گزار سکتا ہے لیکن وہ ہر دن ایک چھوٹا سا انتخاب کرتا ہے کہ جواز فراہم کرے یا انکار کرے اور یہ چھوٹے چھوٹے انتخاب ہی قوموں کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں صرف بڑے واقعات ہی قوموں کے مستقبل کا تعین نہیں کرتے۔
انسان سے مطلوب یہ نہیں کہ وہ ایک ہی دفعہ دنیا کو بدل دےبلکہ یہ ہے کہ وہ دنیا کو اپنے دل کو بدلنے نہ دے۔ اپنے اندر آزاد رہے، چاہے باہر کا ماحول قید میں ہو کیونکہ آزادی حقیقت سے پہلے ضمیر سے شروع ہوتی ہے۔
جب انسان یہ سمجھ جاتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ حق کے ساتھ کھڑا ہونا کوئی رومانوی نعرہ نہیں بلکہ یہ اس کی زندگی میں معنی کی بقا کی شرط ہے۔ ایسے وقت میں جب اقدار خطرے میں ہوں، غیر جانبداری کوئی درمیانی راستہ نہیں بلکہ یہ خاموشی سے طاقتور کے سامنے جھکنے کے مترادف ہے۔ دنیا میں ظلم بند نہیں ہوگا لیکن انسان ہمیشہ یہ اختیار رکھتا ہے کہ وہ اس کا گواہ نہ بنے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب حقیقی تاریخ شروع ہوتی ہے جب ایک فرد یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کا ضمیر اس کی اپنی حفاظت سے زیادہ قیمتی ہے۔
اس طرح موقف ایک عبادت بن جاتا ہے اور انکار اپنی انسانیت کو بچانے کا عمل ہوتا ہے، اس سے پہلے کہ یہ دوسروں کے خلاف مقابلہ ہوکیونکہ جب انسان اپنی ذات کھو دیتا ہے تو اس کی تمام کامیابیاں اسے فائدہ نہیں پہنچا سکتیں اور جب وہ اسے محفوظ رکھتا ہے تو اس کی تمام ناکامیاں اسے نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔
اسی لیے مسئلہ یہ نہیں کہ آپ دنیا کو فوراً بدل دیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ آپ اسے اپنے اندر کے نور کو بجھانے نہ دیں۔ ایسے زمانے میں جب آوازیں الجھ جائیں اور معیار کھو جائیں، سب سے بڑی چیز جو انسان کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر واضح اور مستحکم رہے… چاہے وہ تنہا ہی کیوں نہ ہو۔