واپس
متصادم بیانیوں کے زمانے میں بصیرت کی ضرورت

متصادم بیانیوں کے زمانے میں بصیرت کی ضرورت

ہمارا خطہ اس وقت کشیدگی اور تصادم کی ایک ایسی کیفیت سے گزر رہا ہے جو محض براہِ راست عسکری مقابلے تک محدود نہیں ہے، بلکہ در اصل یہ بیانیہ، شعور اور معنی و مفہوم کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جدید جنگیں اب صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ وہ الفاظ، تصاویر اور تجزیوں کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں جو مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے نشر کیے جاتے ہیں۔

الشيخ معتصم السيد أحمد

ہمارا خطہ اس وقت کشیدگی اور تصادم کی ایک ایسی کیفیت سے گزر رہا ہے جو محض براہِ راست عسکری مقابلے تک محدود نہیں ہے، بلکہ در اصل یہ بیانیہ، شعور اور معنی و مفہوم کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جدید جنگیں اب صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ وہ الفاظ، تصاویر اور تجزیوں کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں جو مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے نشر کیے جاتے ہیں۔

اسی لیے ہمارے ارد گرد جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف زمین یا اثر و رسوخ کا تنازع نہیں، بلکہ یہ اس بات کا بھی جھگڑا ہے کہ واقعات کی تعبیر کیا ہو اور لوگوں کے ذہنوں میں ان کے کیا معنی متعین کیے جائیں۔

ایسے ماحول میں انسان کے لیے یہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ آنے والے معلومات کی کثرت اور باہمی اور ان میں باہمی تضاد کی وجہ سے اپنی واضح بصیرت کھو نہ بیٹھے ۔

معاصر تنازعات میں ایک اہم بات جو ہماری توجہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض اوقات میڈیا کی جنگ، عسکری جنگ سے بھی زیادہ اثر انگیز ثابت ہوتی ہے۔ میڈیا صرف واقعات کو منتقل نہیں کرتا، بلکہ انہیں ایک خاص تفسیری قالب میں ڈھالتا ہے، اپنے الفاظ نہایت سوچ سمجھ کر منتخب کرتا ہے، واقعے کے بعض پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے اور بعض کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ یوں قاری یا ناظر کے ذہن میں حقیقت کی ایک خاص تصویر بنتی ہے، جو ضروری نہیں کہ مکمل حقیقت کے مطابق ہو، بلکہ وہ کسی خاص زاویۂ نظر یا مفاد کی عکاسی بھی ہو سکتی ہے۔

اسی تناظر میں جدید انسان کے شعور میں ایک گہرا مسئلہ سامنے آتا ہے، اور وہ یہ کہ بہت سے لوگ میڈیا میں پیش کی جانے والی باتوں کو حتمی حقیقت سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ خود میڈیا ایک پیچیدہ سیاسی و ثقافتی نظام کا حصہ ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ خلا میں کام نہیں کرتے، بلکہ وہ بین الاقوامی طاقت کے توازن، سیاسی اتحادوں اور معاشی مفادات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے میڈیا کا بیانیہ بعض اوقات ، شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر، ایسی کہانیاں اپنے اندر سموئے ہوتا ہے جو عالمی نظام میں زیادہ بااثر طاقتوں کے نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتی ہیں۔

معاملے کو مزید پیچیدہ بنانے والی بات یہ ہے کہ یہ کہانیاں ہمیشہ کھلے اور واضح انداز میں پیش نہیں کی جاتیں، بلکہ بسا اوقات ایسے تجزیوں اور زاویوں کی شکل میں سامنے آتی ہیں جو بظاہر غیر جانبدار معلوم ہوتے ہیں، مگر درحقیقت اسی فکری ڈھانچے کو دوبارہ پیدا کر رہے ہوتے ہیں جس سے طاقتور بیانیہ جنم لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اس چیز کی خطرناکی ظاہر ہوتی ہے جسے "بیانیے کی نرم قوت" کہا جا سکتا ہے؛ کیونکہ غالب بیانیے کو اپنی بات منوانے کے لیے زور زبردستی کی ضرورت نہیں رہتی، بلکہ وہ آہستہ آہستہ سوچنے کے انداز میں سرایت کر جاتا ہے، یہاں تک کہ واقعات کی تعبیر بھی اسی کے مطابق ہونے لگتی ہے۔

اس حقیقت کا ادراک شعور کی تعمیر میں ایک بنیادی قدم ہے۔ چنانچہ جو انسان ، خصوصاً ایک صاحبِ ایمان، اپنی بصیرت کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے، وہ میڈیا کے بیانیے کو مطلق حقیقت کے طور پر قبول نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک ایسی روایت سمجھتا ہے جسے تنقیدی نظر سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بات کا انکار کر دیا جائے یا مکمل شکوک میں مبتلا ہو جایا جائے، بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان میں یہ صلاحیت پیدا ہو جائے کہ وہ خبر اور اس کے ساتھ پیش کیے جانے والے تفسیری فریم کے درمیان فرق کر سکے۔

خبر اپنی جزوی واقعات کے لحاظ سے درست ہو سکتا ہے، لیکن اس کی پیشکش کا انداز قاری کو بالکل مختلف نتائج تک پہنچا سکتا ہے۔ بعض مخصوص الفاظ استعمال کر کے واقعے کے اخلاقی احساس کو بھی بدل دیا جاتا ہے؛ مثلاً مظلوم کو “تنازع کا ایک فریق” بنا دیا جاتا ہے، جارحیت کو “ تنازعہ” کہا جاتا ہے، اوراپنی سر زمین کے دفاع کو “کشیدگی میں اضافہ” قرار دیا جاتا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی لسانی تبدیلیاں قاری کے ذہن میں معنی کو اس طرح بدل سکتی ہیں کہ اسے احساس بھی نہیں ہوتا۔

اسی وجہ سے تنازعات کے اس دور میں انسان کو جس پہلی چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ وہ اس زبان کے بارے میں آگاہی پیدا کرے جس میں واقعات کو بیان کیا جاتا ہے۔ الفاظ محض غیر جانبدار اوزار نہیں ہوتے بلکہ حقیقت کو سمجھنے کی کنجیاں ہوتے ہیں۔ جو شخص ان الفاظ اور اصطلاحات پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے جن کے ذریعے واقعات بیان کیے جاتے ہیں، وہ دراصل ان واقعات کی تفہیم کو بھی سمت دے سکتا ہے۔

لہٰذا خبروں کو پڑھنے کے لیے بعض اوقات ایک لسانی تجزیہ کی ضرورت ہوتی ہے، جو یہ ظاہر کرے کہ استعمال ہونے والے الفاظ کے پیچھے کون سے پوشیدہ مفروضات کارفرما ہیں۔یہ مسئلہ صرف بین الاقوامی یا مغربی میڈیا تک محدود نہیں رہتا، بلکہ بعض اوقات ہمارے اپنے خطے کے میڈیا بیانیوں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ کیونکہ بعض عربی(اردو) یا علاقائی ذرائع ابلاغ ، سیاسی دباؤ، ثقافتی اثرات، یا پہلے سے تیار شدہ میڈیا ماڈلز کو اپنانے کی وجہ سے ، وہی زاویے دوبارہ پیش کرتے ہیں جو کسی اور سیاسی ماحول میں تشکیل پائے ہوتے ہیں، اگرچہ انہیں مقامی اور نرم زبان میں ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے۔

یہاں سامع یا ناظر کے لیے چیلنج مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ بظاہر یہ خطاب اس کی اپنی زبان اور ثقافت کے قریب محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کی گہری ساخت میں وہی تصوری فریم کارفرما ہوتا ہے جو کسی مختلف سیاق و سباق میں بنایا گیا ہوتا ہے۔ اسی لیے شعور کی تعمیر صرف بیرونی میڈیا پر تنقید تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس میں یہ صلاحیت بھی شامل ہوتی ہے کہ انسان مقامی بیانیوں کو بھی تنقیدی اور تجزیاتی نظر سے پڑھے، تاکہ ان کے اندر چھپے ہوئے مفروضات اور حدود کو واضح کیا جا سکے۔

لیکن اس پیچیدہ صورتِ حال کے مقابل قرآن ایک ایسا منہجی فکری و معرفتی نظام پیش کرتا ہے جو انسان کو تیار شدہ اور خودکار بیانیوں کی اندھی پیروی سے آزاد کرتا ہے۔ قرآن نہ صرف انسان کو محض تابعِ فکر بننے سے روکتا ہے، بلکہ اسے صاحبِ بصیرت بننے کی طرف بلاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ﴾. ﴿ یوسف :۱۰۸﴾کہدیجئے:یہی میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار، پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔

یہاں “بصیرت” سے مراد محض واقعات کا سطحی علم نہیں، بلکہ یہ صلاحیت ہے کہ انسان ظاہر کے پیچھے چھپی حقیقت کو دیکھ سکے۔ یہ بصیرت سیاق و سباق کا شعور، واقعات کے درمیان پوشیدہ ربط کو سمجھنے کی فہم، اور اس صلاحیت کا نام ہے کہ انسان حقیقت اور اس کی بنائی گئی تصویر کے درمیان فرق کر سکے۔اسی لیے جس انسان کے پاس بصیرت ہوتی ہے وہ میڈیا کے شور شرابے سے آسانی سے متاثر نہیں ہوتا، کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہر روایت کو اس کے تاریخی، سیاسی اور فکری پس منظر میں رکھ کر سمجھنا ضروری ہے۔

بصیرت کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ جذبات کو عقل پر غالب آنے نہیں دیتی، اور نہ ہی عقل کو اس حد تک سرد اور بے حس بننے دیتی ہے کہ اخلاقی احساس ہی ختم ہو جائے۔ بعض لوگ جذبات کے بہاؤ میں آ کر تجزیے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ محض خشک تجزیاتی انداز اختیار کر کے اخلاقی احساس سے محروم ہو جاتے ہیں۔ قرآن کی عطا کردہ بصیرت ان دونوں کے درمیان ایک توازن قائم کرتی ہے؛ یہ انسان کو سوچنے سمجھنے کی دعوت بھی دیتی ہے اور ساتھ ہی اس اخلاقی میزان کو بھی محفوظ رکھتی ہے جو عدل کو واقعات کے پرکھنے کا بنیادی معیار بناتا ہے۔

عدل اور انسانی وقار کے ساتھ کھڑا ہونا لازماً کوئی محض سیاسی موقف نہیں ہوتا، بلکہ یہ سب سے پہلے ایک اخلاقی اور انسانی موقف ہوتا ہے۔ ایمان اپنی اصل میں اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ انسان اصولی طور پر ظلم کے مقابلے میں بے طرف رہے، کیونکہ عدل قرآن کے عالمی تصورِ حیات میں ایک مرکزی قدر کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم یہی قدر اس بات کی محتاج ہوتی ہے کہ اسے شعور کے ساتھ سمجھا جائے، تاکہ یہ کسی جذباتی نعرے میں تبدیل نہ ہو جائے جو مختلف میڈیا جنگوں میں استعمال ہوتا رہے۔

اسی لیے مؤمن جب اپنے اردگرد پیش آنے والے حالات کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے محض خبروں کا ایک سادہ صارف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک باشعور قاریٔ بیانیہ ہونا چاہیے۔ اسے ہمیشہ یہ سوالات اپنے ذہن میں رکھنے چاہییں: کیا کہا جا رہا ہے؟ کیسے کہا جا رہا ہے؟ کیا نہیں کہا گیا؟ اس روایت سے کس کو فائدہ ہو رہا ہے؟ اور یہ بات کس سیاق و سباق میں سامنے آئی ہے؟

یہ سوالات کسی فکری عیاشی یا محض علمی مشغلے کا حصہ نہیں، بلکہ یہ شعور کو ہیرا پھیری اور اثراندازی سے محفوظ رکھنے کی ایک بنیادی ضرورت ہیں۔ کیونکہ آج کی دنیا ایسی ہے جو رائے عامہ کو مختلف طریقوں سے متاثر کرنے کی مسلسل کوششوں سے بھری ہوی ہے، خواہ وہ خبریں ہوں، تجزیے ہوں یا منتخب شدہ تصاویر اور مناظر۔

جب انسان کے اندر یہ تنقیدی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے تو وہ اپنے شعور میں زیادہ آزاد ہو جاتا ہے، اور اس قابل بن جاتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کو کسی ایک مخصوص بیانیے کا قیدی بنے بغیر سمجھ سکے۔ اسی طرح وہ اس قابل بھی ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقت اور اس حقیقت کی میڈیا میں بنائی گئی تصویر کے درمیان فرق کر سکے۔

انسان کے لیے سب سے خطرناک چیز جو آج کے دورِ تنازع میں پیش آ سکتی ہے وہ یہ نہیں کہ وہ دوسروں سے مختلف رائے رکھے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی آزاد سوچنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے۔ کیونکہ جب یہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے تو انسان محض سنی ہوئی باتوں کی بازگشت بن کر رہ جاتا ہے، اور دنیا کو سمجھنے والا فاعل نہیں رہتا۔

اسی لیے ایسے حالات میں سب سے بڑا ثقافتی اور فکری کام صرف واقعات کی تشریح کرنا نہیں ہوتا، بلکہ ایسے انسان کی تعمیر کرنا ہوتا ہے جو واقعات کو شعور کے ساتھ پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسا انسان جو صرف سنی ہوئی باتوں پر اکتفا نہ کرے بلکہ شور و غل کے پیچھے چھپے ہوئے معنی کی تلاش کرے۔

جب ایک مؤمن کے اندر یہ بصیرت پیدا ہو جاتی ہے تو وہ میڈیا کے طوفانوں کے سامنے زیادہ پرسکون رہتا ہے، اور واقعے کو دیکھتے ہوئے اپنا اخلاقی توازن بھی برقرار رکھتا ہے۔ اس وقت وہ محض واقعات کا ایک عام ناظر نہیں رہتا بلکہ ایک باشعور گواہ بن جاتا ہے جو متصادم بیانیوں کے پیچھے چھپی حقیقت کو بھی دیکھتا ہے، اور ساتھ ہی عدل اور انسانی وقار کے معیار پر قائم رہتا ہے۔

شیئر: