واپس
رازِ ختم نبوت اور  ہدایت کے تسلسل و  عقل کی بالیدگی کے بارے میں اسلام کی حکمت

رازِ ختم نبوت اور ہدایت کے تسلسل و عقل کی بالیدگی کے بارے میں اسلام کی حکمت

حقیقت کی جستجو میں سرگرداں انسانی عقل، اسلام میں "ختمِ نبوت" کے تصور کے بارے میں چند اہم اور فطری سوالات اٹھاتی ہے اور وہ یہ کہ اگر نبوت اپنی حقیقت میں انسانیت کی رہنمائی اور راہنمائی کی ضرورت کا ایک الٰہی جواب ہے، اور اگر انسانی تاریخ کا سفر مسلسل ایسی بنیادی تبدیلیوں سے عبارت ہے جو قوانین اور ضابطوں کی تجدید کا تقاضا کرتی ہیں، تو پھر عقل اس بات کو کیسے قبول کرے کہ یہ الٰہی فیض اور آسمانی رہنمائی ایک مرحلے پر آکر منقطع ہو جائے؟

شیخ مصطفیٰ الہجری

حقیقت کی جستجو میں سرگرداں انسانی عقل، اسلام میں "ختمِ نبوت" کے تصور کے بارے میں چند اہم اور فطری سوالات اٹھاتی ہے اور وہ یہ کہ  اگر نبوت اپنی حقیقت میں انسانیت کی رہنمائی اور راہنمائی کی ضرورت کا ایک الٰہی جواب ہے، اور اگر انسانی تاریخ کا سفر مسلسل ایسی بنیادی تبدیلیوں سے عبارت ہے جو قوانین اور ضابطوں کی تجدید کا تقاضا کرتی ہیں، تو پھر عقل اس بات کو کیسے قبول کرے کہ یہ الٰہی فیض اور آسمانی رہنمائی ایک مرحلے پر آکر منقطع ہو جائے؟

اسی سوال کے سبب ایک اور نہایت اہم مغالطہ جنم لیتا ہے کہ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ "تشریعی نبوت" یعنی نئی شریعت اور نئے دین کے ساتھ آنے والی نبوت  اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے، تو پھر "تبلیغی نبوت" کا سلسلہ کیوں ختم ہوا؟  جبکہ دینی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ کے بعد ہزاروں انبیاء مبعوث ہوئے، لیکن ان میں سے اکثر کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے تھے اور یہ کہ  ان کا کام صرف اپنے سے پہلے آنے والے انبیاء کی تعلیمات کی تبلیغ، حفاظت اور تجدید تھا، ،تو  پھر اسلام کے بعد اسی نوعیت کا ایک بھی نبی کیوں ظاہر نہ ہوا، جو نئی شریعت لائے بغیر محض دینِ الٰہی کے محافظ اور مبلغ کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا؟

نبوت اور عالمِ غیب سے ارتباط میں فرق

پہلا مغالطہ  درحقیقت ایک غلط مفہوم کا پیدا کردہ ہے، جس میں "نبوت" اور "عالمِ غیب سے معنوی ارتباط" کو لازم و ملزوم سمجھ لیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ نبوت کے دروازے کے بند ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت کی روحانی صلاحیتیں زوال پذیر ہو گئی ہیں اور آسمانی فیوض و برکات کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں۔لیکن قرآنِ کریم اس بنیادی تصور کی اصلاح کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ یہ گمان حقیقت پر مبنی نہیں۔ قرآن کی رو سے عالمِ غیب سے ارتباط اور نبوت کے منصب کے درمیان کوئی لازمی اور ناگزیر تعلق نہیں ہے۔ وحی، الہام اور غیبی تائید صرف انبیائے کرامؑ کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق اپنے برگزیدہ بندوں کو بھی ان فیوض سے نوازتا ہے، خواہ وہ منصبِ نبوت پر فائز نہ ہوں۔

قرآنِ مجید اس حقیقت پر متعدد روشن دلائل پیش کرتا ہے۔اور حضرت مریم بنتِ عمرانؑ اس کی نمایاں مثال ہیں۔  کہ وہ نبی نہیں تھیں، لیکن فرشتوں نے ان سے گفتگو کی اور انہیں عالمِ غیب سے براہِ راست تائید حاصل رہی۔ اسی طرح حضرت موسیٰؑ کی والدہ کو بھی ایک خاص نوعیت کا الہامی پیغام عطا ہوا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ... اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ اسے دودھ پلاؤ..." (القصص: 7)

اس حقیقت کو مزید گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے مسلمان حکماء و عرفاء روحانی سفر کو مختلف مراحل میں تقسیم کرتے ہیں، جن میں دو مراحل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں:

اوّل: خلق سے حق کی جانب سفر

یہ وہ روحانی اور باطنی سفر ہے جس کے ذریعے انسان قربِ الٰہی اور معرفتِ ربانی کے مدارج طے کرتا ہے۔

دوم: حق سے خلق کی جانب واپسی

یہ وہ مرحلہ ہے جس میں ایک برگزیدہ ہستی خدا سے فیض پا کر دوبارہ لوگوں کی طرف لوٹتی ہے تاکہ انہیں ہدایت، تربیت اور رہنمائی فراہم کرے۔

پہلا سفر، یعنی خلق سے حق کی جانب پیش قدمی، صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ یہ راہ ہر اُس سالک کے لیے کھلی ہے جو اخلاص اور مجاہدۂ نفس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انبیاءؑ کا ایک اہم مقصد بھی یہی تھا کہ وہ انسانوں کو اس روحانی سفر کی طرف رہنمائی کریں اور ان کے لیے راستہ ہموار بنائیں۔

البتہ دوسرا سفر، یعنی حق سے خلق کی طرف لوٹ کر انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینا، انبیائے الٰہی کی امتیازی خصوصیت ہے۔ انہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کو کثرت سے وحدت کی طرف، انتشار سے اجتماع کی طرف، اور غفلت سے معرفت کی طرف لے جائیں۔ یہی منصب درحقیقت "نبوت" کہلاتا ہے۔

مشہور مسلمان فلسفی صدر المتألہین اس حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں: "جان لو کہ جب ہدایت کے تمام   دروازے کھل جائیں اور رسالت کا باب بند ہو جائے تو، حجت کے تمام ہونے اور دین کے کامل ہو جانے کے بعد، لوگ نئے رسول کے محتاج نہیں رہتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے  فرمایا کہ :آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا ہے۔ البتہ الہام کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا اور ہدایت کے نور کا فیضان کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ (مفاتیح الغیب، ص 13)

لہٰذا نبوت کے خاتمے کا مطلب یہ ہے کہ تشریع اور ہدایت کی الٰہی ذمہ داری کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، نہ کہ انسانوں سے روحانی اور معنوی فیض کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔واضح رہے کہ نبوت اپنی حقیقی تعریف میں ایک الٰہی منصب اور ذمہ داری ہے، جس کے تحت لوگوں کی طرف رجوع کر کے ان کی رہنمائی کی جاتی ہے (حق سے خلق کی جانب سفر)۔ لیکن روحانی ارتقا، تزکیۂ نفس اور الٰہی انوار و تجلیات کا حصول (خلق سے حق کی جانب سفر) ایک ایسا دروازہ ہے جو ہر اُس شخص کے لیے کھلا ہے جو اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾

پس ختمِ نبوت کا اعلان درحقیقت تشریعی ذمہ داری کے خاتمے کا اعلان ہے، نہ کہ انسانی فطرت کی روحانی صلاحیتوں کے خاتمے یا عالمِ ملکوت سے وابستہ روحانی و معنوی فیوض کے انقطاع کا۔

تبلیغی نبوت کے خاتمے کا راز اور علم کے دور کا آغاز

اب دوسرے مغالطے کو زیرِ بحث لاتے ہیں کہ اگر سابقہ امتوں میں شریعت کی یاد دہانی اور تبلیغ کے لیے انبیاء مبعوث ہوتے رہے ہیں، تو اسلام کے بعد ایسے انبیاء کیوں نہیں آئے؟

یہاں بعض محققین نبوت کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں:تشریعی نبوت، جو نئی شریعت اور عملی نظام لے کر آتی ہے، اور تبلیغی نبوت، جس کا مقصد سابقہ انبیاء کی تعلیمات کی یاد دہانی اور ان کی دعوت کو زندہ رکھنا ہوتا ہے۔

اس سوال کا فلسفیانہ اور تاریخی جواب یہ ہے کہ اسلام کے ظہور تک انسانیت فکری اور سماجی بلوغت کے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی جہاں وہ اپنے دینی اور علمی ورثے کی حفاظت کے قابل ہو گئی تھی۔ جبکہ قدیم ادوار میں انسان اس صلاحیت سے محروم تھا، جیساکہ آسمانی کتابیں وقت گزرنے کے ساتھ ضائع یا تحریف کا شکار ہو جاتی تھیں، اور اسی وجہ سے ان تعلیمات کی تجدید اور احیا کے لیے تبلیغی انبیاء کی ضرورت پیش آتی تھی۔

بعض اہلِ فکر اس صورتِ حال کو ایک ایسے بچے سے تشبیہ دیتے ہیں جسے درسی کتاب دی جائے، لیکن وہ چند دن بعد اسے ضائع کر دے، جس کے نتیجے میں استاد کو بار بار نئی کتاب فراہم کرنا پڑے۔ لیکن اسلام کے ساتھ انسانیت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئی جہاں وہ اپنی الٰہی میراث کی حفاظت کر سکتی تھی۔ اسی لیے قرآن نے اعلان کیا: ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ بے شک ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

یہ حفاظت محض ایک غیبی معجزہ نہیں تھی، بلکہ امت کی یہ خوبی  حفظ، تدوین اور علمی شعور کے فروغ کے ذریعے بھی ظاہر ہوئی۔ قرآن نے نزولِ وحی کے آغاز ہی میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ... الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ یہ آیات اس بات کا اعلان تھیں کہ اسلام کا دور، پڑھنے، لکھنے اور عقل و دانش کے فروغ کا دور ہے۔

علامہ محمد اقبالؒ اس حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں کہ ’’ نبیِ اسلامؐ قدیم اور جدید دنیا کے سنگم پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ جہاں تک آپؐ کے سرچشمۂ وحی کا تعلق ہے، وہ قدیم دنیا سے وابستہ ہے، لیکن جہاں تک روحِ اسلام کا تعلق ہے، وہ نئی دنیا سے متعلق ہے۔ اسلام کا ظہور درحقیقت استقرائی اور برہانی عقل کی پیدائش کا اعلان ہے‘‘۔ (احیائے فکرِ دینی در اسلام، ص 125)

اس فکری بلوغت کے دور میں تبلیغی نبوت کی بنیادی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اب علماء نے اس ذمہ داری کو سنبھال لیا اور وہ دین کی تبلیغ، معاشرے کی رہنمائی اور دینی تعلیمات کے تحفظ میں ان رسولوں کے جانشین بن گئے۔ لہٰذا تبلیغی نبوت کا خاتمہ انسانیت کو کسی نعمت سے محروم کرنا نہیں، بلکہ اس کے فکری ارتقا اور بلوغت کا اظہار ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بالغ ہونے کے بعد ایک نوجوان سے براہِ راست نگرانی اور سرپرستی اٹھا لی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی عقل، شعور اور حاصل شدہ صلاحیتوں کی بنیاد پر زندگی کا سفر طے کرے۔

ثالثاً: بدلتی ضروریات کے مقابل شریعت کا مستقل وجود۔ (قوتِ اجتہاد)

یہاں  یہ ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ  ایک ثابت شریعت مسلسل بدلتے اور پیچیدہ ہوتے معاشرے کی ضروریات کو کیسے پورا کر سکتی ہے؟ کیا انسانی تہذیب کی ترقی نئے قوانین کی متقاضی نہیں؟ شہید مطہریؒ اپنی کتاب ختمِ نبوت میں اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے انسانی ضروریات کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں:بنیادی ضروریات اور ثانوی ضروریات۔

بنیادی ضروریات، جیسے عدل، امن، عبادت اور خاندان کی تشکیل، انسانی فطرت سے وابستہ ہیں، اس لیے زمانے کے بدلنے سے یہ سب تبدیل نہیں ہوتیں۔ جبکہ ثانوی ضروریات، جیسے ذرائع نقل و حمل، پیداوار کے وسائل اور طرزِ زندگی، مسلسل تبدیلی اور ارتقا کا شکار رہتی ہیں۔

دینِ اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے بنیادی اور دائمی ضروریات کے لیے مستقل اصول و قوانین عطا کیے ہیں، جبکہ متغیر ضروریات کے لیے عمومی اور لچک دار ضابطے مقرر کیے ہیں۔ اسلام نے مادی زندگی کی شکلوں اور وسائل کو تقدس نہیں دیا، بلکہ مقاصد، اقدار اور عادلانہ تعلقات کو اہمیت دی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال قرآنِ کریم کا یہ ارشاد ہے: ﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ﴾ "اور ان کے مقابلے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق قوت تیار رکھو۔"

یہ ایک دائمی اور ثابت اصول ہے کہ دشمن کے مقابلے کے لیے قوت اور دفاعی طاقت مہیا کی جائے۔ عہدِ نبوی میں اس اصول کا عملی اظہار تیراندازی سیکھنے اور گھڑ سواری کی ترغیب کی صورت میں ہوا۔ اسلام نے نہ تلوار کو بذاتِ خود مقدس قرار دیا اور نہ گھوڑے کو، بلکہ "قوت" کو اصل معیار قرار دیا۔ لہٰذا آج اسی اصول کا عملی مصداق جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، فضائی قوت اور جدید عسکری وسائل ہیں، جبکہ اصل حکم اور مقصد وہی برقرار ہے۔

اجتہاد: اسلام کی داخلی محرک قوت

اسلام نے اجتہاد کا اصول عطا کیا تاکہ بدلتے حالات کے ساتھ ہم آہنگی اور مسلسل تجدید کا عمل کسی نئے نبی کی ضرورت کے بغیر جاری رہ سکے۔ اجتہاد درحقیقت اسلام کی محرک قوت ہے۔ اس سے مراد وہ منظم علمی کاوش ہے جس کے ذریعے علماء اور فقہاء اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئے پیش آنے والے مسائل کے احکام اخذ کرتے ہیں۔ اسلامی مصادر، خصوصاً قرآنِ کریم، استنباط اور تحقیق کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ امام جعفر صادقؑ قرآن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ :یہ کسی ایک زمانے یا کسی خاص قوم کے لیے نازل نہیں ہوا، اسی لیے ہر زمانے میں تازہ اور ہر قوم کے لیے زندہ ہے۔"

یہ حقیقت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اجتہاد ایک ارتقائی اور متحرک عمل ہے، جو انسانی فہم اور علوم کی ترقی کے ساتھ وسعت اختیار کرتا رہتا ہے۔ اس فلسفیانہ تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ ختمِ نبوت نہ تو زمین سے آسمان کے تعلق کے خاتمے کا نام ہے اور نہ زندگی کے جمود کا اعلان۔ بلکہ یہ انسانیت کی فکری بلوغت کا الٰہی اعلان ہے۔ انسان اب اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اسے ہر روز حروف سکھانے والے معلم کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس کے پاس ایک کامل دستور، یعنی قرآنِ کریم، اور اس کو سمجھنے اور نافذ کرنے کا مؤثر ذریعہ، یعنی عقل اور اجتہاد، موجود ہے۔ اسلام اپنی ہمہ زمانی اور ہمہ گیری، اور اپنے جامع اصولوں کی بدولت ہر دور کے نئے حالات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح انسانیت کو بے سہارا نہیں چھوڑا گیا، بلکہ اسے ایک روشن اور واضح راستہ عطا کیا گیا ہے، جس میں بقا، تجدید اور رہنمائی کے تمام اسباب موجود ہیں۔

شیئر: