الشيخ مصطفى الهجري
انسانی تاریخ میں انبیائے کرامؑ کا سفر متفرق تحریکوں یا ایک دوسرے سے جدا واقعات کا مجموعہ نہیں تھا ، بلکہ یہ ایک باہم جڑی ہوئی زنجیر کی مانند ایک باهدف تحریک تھی جو انسان کو اوج کمال کی طرف لے جا رہی تھی۔ایسے میں خاتم النبیین حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور پچھلی انبیاء کی نبوتوں کے درمیان بنیادی فرق رسالت کی نوعیت، اس کے دائرہ کار، اور اس کے ساتھ جڑے ہوئے انسانی شعور کے ارتقائی معیار میں واضح نظر آتا ہے اور یہی وہ وجہ ہے جو یہ واضح کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی رسالت کا سورج طلوع ہونے سے تا ابد انسانیت نئے انبیاء کی آمد سے کیوں بے نیاز ہو چکی ہے۔
از ابتدا تا انتہاسلسلہ نبوت کا تدریجی ارتقاء:
نبوتوں کے درمیان پایا جانے والا گہرا تعلق اور ان کا ایک دوسرے سے متصل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ نبوت کا سفر مرحلہ وار (تدریجی طور پر) کمال کی طرف بڑھتا رہا ہے، اور نبوت کے اس سلسلے کی آخری کڑی اس کی سب سے اونچی چوٹی اور عروج کی منزل ہے۔گویا پچھلے انبیاء راستے ہموار کر رہے تھے اور انسانی و روحانی عمارت کی بنیادیں بلند کر رہے تھے، یہاں تک کہ انسانیت اس مرحلے پر پہنچ گئی جہاں وہ آخری اور حتمی پیغام کو سمجھنے اور اسے اپنانے کے قابل ہو گئی۔
اس سلسلے میں مسلمان حکماء (فلاسفہ) کا کہنا ہے: (الخاتم من ختم المراتب بأسرها) یعنی "خاتم (ختم کرنے والا) وہ ہے جس نے تمام مراتب و مقامات کو مکمل طور پر طے کر لیا ہو"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبیِ خاتم ﷺوہ ذات ہیں جنہوں نے (کمال کے) تمام مراحل کو عبور کر لیا، اور وحی کا کوئی ایسا راستہ نہیں بچا جس پر آپ نہ چلے ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا مقام بچا جسے آپ نے آشکار (واضح) نہ کر دیا ہو۔بالفرض کسی علم سے متعلق تمام تر مسائل دریافت کر لیے جائیں، تو اس کے بعد پھر مزید کسی نئی تحقیق یا نئی دریافت کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔بعینہ وحی سے متعلقہ مسائل کا معاملہ بھی ہے کہ کائنات اور خدا کے درمیان آخری تعلق اور رابطے (وحیِ الٰہی) کے ظاہر ہو جانے کے بعد اب کسی نئے انکشاف اور نئے نبی کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بچی۔
مرحوم فیض کاشانی نے اس ارتقاء اور تکمیل کی بہترین منظر کشی کی ہے، انہوں نے اپنی کتاب "علم الیقین" (صفحہ ۱۰۵) میں ایک عظیم شخصیت کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: انسان کی جبلت اور فطرت کا اصل مقصد قربِ الٰہی کے مقام تک پہنچنا ہے، اور یہ مقصد انبیاء کی رہنمائی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے نبوت کو نظامِ کائنات کا ایک حصہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اور یہ بالکل فطری بات ہے کہ یہاں نبوت سے مراد اس کا اعلیٰ ترین درجہ اور آخری مقام ہے نہ کہ اس کا آغاز؛ کیونکہ نبوت اللہ کے قانونِ قدرت کے مطابق بالکل اسی طرح مرحلہ وار (تدریجی طور پر) مکمل ہوتی ہے جیسے کوئی عمارت آہستہ آہستہ تعمیر کی جاتی ہے‘‘۔
جس طرح کسی عمارت کی تعمیر میں سیڑھیاں اور دیواریں بذات خود اصل مقصد نہیں ہوتیں، بلکہ ان کے وجود کا اصل مقصد عمارت کی وہ مکمل شکل ہوتی ہے (جو آخر میں سامنے آتی ہے)؛ بالکل اسی طرح نبوت کا معاملہ بھی ہے۔ نبوت کا اصل مقصد اس کی وہ کامل ترین صورت ہے جہاں پہنچ کر یہ ختم ہو جاتی ہے، اس کا سلسلہ رک جاتا ہے اور پھر اس میں مزید کوئی اضافہ نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ کمال تک پہنچنے کے بعد اس میں مزید اضافہ کرنا دراصل نقص (عیب) بن جاتا ہے؛ جیسے (ہاتھ میں) پانچ کے بعد چھٹی اضافی انگلی کسی کام کی نہیں ہوتی (بلکہ عیب لگتی ہے)۔
جبکہ نبی اکرم ﷺ نے اسی مفہوم کو اپنی حدیثِ شریف میں یوں مجسم فرمایا ہے: ’’انبیاء میں میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا، اسے مکمل کیا اور خوبصورت بنایا سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے۔ تو جو کوئی بھی اس گھر میں داخل ہوتا اور اسے دیکھتا تو یہی کہتا: یہ گھر کتنا خوبصورت ہے، سوائے اس ایک اینٹ کی جگہ کے! پس میں ہی اس اینٹ کی جگہ ہوں، اور مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہ‘‘۔(یہ حدیث اسی طرح مجمع البیان میں سورہ احزاب کی آیت نمبر ۲۵ کے ذیل میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالے سے نقل کی گئی ہے)۔
ابدی دستور اور امتِ وسط کے مقابلے میں عارضی منصوبے:
خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور باقی انبیاء علیہم السلام کی نبوتو ں میں ایک اور بنیادی فرق یہ ہے کہ پچھلے انبیاء عام طور پر مخصوص معاشروں میں پائے جانے والے مخصوص سماجی امراض کے علاج کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے۔ان حالات میں جبکہ انسانی معاشرہ کبھی جمود اور سستی کی طرف مائل ہو جاتا تھا، تو کبھی غرور اور خود پسندی میں ڈوب جاتا تھا، چنانچہ ایک ایسی طاقت کا وجود ناگزیر ہو جاتا تھا جو اسے دوبارہ اعتدال (توازن) کی طرف لائے۔اسی لئے کسی خاص زمانے اور قوم کے لیے جو چیز مثلِ دوا (علاج) ہوتی تھی، وہی چیز کسی دوسرے زمانے اور دوسری قوم کے لیے ایک دائمی مصیبت بن جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان انبیاء کی تعلیمات وقتی اور عبوری (عارضی) ہوا کرتی تھیں۔
جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو یہ بنیادی طور پر (دیگر شریعتوں سے) مختلف ہے۔ کیونکہ نبیِ اسلام کا پیغام تمام دوسرے پیغامات سے اس لحاظ سے ممتاز ہے کہ یہ ایک" مستقل قانون" ہے، کوئی عارضی منصوبہ نہیں ہے۔ یہ پوری انسانیت کے لیے ایک مستقل دستور ہے، جو کسی مخصوص انتہا پسند، قدامت پسند، دائیں بازو یا بائیں بازو کے معاشرے کے لیے مختص نہیں ہے۔ اسلام ایک جامع، ہمہ گیر، کلی، معتدل اور متوازن منصوبہ (ضابطہ حیات) ہے جو تمام جزوی منصوبوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اور ہر طرح کے حالات میں لاگو ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔دین کی بنیاد انسان کی فطرت پر رکھی گئی ہے، اور تمام انسانوں کی فطرت ایک ہی ہے۔ انسانوں کا یہ ارتقائی سفر ایک ہی دیکھے بھالے اور سیدھے راستے پر گامزن ہے جس کا مقصد بھی ایک ہی ہے۔ جبکہ دین کی حقیقت بھی صرف ایک ہی ہے، جو انسان کی فطرتی خواہشات کی ترجمانی کرتی ہے اور انسانوں کو سیدھے راستے کی طرف گامزن کرتی ہے۔
تبلیغی نبوت کا خاتمہ اور انسانی عقل کا ارتقاء:
انبیاء کی دو اقسام ہیں:
۱. تشریعی انبیاء (اُولو العزم): یہ وہ انبیاء ہیں جو (خدا کی طرف سے) نئے قوانین اور شریعتیں لے کر آئے۔
۲. تبلیغی انبیاء: یہ وہ انبیاء ہیں جو لوگوں کو تعلیم دیتے تھے اور اپنے سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی شریعتوں کی طرف ان کی رہنمائی کرتے تھے۔
اسلام کے آنے کے بعد نبوت کی ان دونوں اقسام کا خاتمہ ہواہے۔ اسلام کی آمد کے بعد انسانیت فکری اور سماجی طور پر بلوغت (سمجھ بوجھ) کے مرتبے کو پہنچ چکی ہے۔اس لئے تبلغی نبوت کو ختم کیا گیا۔ کیونکہ انسان کو تبلیغی وحی کی ضرورت اس وقت تک رہتی ہے جب تک عقل، علم اور تہذیب اس درجے کو نہ پہنچ جائیں جہاں وہ خود دین کے معاملے میں دعوت، تعلیم، تبلیغ اور اجتہاد کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہو سکے۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ علم اور عقل کا ظہور، یا دوسرے لفظوں میں انسانیت کا ارتقاء اور اس کا بالغ ہونا، خود بخود تبلیغی وحی کے سلسلے کو ختم کر دیتا ہے، ایسے میں (امت کے) علماء ان تبلیغی انبیاء کی جگہ لے لیتے ہیں۔
انسانیت کی اسی بلوغت نے مسلمانوں کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنی آسمانی کتاب (قرآن مجید) کو تحریف (ردوبدل) اور مٹ جانے سے محفوظ رکھ سکیں، برخلاف پچھلی امتوں کے جو اپنے دینی ورثے کی حفاظت کرنے سے عاجز تھیں۔چنانچہ جو ابتدائی آیات نازل ہوئیں وہ پڑھنے، لکھنے، قلم اور علم کے بارے میں بات کرتی ہیں، اور یہ اس بات کا اعلان ہیں کہ قرآن کا دور علم اور عقل کا دور ہے۔ جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آسمانی آیات کی حفاظت اور تعلیم دینے کا فریضہ اب ان علماء کی طرف منتقل ہو چکا ہے جو انبیاء کے جانشین اور وارث قرار پائے ہیں۔جیسا کہ مفکرِ مشرق علامہ اقبال لاہوری اپنی کتاب "تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ" (احیاء الفکر الدینی فی الاسلام، صفحہ ۱۲۵) میں اشارہ کرتے ہیں: ’’زندگی ہمیشہ طفولیت (بچپنے) کے اس مرحلے پر برقرار نہیں رہ سکتی جہاں بیرونی طور پر اس کی رہنمائی کی جائے... قرآن میں عقل اور مشاہدے (تجربے) کی طرف مسلسل توجہ دلانا، اور اس روشن کتاب کا فطرتِ کائنات اور تاریخ کو انسانی علم کے ذرائع کے طور پر جو اہمیت دینا ہے، یہ سب دراصل ختمِ نبوت کے تصور کے مختلف پہلوؤں اور مظاہر کو ہی نمایاں کرتے ہیں‘‘۔
اسلامی تشریع (قانون سازی) میں دائمی بقا کے محرکات:
زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ جب انسانی ضروریات اور تقاضے بدلتے رہتے ہیں، تو ایسے میں کوئی دین ہمیشہ کے لیے کیسے زندہ اور باقی رہ سکتا ہے؟ اس کا راز اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اسلامی قوانین انسانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، اور یہ "اہداف و معانی" (مقاصد) کو "شکل و صورت اور سانچوں" (ذرائع) سے بالکل الگ رکھتے ہیں۔
اہداف کا استحکام اور ذرائع کی لچک:
اسلام نے کبھی بھی زندگی کے مادی ڈھانچےاوراس کی ظاہری شکل و صورت پر اصرار نہیں کیا۔ اسلامی تعلیمات تمام کی تمام روح اور حقیقی معنی پر توجہ مرکوز کرتی ہیں، اور اس نے انسانوں کو مادی وسائل کے انتخاب میں مکمل آزاد چھوڑ دیا ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو اسلام کو تہذیب و تمدن اور ثقافت کی ترقی کے ساتھ ساتھ کسی بھی قسم کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھتی ہے۔
بنیادی اور ثانوی ضروریات:
اسلام انسان کی دائمی اور مستقل "بنیادی ضروریات" (جیسے انصاف، عبادت اور رہائش کی ضرورت) کو مستقل قوانین کے ذریعے پورا کرتا ہے، جبکہ بدلتی ہوئی "ثانوی ضروریات" کے لیے وہ ایسے لچکدار اصول فراہم کرتا ہے جو ہر دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں۔
عقل اور اجتہاد کا کردار:
اسلام نے عقل کو ایک مرکزی اور کلیدی کردار دیا ہے، یہاں تک کہ فقہاء نے اسے احکام (شریعت) کے چار بنیادی مصادر (ذرائع) میں سے ایک شمار کیا ہے اور یہ قاعدہ مقرر کیا ہے: كل ما حكم به العقل حكم به الشرع، وكل ما حكم به الشرع حكم به العقل (جس چیز کا حکم عقل دیتی ہے، اسی کا حکم شریعت دیتی ہے؛ اور جس چیز کا حکم شریعت دیتی ہے، عقل بھی اسی کا حکم دیتی ہے)۔
چنانچہ اجتہاد ہی اسلام کی اصل متحرک قوت ہے۔ اور جیسا کہ عظیم فلسفی ابنِ سینا نے اپنی کتاب "الشفاء" کے الٰہیات کے آخری حصے میں لکھا ہے: ’’سلام کے کلی قوانین (اصول) مستقل، محدود ہیں اور وہ تبدیل نہیں ہوتے، جبکہ روزمرہ کے واقعات اور مسائل بدلتے رہتے ہیں اور وہ لامحدود ہیں... اس لیے یہ بات لازم ہے کہ ہر دور اور زمانے میں ماہرین (علماء) کا ایک گروہ موجود ہو جو اجتہاد کی ذمہ داری سنبھالے اور اسلام کے ان کلی اصولوں سے نئے پیدا ہونے والے مسائل کے احکام کا استنباط (حل) نکالے‘‘۔
حاکم قواعد اور تزاحم کا باب (دلائل میں ٹکراؤ کے اصول):
اسلام نے کچھ ایسے کلی قواعد (اصول) فراہم کیے ہیں، جیسے قاعدہ لاضرر (نقصان نہ پہنچانے کا اصول)، قاعدہ الحرج (تنگی اور مشقت دور کرنے کا اصول)، قاعدہ تقدیم الاھم علی المھم ( اہم پر اہم ترین کو ترجیح دینے کا اصول، یعنی جب مفادات اور نقصانات کا آپس میں ٹکراؤ ہو رہا ہو، تو زیادہ اہم چیز کو مقدم رکھا جائے) وغیرہ۔یہ وہ قواعد ہیں جو باقی تمام احکام پر حاکم (بالادست) رہتے ہیں تاکہ قوانین میں جمود پیدا نہ ہو، اور ہر دور میں نئے مسائل کے حل کا استنباط (تخريج) آسان ہو سکے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ رسالتِ محمدی ﷺ بنی نوع انسان کی طرف سے ہونے والے کامل ترین مابعدالطبیعیاتی انکشاف اور مشاہدے (مکاشفہ) کی نمائندہ ہے، اور یہ اس سلسلے کا آخری مرحلہ ہے۔ اور یہ بالکل واضح بات ہے کہ اس کامل ترین مشاہدے کے بعد اب کوئی بھی دوسرا انکشاف نیا نہیں ہو سکتا، کیونکہ آخری بات وہی ہے جو اس وحی اور مشاہدے میں بیان کر دی گئی ہے۔ اسلام نے (انسانیت پر) براہِ راست سرپرستی اور نگرانی کے ادوار کو ختم کر کے، آسمانی ہدایت کی مکمل روشنی سے منور "عقلِ مستنیر" (روشن عقل) کے دور کا آغاز کیا ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا سچا مصداق ہے: ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا﴾اور آپ کے رب کی بات سچائی اور انصاف کےلحاظ سے مکمل ہو گئی۔