شیخ معتصم السید احمد
انسانی تاریخ کے کسی بھی دور میں زندگی بالکل سیدھی اور ہموار نہیں رہی، بلکہ اس میں ہمیشہ نشیب و فراز اور مختلف مشکلات رہی ہیں۔ موجودہ زمانے کی خاص بات یہ نہیں کہ مشکلات پہلے سے زیادہ ہو گئی ہیں، بلکہ اصل فرق اس بات میں ہے کہ ہم ان مشکلات کو کس زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ آج مسئلہ صرف چیلنجز کے وجود کا نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ ہم انہیں کس طرح سمجھتے اور ان کی کیا تعبیر کرتے ہیں۔ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں توقعات بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں، زندگی کی رفتار تیز ہو گئی ہے، اور ہر طرف مثالی زندگی کی تصویریں دکھائی دیتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر معمولی سی لغزش بھی ہو جائے تو وہ انسان کو بڑی ناکامی یا تباہی محسوس ہونے لگتی ہے۔
اب مسئلہ صرف یہ نہیں کہ زندگی مشکل ہے، کیونکہ مشکل ہونا تو انسانی تجربے کا ہمیشہ سے حصہ رہا ہے جبکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عصرِ حاضر کی ثقافت نے انسان کو یہ باور کرا دیا ہے کہ زندگی ہمیشہ آسان اور ہموار ہونی چاہیے، استحکام ہی اصل حالت ہے، اور ٹھوکر کھانا ایک ناقابلِ قبول استثنا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے اصل خرابی پیدا ہوتی ہے، کیونکہ انسان صرف پیش آنے والے واقعے سے ہی نہیں دکھ پاتا بلکہ اس کی اپنی تشریح سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ جب کوئی چیلنج ذاتی ناکامی کی علامت سمجھ لیا جائے تو دباؤ شناخت کے بحران میں بدل جاتا ہے، اور جب کامیابی کو ایک مسلسل مثالی حالت کے طور پر ناپا جائے تو اس میں معمولی سا وقفہ بھی اضطراب اور بے چینی کا سبب بن جاتا ہے۔
جدید ثقافت، جسے میڈیا، اشتہارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تقویت دیتے ہیں، زندگی کی ایک مثالی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس تصویر میں مسلسل کامیابی، صحت مند جسم، بڑھتی ہوئی آمدنی، مستحکم تعلقات اور سماجی طور پر خوشحال زندگی کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ اس تصور کو محض ایک امکان کے طور پر نہیں بلکہ ایک معمول اور معیار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خرابی پیدا ہوتی ہے؛ کیونکہ اس تصویر سے ذرا سا بھی انحراف ذاتی ناکامی سمجھا جانے لگتا ہے، نہ کہ زندگی کے فطری سفر کا ایک حصہ۔
ایسے ماحول میں تنگی اور مشکل ایک نفسیاتی مسئلہ بن جاتی ہے۔ بیماری کو شکست سمجھا جاتا ہے، مالی مشکلات کو داغ تصور کیا جاتا ہے، خاندانی انتشار کو عار سمجھا جاتا ہے اور وجودی الجھن کو کمزوری کا نام دیا جاتا ہے۔ یوں جدید دور کی بے چینی جنم لیتی ہے؛ اس لیے نہیں کہ مصیبتیں زیادہ ہو گئی ہیں، بلکہ اس لیے کہ انہیں سمجھنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے۔
زندگی کے بارے میں قرآنی نقطۂ نظر اس مثالی تصور کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ قرآن کی منطق میں زندگی مسلسل کامیابیوں کا نام نہیں، بلکہ سختی اور آسودگی، تنگی اور فراخی، درد اور معنی کے امتزاج سے بنا ہوا ایک پیچیدہ زندگی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً﴾ تو وہ ایسی زندگی کا وعدہ نہیں کرتا جس میں کوئی بحران نہ ہو، بلکہ دراصل وہ خود بحران کے مفہوم کو نئے انداز سے سمجھاتا ہے۔
جدید ثقافت یہ کہتی ہے کہ مشکل اور تنگی ایک ایسی حالت ہے جس سے جلد از جلد نجات حاصل کر لینی چاہیے۔ لیکن قرآن یہ بتاتا ہے کہ عسر کوئی بے معنی خلا نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا مرحلہ ہے جس میں انسان اپنے آپ کو نئے سرے سے سنوارنے اور تشکیل دینے کا موقع پاتا ہے۔
آج کا انسان مسلسل کارکردگی اور کامیابی کے دباؤ میں زندگی گزار رہا ہے۔ اس کی قدر و قیمت اس کی کاموں کی فہرست، اس کے سوشل میڈیا کے فالورز کی تعداد، اس کی پیشہ ورانہ کامیابیوں اور مقابلے کی صلاحیت سے ناپی جاتی ہے۔ اس طرح کی مسلسل پیمائش انسان کے اندر ایک باطنی کمزوری پیدا کر دیتی ہے، کیونکہ اس کی شناخت بیرونی نتائج کے ساتھ وابستہ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ جب نتائج میں لغزش آتی ہے تو انسان کی اپنی شناخت بھی متزلزل ہو جاتی ہے۔
یہیں سے موجودہ دور کا ایک اہم مسئلہ سامنے آتا ہے: توقعات کا غیر معمولی پھیلاؤ اور برداشت کی صلاحیت کا سکڑ جانا۔ ہم ایک مثالی زندگی چاہتے ہیں، مگر ہمیں یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ کمی اور نقص کے ساتھ کیسے جیا جاتا ہے۔ ہم مسلسل کامیابی کے خواہاں ہیں، لیکن ناکامی کو سنبھالنے کی تربیت نہیں رکھتے۔ ہم راحت چاہتے ہیں، مگر صبر کی قوت اپنے اندر پیدا نہیں کر پاتے۔
ایسے ماحول میں، کہ جہاں کامیابی کا دباؤ اور ظاہری تصویر سازی غالب ہو، وہاں مثبت سوچ بھی ایک جلد استعمال ہونے والی شے بن کر رہ گئی ہے۔ چنانچہ چند معروف جملے سن لینا ہی کافی سمجھا جاتا ہے جیسے "مثبت سوچو"، “جس چیز کو چاہتے ہو اسی پر توجہ دو، نہ کہ جس سے ڈرتے ہو”، “اپنے ذہن میں منفی خیالات کو جگہ نہ دو۔” یہ مشورے بظاہر دلکش محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ وہ سادہ اور آسانی سے پھیلنے والے ہیں؛ لیکن اکثر یہ انسانی تجربے کی گہرائی کو محض چند لفظی نسخوں تک محدود کر دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ اس کی حقیقی اور گہری تفہیم فراہم کریں۔
جدید ثقافتِ ترقی اگرچہ اس میں کچھ مفید پہلو بھی موجود ہیں لیکن اکثر درد اور تکلیف کو صرف طرزِ فکر کی غلطی سمجھتی ہے، گویا مسئلہ محض اس بات سے حل ہو جائے گا کہ انسان اپنے اندرونی جملوں کو نئے انداز میں دہرا لے۔ لیکن یہ انسان کو الفاظ بدلنے کا مشورہ تو دیتی ہے، مگر یہ نہیں سکھاتی کہ واقعے کو خود کیسے سمجھا جائے اور اسے معنی کے کسی وسیع تر تناظر میں کیسے رکھا جائے۔ نتیجتاً مثبت سوچ ایک مضبوط باطنی تعمیر کے بجائے محض ایک نفسیاتی آرائش بن کر رہ جاتی ہے۔
یہ کمزور مثبت سوچ دراصل حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اسے نظر انداز کرنے کا نام ہے۔ اس میں انسان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ پریشانی کی اصل وجہ کو سمجھے بغیر ہی اسے بھلا دے، مشکل سوالات اٹھانے کے بجائے مسکرا دے، اور کسی تجربے کو اچھی طرح سمجھے بغیر ہی شکر ادا کرنے لگے۔ اس طرح اندر کی دبی ہوئی کیفیات ختم نہیں ہوتیں بلکہ دل و دماغ میں جمع ہوتی رہتی ہیں، اور بعد میں نفسیاتی تھکن یا اچانک ذہنی دباؤ کی صورت میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔
اس کے برعکس قرآن کا نقطۂ نظر مثبت سوچ کو حقیقت سے آنکھیں بند کرنے پر نہیں بلکہ زندگی کے اصولوں اور اللہ کی سنتوں کو سمجھنے پر قائم کرتا ہے۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ مشکل کو نظر انداز کر دو، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ اسے زندگی کے بڑے تناظر میں سمجھو۔ وہ یہ نہیں چاہتا کہ انسان مصنوعی طور پر اطمینان ظاہر کرے، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ انسان شعور اور سمجھ کے ساتھ زندگی کی حقیقت کو پہچان کر اپنے اندر حقیقی سکون پیدا کرے۔
یہی اصل فرق ہے؛ کیونکہ قرآنی تعلیمات میں مثبت سوچ کوئی وقتی ذہنی مشق نہیں، بلکہ ایک گہری بصیرت کا نتیجہ ہے۔ اس بصیرت کے ساتھ انسان سمجھتا ہے کہ مشکلات زندگی کا فطری حصہ ہیں، نہ کہ کوئی ایسا عارضی خلل جسے صرف چند الفاظ کہہ کر ختم کر دیا جائے۔
جب ہم مشکلات کو انکشاف اور بیداری کے ذریعے کے طور پر دیکھنا سیکھتے ہیں تو ان کے ساتھ ہمارا تعلق بھی بدل جاتا ہے۔ موجودہ دور میں بہت سے نفسیاتی مسائل کی اصل وجہ مسئلے کا بڑا ہونا نہیں بلکہ اس کے معنی کا نہ ملنا ہے۔ جب انسان کو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی کوئی قابلِ قبول تعبیر نہیں ملتی تو اس کا درد کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ اسی واقعے کو اپنی شخصیت کی نئی تشکیل کے ایک مرحلے کے طور پر دیکھنے لگے تو اس کا بوجھ ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک معاصر صورت کو دیکھیے: ملازمت کا ختم ہو جانا۔ موجودہ ثقافت میں اسے ایک سخت ناکامی، بلکہ بعض اوقات عزت اور وقار کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر اسے گہرے زاویۂ نظر سے دیکھا جائے تو ممکن ہے یہی لمحہ ایسے راستے سے آزادی کا ذریعہ بن جائے جو انسان کی حقیقی صلاحیتوں یا شخصیت کے مطابق نہیں تھا۔ یہ زندگی کے پیشہ ورانہ سفر کو نئی سمت دینے کا موقع بھی بن سکتا ہے، یا ایسی صلاحیتوں کو دریافت کرنے کا سبب بن سکتا ہے جو پہلے کبھی استعمال ہی نہیں ہوئیں۔ اس طرح تنگی اور مشکل محض نقصان نہیں رہتی بلکہ زندگی کے راستے میں ایک نیا موڑ بن جاتی ہے۔
اسی طرح صحت کے مسائل کو بھی دیکھ لیجیے۔ ایسے دور میں، جہاں جسمانی خوبصورتی کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے، بیماری انسان کے لیے ایک دوہرا نفسیاتی صدمہ بن جاتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ بیماری کے تجربے کے بعد اپنی زندگی کو نئے سرے سے ترتیب دیتے ہیں، اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کرتے ہیں اور اپنی ذات کے بارے میں پہلے سے زیادہ گہرا شعور حاصل کرتے ہیں۔ ایسے لمحوں میں پیدا ہونے والا شعور محض ایک عارضی احساس نہیں ہوتا بلکہ انسان کی زندگی میں ایک گہری وجودی تبدیلی کا سبب بن جاتا ہے۔
جدید ثقافت انسان کو یہ باور کراتی ہے کہ اصل قدر تیز رفتار زندگی، زیادہ سے زیادہ چیزیں حاصل کرنے اور ہر ممکن چیز کا مالک بن جانے میں ہے۔ اس کے برعکس قرآنی بصیرت انسان کی توجہ ایک اور قدر کی طرف مبذول کراتی ہے، اور وہ ہے تزکیہ۔ یعنی انسان کی باطنی تربیت اور داخلی نشوونما، نہ کہ صرف ظاہری ترقی اور پھیلاؤ۔ جہاں ظاہری ترقی کے لیے آسودگی اور سہولتیں درکار ہوتی ہیں، وہاں تزکیہ اکثر سختی، آزمائش اور چیلنج کے ماحول میں پروان چڑھتا ہے۔
اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ بحرانوں اور مشکلات کے سامنے بکھر جاتے ہیں، جبکہ کچھ انہی حالات میں زیادہ مضبوط اور پختہ ہو جاتے ہیں۔ فرق دراصل مشکل کی شدت میں نہیں بلکہ اس زاویۂ نظر میں ہوتا ہے جس سے اسے دیکھا جاتا ہے۔ جو شخص بحران کو اپنی زندگی کا آخری فیصلہ سمجھ لیتا ہے وہ مایوسی اور خود ملامتی میں ڈوب جاتا ہے، جبکہ جو اسے زندگی کے طویل سفر کا ایک مرحلہ سمجھتا ہے وہ اس کے اندر چھپے معنی تلاش کرنے لگتا ہے۔
حقیقی مثبت شعور زبردستی مسکرانے کا نام نہیں، بلکہ حالات کی تعبیر کو نئے زاویے سے دیکھنے کی ہمت ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے انسان خود سے سوال کرتا ہے:
میں اس تجربے سے کیا سیکھ سکتا ہوں؟
کون سا وہم یا فریب ٹوٹ رہا ہے؟
کون سی ترجیح اب زیادہ واضح ہو رہی ہے؟
اور کون سا تعلق اپنی اصل صورت میں سامنے آ رہا ہے؟
یہی سوال مشکل کو ایک بند دیوار کے بجائے ایک ممکنہ دروازے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
ڈیجیٹل تقابل کے اس زمانے میں، جب انسان روزانہ دوسروں کی چنی ہوئی اور سجا کر پیش کی گئی زندگیوں کو دیکھتا ہے، تو اس کے اندر احساسِ محرومی بڑھنے لگتا ہے۔ مگر اس طرح کا تقابل ایک اہم حقیقت کو چھپا دیتا ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی میں کسی نہ کسی قسم کی مشکل اور تنگی کا سامنا کر رہا ہوتا ہے، اگرچہ ان کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ مشکلات کوئی انفرادی استثنا نہیں بلکہ انسانی زندگی کا عمومی حصہ ہیں تو اس کے اندر تنہائی اور بے بسی کا احساس کم ہونے لگتا ہے۔
موجودہ دور کی ثقافت کی سب سے خطرناک پیداوار "بالکل ہموار زندگی" کا وہ تصور ہے جو حقیقت سے بہت دور ہے۔ یہی تصور انسان کو اس مقام پر لے آتا ہے کہ معمولی سی لغزش بھی اسے شدید ناکامی محسوس ہونے لگتی ہے۔ لیکن جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ زندگی اپنی فطرت میں پیچیدہ اور متنوع ہے اور عسر اس نظام میں کسی خرابی کا نام نہیں بلکہ اس کا فطری حصہ ہے تو اس کے اندر ایک نئی نفسیاتی قوت پیدا ہو جاتی ہے
قرآنی بصیرت یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ زندگی کا ہر درد ختم ہو جائے گا، لیکن وہ انسان کو ایسا فکری زاویہ ضرور عطا کرتی ہے جو اسے مشکلات کے سامنے بکھرنے نہیں دیتا۔ وہ انسان کو یہ یاد دلاتی ہے کہ کسی ایک لمحے کو پورے سفر سے الگ کر کے نہ دیکھا جائے اور کسی سختی کو اس کے اندر پوشیدہ نمو کے امکان سے جدا نہ سمجھا جائے۔
یہیں سے مثبت شعور کا تصور جنم لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان صرف ظاہرِ واقعہ تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے پس منظر کو بھی دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہ یہ سمجھ سکے کہ اصل قدر اس میں نہیں کہ زندگی میں چیلنجز نہ آئیں، بلکہ اس میں ہے کہ انسان ان کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اسے یہ ادراک ہو کہ بعض دروازے اسی وقت کھلتے ہیں جب دوسرے بند ہو جاتے ہیں، اور بعض معنی اسی وقت آشکار ہوتے ہیں جب پرانی تصویریں ٹوٹنے لگتی ہیں۔
آج کے تیز رفتار اور دباؤ سے بھرے دور میں انسان کو محض وقتی ترغیبی جملوں سے زیادہ گہرائی کی ضرورت ہے۔ اسے ایسے فلسفۂ حیات کی ضرورت ہے جو اس کے اندر توازن پیدا کرے، اسے دائمی کمال کے وہم سے آزاد کرے اور اسے یہ صلاحیت دے کہ وہ سختیوں کو تعمیری قوت میں بدل سکے۔
مثبت شعور حقیقت سے فرار کا نام نہیں بلکہ اس کا زیادہ گہرا سامنا ہے۔ یہ عسر کو خوشنما بنا کر پیش کرنے کا عمل نہیں بلکہ اس کے اندر پیدا ہونے والی معنویت کو دریافت کرنے کی کوشش ہے۔ جب انسان اس زاویۂ نظر کو اختیار کر لیتا ہے تو وہ حالات کا محض اسیر نہیں رہتا بلکہ ان کے معنی کی تشکیل میں خود بھی شریک ہو جاتا ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں سختی خطرہ نہیں بلکہ امکان بن جاتی ہے، اور اختتام ایک نئی ابتدا میں تبدیل ہو جاتا ہے۔