واپس
کیا محبت اور کبریائی باہم متصادم ہیں؟ مسیحیت کے تناظر میں

کیا محبت اور کبریائی باہم متصادم ہیں؟ مسیحیت کے تناظر میں

عیسائی علما نے خدا کی محبت اور اس کی عاجزی کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق، باپ نے گناہگار انسانیت کو بچانے کے لیے اپنے الٰہی بیٹے کو قربان کیا اور اسے رومی صلیب پر موت کے حوالے کر دیا۔ لیکن یہاں بظاہر ایک تضاد سامنے آتا ہے: ایک طرف خدا کا خود جھک جانا اور انسانوں کی نجات کے لیے مرنا، اور دوسری طرف اپنی مخلوق سے اپنی عبادت کا مطالبہ کرنا، جو اس کی بلندی اور عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انہوں نے بڑی پیچیدہ اور الجھی ہوئی بحثیں کیں تاکہ خدا کی کبریائی کی حقیقت سے بچ سکیں۔ یہ بات ان کے طرزِ فکر کے مطابق کچھ عجیب بھی نہیں، کیونکہ وہ اپنے عقیدے میں رب کو آسمانوں سے نیچے لاتے ہیں، پھر اسے صلیب پر چڑھاتے ہیں، قبر میں رکھتے ہیں، اور پھر اس کے قبر سے نکلنے پر بحث کرتے ہوئے آخرکار اسے دوبارہ آسمان کی طرف بلند کر دیتے ہیں۔

الشيخ مصطفى الهجري

عیسائی علما نے خدا کی محبت اور اس کی عاجزی کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق، باپ نے گناہگار انسانیت کو بچانے کے لیے اپنے الٰہی بیٹے کو قربان کیا اور اسے رومی صلیب پر موت کے حوالے کر دیا۔ لیکن یہاں بظاہر ایک تضاد سامنے آتا ہے: ایک طرف خدا کا خود جھک جانا اور انسانوں کی نجات کے لیے مرنا، اور دوسری طرف اپنی مخلوق سے اپنی عبادت کا مطالبہ کرنا، جو اس کی بلندی اور عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انہوں نے بڑی پیچیدہ اور الجھی ہوئی بحثیں کیں تاکہ خدا کی کبریائی کی حقیقت سے بچ سکیں۔ یہ بات ان کے طرزِ فکر کے مطابق کچھ عجیب بھی نہیں، کیونکہ وہ اپنے عقیدے میں رب کو آسمانوں سے نیچے لاتے ہیں، پھر اسے صلیب پر چڑھاتے ہیں، قبر میں رکھتے ہیں، اور پھر اس کے قبر سے نکلنے پر بحث کرتے ہوئے آخرکار اسے دوبارہ آسمان کی طرف بلند کر دیتے ہیں۔

جبکہ ایک مسلمان کے لیے اس بات میں کوئی مشکل نہیں کہ وہ ایک طرف اللہ کی اپنی مخلوق سے محبت اور مخلوق کی اس سے محبت کو مانے، اور دوسری طرف اس کی کبریائی اور بزرگی کو بھی تسلیم کرے۔ چنانچہ امام صادقؑ سے روایت ہے:

" إياكم والعظمة والكبر، فإن الكبر رداء الله عز وجل فمن نازع الله رداءه قصمه الله وأذله يوم القيامة". وسائل الشيعة، المجلد 11، أبواب جهاد النفس، باب تحريم الكبر، الحديث 9

تم عظمت اور تکبر سے بچو کیونکہ تکبر اللہ عزوجل کی چادر ہے جو شخص اللہ کی اس چادر میں اس سے مقابلہ کرے گا، اللہ اسے توڑ دے گا اور قیامت کے دن اسے ذلیل کر دے گا۔ (وسائل الشیعہ، جلد 11، ابوابِ جہادِ نفس، باب تحریمِ تکبر، حدیث 9)

پس وہی سبحانہٗ و تعالیٰ حقیقتاً کبریائی والا ہے کیونکہ اسی کے لیے عظمت و جلال ہے اور ہر چیز اسی کی ملکیت ہے۔ وہ سچا محبت کرنے والا بھی ہے، اس لیے کہ اس نے اپنے فضل سے ہمیں اپنی محبت عطا کی حالانکہ ہم اس عظیم نعمت کے لائق نہ تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی میں عادل ہے اور اپنی محبت میں صاحبِ فضل ہے۔

اللہ سبحانہٗ کی کبریائی اور اس کی محبت کے درمیان تضاد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان خدا کو اپنے جیسا سمجھنے لگے۔ جب وہ ایسا کرتا ہے تو پھر کبریائی اور محبت میں ٹکراؤ محسوس ہونے لگتا ہے کیونکہ انسانی دنیا میں جو شخص متکبر ہو وہ سچا محبت کرنے والا نہیں ہوتااور جو واقعی محبت کرنے والا ہو وہ حقیقی معنوں میں متکبر نہیں ہوتا۔

تکبر انسان میں اس لیے بُرا ہے کہ انسان کو اس کا کوئی حق حاصل نہیں نہ کہ اس لیے کہ تکبر اپنی ذات میں ہی کوئی مطلق برائی ہو۔ لوگ اس شخص پر اعتراض کرتے ہیں جو زمین پر اکڑ کر چلتا ہےکیونکہ وہ حقیقت میں دوسروں پر کسی فضیلت کا مالک نہیں وہ بھی مٹی سے پیدا ہوا ہے اور مٹی ہی میں لوٹنے والا ہے۔ اس کے برعکس ربوبیت کا مقام وہ ہے جس میں تمام کمالات جمع ہوں اور وہ انسان کے لیے ممکن نہیں۔

ہمارا اللہ کی کبریائی کو جاننا ہمیں اس پر اعتماد اور بھروسہ دیتا ہیں اور ہمیں کمزوری اور طاقت، فقر اور دولت کے درمیان حد کو سمجھنے کی آگاہی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ) الحشر: 23

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی بادشاہ ہے، نہایت پاکیزہ، سلامتی دینے والا، امان دینے والا، نگہبان، بڑا غالب آنے والا، بڑی طاقت والا، کبریائی کا مالک، پاک ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

اللہ ایک ہی وقت میں سلامتی دینے والا اور کبریائی والا ہےاور اس کی سلامتی اس کی کبریائی کے ساتھ متصادم نہیں ہے۔ سلامتی اور کبریائی دونوں اس کی کمال کی علامات ہیں اور اسی کمال میں مؤمن اپنی راحت، امید اور سکون پاتا ہے۔ کبریائی اور سلامتی کے درمیان تضاد صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ خصوصیات انسانوں میں ظاہر کی جائیں۔

ہم خالق کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں جان سکتے جب تک ہم اس کا مقام نہ سمجھیں اور ہم اس کا مقام اس وقت تک نہیں جان سکتے جب تک ہم عقل و شعور کے ساتھ بندے اور خالق کے درمیان فرق کو نہ پہچانیں۔ یہ شعور اس وقت تک ہمارے ذہنوں میں مستحکم نہیں ہوگا جب تک ہم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم خود کچھ بھی نہیں بلکہ اللہ کی عظیم قدرت کے سبب ہی وجود میں آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ وہ سبحانہٗ ہی ہے جس کے ہاتھ میں ساری قدرت ہےاور ہمارے پاس نہ طاقت ہے نہ اختیار ہے۔ اگر حقیقت یہی ہے تو ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ کبریائی صرف اسی کی ہے کیونکہ عظمت اسی کی ہے اور انسانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کے سامنے عاجزی اور اطاعت اختیار کریں کیونکہ یہ ان کا مقام ہے جو ان کے لیے موزوں ہے اور یہی ان کی اصل  حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔


شیئر: