الشيخ مصطفى الهجري
جوانی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جس میں آرزوئیں عروج پر ہوتی ہیں اور مستقبل کے افق وسیع سے وسیع تر ہوتے دکھائی دیتے ہیں ایسے میں چیلنجوں سے بھری اس دنیا میں کامیابی کا سفر طے کرنے کے لئے انسان کو غیر معمولی صلاحیتوں سے زیادہ ایک ایسے داخلی قطب نما کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے صحیح سمت کی جانب رہنمائی کرے ، اس کے علاوہ اسے ایک ایسے پختہ عزم کی ضرورت ہے کہ جو اسے مایوسی کے طوفانوں سے محفوظ رکھے۔ قرآنِ کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات نے ہمارے سامنے ایک متوازن شخصیت کی تعمیر کا واضح راستہ پیش کیا ہے۔ایک ایسی شخصیت جو رکاوٹوں کو ترقی کی سیڑھیوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ان تعلیمات نے عمل، اخلاص اور صالح ماحول کو حقیقی کامیابی کا ایسا بنیادی ستون قرار دیا ہے جس کے بغیر حقیقی کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔
جستجو کی عظمت اور محنت، فطری ذہانت سے زیادہ اہم ہے ۔
بہت سے نوجوان فطری ذہانت کے سراب میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ تخلیقی صلاحیتیں اور بڑی کامیابیاں پہلے ہی سے چند ایسے مخصوص افراد کے لیے مختص ہیں جو غیر معمولی ذہانت کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ حالانکہ الٰہی تعلیمات اس تصور کی نفی کرتی ہیں اور یہ واضح کرتی ہیں کہ فضیلت اور کامیابی کا حقیقی معیار محنت اور سعی و کوشش پر ہے۔ یعنی آسمان سے کامیابیاں نہیں برستیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کوششوں کو برکت عطا کرتا ہے جو مسلسل محنت کرتے اور اپنی منزل کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ یہی حقیقت قرآنِ کریم کی اس آیت میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے:
(وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ) اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی، اور یہ کہ اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی۔)سورۂ نجم، آیات 39-40(
مسلسل محنت کے قطرے ناممکنات کی چٹان کو بھی شگاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام نے انسان کی قدر و منزلت متعین کرنے کا ایک سنہری اصول بیان فرمایا ہے:(قَدْرُ الرَّجُلِ عَلَى قَدْرِ هِمَّتِهِ) انسان کی قدر و منزلت اس کے عزم و ہمت کے مطابق ہوتی ہے۔(نہج البلاغہ حکمت ، 47)
قابلِ تأمل بات یہ ہے کہ انسانی تجربات اور سائنسی تحقیقات بھی اسی قرآنی حقیقت کی تائید کرتی ہیں۔ چنانچہ علمِ اعصاب کے معروف سائنس دان سانتیاگو رامون ای کاخال ، نوجوان محققین کو اپنی نصیحتوں میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مستقل مزاجی اور یکسوئی اکثر فطری صلاحیتوں پر سبقت لے جاتی ہیں۔ ان کے بقول: ’’ہر وہ انسان جس میں کافی قوتِ ارادی موجودہو، تووہ اپنے دماغ میں موجود کامیابی کے تصور کا مجسمہ تراشنے والا بن سکتا ہے۔‘‘ (کتاب: ایک نوجوان محقق کے نام نصیحتیں، سانتیاگو رامون ای کاخال)
کاخال اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ عظیم سائنسی دریافتیں غیر معمولی ذہانت رکھنے والوں ہی کے لیے مخصوص نہیں ہوتیں، بلکہ ان کے ثمرات وہ لوگ سمیٹتے ہیں جو صبر، محنت اور مسلسل جدوجہد کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔
شہرت کا سراب: مایوسی اور نفسیاتی شکست کی جڑیں
اپنی صلاحیتوں کو منوانے اور خود کو ثابت کرنے کی راہ میں نوجوان کبھی کبھی انتشارِ فکر، غرور اور شہرت کے حصول کی اندھی دوڑ کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ایسے میں جو نوجوان اپنی قدر و قیمت کو فوری داد و تحسین یا دوسروں کی جانب سے ملنے والی فوری پذیرائی سے وابستہ کر لیتا ہے، وہ گویا اپنی بلند آرزوؤں کی بنیاد متحرک ریت پر رکھتا ہے۔ چنانچہ جب اسے پہلی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا کسی تجربے میں ناکامی ہوتی ہے تو وہ جلد ہی نفسیاتی طور پر شکست کھا بیٹھتا ہے۔
قرآنِ کریم نے اس اخلاقی آفت کا علاج انسان کے مقصدِ عمل کو رضائے الٰہی سے وابستہ کرکے اور زمین میں برتری جتانے کی خواہش سے اپنے نفس کو محفوظ رکھنے میں قرار دیا ہے: (تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ۔) ’’یہ آخرت کا گھر ہے، جسے ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کرتے ہیں جو زمین پر نہ برتری چاہتے ہیں اور نہ فساد، اور اچھا انجام پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے‘‘ (سورۂ قصص، آیت 83)
جب نوجوان شہرت کی طلب سے خود کو آزاد کر لیتا ہے تو اس کے اندر ایک غیر معمولی نفسیاتی مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام اس استقامت کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: (إِنَّ الْحُرَّ حُرٌّ عَلَى جَمِيعِ أَحْوَالِهِ، إِنْ نَابَتْهُ نَائِبَةٌ صَبَرَ لَهَا، وَإِنْ تَدَاكَّتْ عَلَيْهِ الْمَصَائِبُ لَمْ تَكْسِرْهُ۔)
’’آزاد انسان ہر حال میں آزاد ہی رہتا ہے۔ اگر اس پر کوئی مصیبت آ پڑے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے، اور اگر مصیبتیں پے در پے اس پر ٹوٹ پڑیں تو بھی اسے توڑ نہیں سکتیں۔‘‘ (مسند الإمام الصادق أبي عبد الله جعفر بن محمد، جلد 21، صفحہ 470)
اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام غرور اور خود پسندی سے پیدا ہونے والی اخلاقی کمزوری سے خبردار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (لَا يَكُونُ الْعَبْدُ عَالِمًا حَتَّى لَا يَحْسُدَ مَنْ فَوْقَهُ، وَلَا يَحْقِرَ مَنْ دُونَهُ۔)
انسان اس وقت تک حقیقی طور پر صاحبِ علم نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے سے برتر شخص سے حسد کرنا ترک نہ کرے اور اپنے سے کم تر کو حقیر سمجھنا نہ چھوڑ دے ۔ (مسند الإمام علي، جلد 10، صفحہ 248)
سازگار ماحول: عزم و ارادے کی مضبوط ڈھال
عزم و ہمت کی اس توانا روح کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جو نوجوان کو مایوسی اور تخریبی اثرات سے محفوظ رکھے۔ انسان اپنے اردگرد موجود لوگوں سے متاثر ہوتا ہے، اور مایوس کن سوچ رکھنے والوں یا سطحی ذہنیت کے حامل افراد کی صحبت نوجوان کی توانائی کو نچوڑ لیتی ہے اور اس کے اندر روشن امیدوں کے چراغ بجھا دیتی ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم کی عظیم ہدایت اس بات پر زور دیتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو ایسے حوصلہ افزا اور معاون ماحول میں رکھے جو اسے اس کے بلند مقاصد یاد دلاتا رہے اور اس کے عزم و ارادے کو تقویت بخشے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا۔) ’’اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جمائے رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں، اور دنیاوی زندگی کی زینت کے طلب گار ہو کر ان سے اپنی نگاہیں نہ پھیرو‘‘ (سورۂ کہف، آیت 28)
نیک صحبت اور معاون ماحول کی اسی اہمیت کی طرف امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ان جامع اور معنی خیز کلمات میں اشارہ فرمایا ہے: (جَلِيسُ الْخَيْرِ نِعْمَةٌ۔) نیک ساتھی ایک نعمت ہے۔(میزان الحکمہ، جلد 2، صفحہ 63)
حوصلہ دینے والا دوست اور مخلص ساتھی وہ سہارا ہے جس پر نوجوان اس وقت بھروسا کر سکتا ہے جب اس کی قوتیں جواب دینے لگیں۔ یہی لوگ اس آئینے کی مانند ہوتے ہیں، جو راہ طلب نگاہوں سے اوجھل ہو جانے پر اسے دوبارہ درست سمت دکھاتے ہیں۔ جب نوجوان مسلسل اور انتھک جدوجہد، غرور سے پاک خالص نیت اور آگے بڑھنے کی ترغیب دینے والے نیک ماحول کو اپنا سرمایہ بنا لیتا ہے تو وہ ایسی عظمت کی بنیاد رکھتا ہے جسے مایوسی کی آندھیاں متزلزل نہیں کر سکتیں، اور ایسا دیرپا نقش چھوڑتا ہے جسے زمانے کی گردشیں بھی مٹا نہیں سکتیں۔