واپس

ملازمت سے فراغت: غفلت سے نکلنے اور دن خوبصورت کرنے کے طریقے

الشيخ مصطفى الهجري

انسان اپنی زندگی کے مختلف مراحل اور سماجی و پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران ایک ایسی حقیقت کا سامنا کرتا ہے جس سے انکار ممکن نہیں اور وہ یہ ہے کہ زندگی محدود وقت کا نام ہے، جس کے لمحات مسلسل گزرتے رہتے ہیں اور دوبارہ واپس نہیں آتے۔ وقت کی پابندی اور اس کا درست استعمال کسی خاص طبقے یا پیشے تک محدود نہیں بلکہ یہی انسان کی خاندانی زندگی، کام، ذاتی ترقی اور روحانی تربیت میں کامیابی کی بنیادی کنجی ہے۔

روزانہ کا کرشمہ اور وقت سے مکمل انصاف:

شاید زندگی کے سب سے بڑے تضادات میں سے ایک یہ ہے کہ دولت، عہدوں اور صلاحیتوں میں لوگوں کے درمیان بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے لیکن وقت کی دولت میں سب برابر ہیں۔ آرنلڈ بینیٹ اس حقیقت کو بڑے خوب صورت انداز میں بیان کرتے ہیں: ’’ہمیں وقت کا ملنا واقعی روزانہ کا ایک معجزہ ہے۔ آپ صبح بیدار ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آپ کی جھولی میں جادوئی طور پر زندگی کے چوبیس گھنٹے بھر دیے گئے ہیں۔ یہ وقت مکمل طور پر آپ کا ہے، نہ کوئی اسے آپ سے چھین سکتا ہے اور نہ ہی آپ آج ضائع کیے ہوئے وقت کی تلافی کے لیے کل سے وقت ادھار لے سکتے ہیں۔‘‘(کتاب: ایک دن کے چوبیس گھنٹے کیسے گزاریں، آرنلڈ بینیٹ)

 وقت کی یہ اٹل حقیقت امیر و غریب، ملازم اور گھر کے سربراہ، سب پر یکساں لاگو ہوتی ہے اور اس کی سب سے نمایاں مثال اللہ تعالیٰ کی اس قسم میں نظر آتی ہے:

وَالْعَصْرِ ﴿۱﴾ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ﴿۲﴾ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ﴿۳﴾

۱۔ قسم ہے زمانے کی۔ ۲۔ انسان یقینا خسارے میں ہے ۔ ۳۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اور جو ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے ہیں اور صبر کی تلقین کرتے ہیں۔

یہاں وقت محض کام کرنے کا ایک ذریعہ نہیں بلکہ ایسا سرمایہ ہے جو مسلسل کم ہوتا رہتا ہے۔ جو شخص اسے مفید کاموں میں صرف کیے بغیر ضائع ہونے دیتا ہے، اسے صرف نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب ؑ اپنے اس قول میں اسی حقیقت کو بیدار کرنے والے انداز میں بیان کرتے ہیں: (إن ماضي يومك منتقل، وبانيه (وباقيه) متهم، فاغتنم وقتك بالعمل)

بے شک، تمہارے دن کا جو حصہ گزر چکا ہے، وہ گزر گیا، اور اس کا جو حصہ باقی ہے، اس کے بارے میں بھی یقین نہیں؛ لہٰذا اپنے موجودہ وقت کو نیک اعمال انجام دے کر غنیمت جانو۔

حضرت علیؑ کا فرمان ہے: (إن الليل والنهار يعملان فيك فاعمل فيهما، ويأخذان منك فخذ منهما) (غرر الحكم: 3461، 3705)

رات اور دن تم پر اپنا اثر ڈالتے رہتے ہیں، لہٰذا تم بھی ان میں عمل کرو؛ وہ تمہاری عمر گھٹاتے ہیں، لہٰذا تم بھی ان سے اپنا حصہ حاصل کرو۔

امام علیؑ فرماتے ہیں: (ما أسرع الساعات في اليوم، وأسرع الأيام في الشهر، وأسرع الشهور في السنة، وأسرع السنين [السنة] في العمر) (نهج البلاغة: الخطبة 188)

دن کے گھنٹے کتنی تیزی سے گزرتے ہیں، مہینے کے دن کتنی تیزی سے بیتتے ہیں، سال کے مہینے کتنی تیزی سے گزر جاتے ہیں اور عمر میں سال کتنی تیزی سے ختم ہوتے چلے جاتے ہیں!

وقت کے لمحات ضائع کرنا صرف بیرونی مواقع کا نقصان نہیں بلکہ خود انسان کی ذات کو ضائع کرنے اور اپنی حقیقت سے دور ہونے کے مترادف ہے۔

کام ہی زندگی ہے کے غلط تصور کا خاتمہ:

ہماری توانائی کو ختم کرنے والی بڑی آفتوں میں سے ایک روزمرہ کے معمولات میں پوری طرح ڈوب جانا اور ملازمت ہی کو پوری زندگی سمجھ لینا ہے خواہ وہ دفتر کا کام ہو، دکان داری ہو یا روزانہ کی کوئی اور ذمہ داری۔ آرنلڈ بینیٹ سوال کرتے ہیں کہ :ہم میں سے کون حقیقت میں دن کے چوبیس گھنٹے جیتا ہے؟ اور جب میں جینے کی بات کرتا ہوں تو میرا مطلب صرف زندہ رہنا یا زندگی کو بے مقصد گزارنا نہیں ہے۔وہ ملازمت کی تھکن کو بھی چیلنج کرتے ہیں جسے ہم اپنی ذاتی ترقی نہ کر پانے کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:شام چھ بجے حقیقت کا سامنا کرو اور ہمت کے ساتھ تسلیم کرو کہ تم اتنے تھکے ہوئے نہیں ہو جتنا خود کو سمجھتے ہو۔ اپنے دن کے سولہ گھنٹے صرف آٹھ گھنٹے کی ملازمت کی تیاری میں گزار دینا اپنے آپ کے ساتھ زیادتی ہے۔(کتاب: ایک دن کے چوبیس گھنٹے کیسے گزاریں، آرنلڈ بینیٹ)

فارغ وقت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا یہ جامع تصور قرآنِ مجید کی اس تاکیدی ہدایت میں نمایاں طور پر ملتا ہے: فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ﴿۷﴾ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَبْ ﴿۸﴾(سورہ الشرح) ۷۔ لہٰذا جب آپ فارغ ہو جائیں تو نصب کریں، ۸۔ اور اپنے رب کی طرف راغب ہو جائیں۔

قرآنِ مجید بے عملی اور سستی سے کام لینے کو پسند نہیں کرتا بلکہ اس کی تعلیم یہ ہے کہ روزی کمانے اور دنیاوی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد فوراً ایسے کاموں میں لگ جانا چاہیے جو روح، عقل اور خاندانی زندگی کو بہتر بنائیں۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے انسان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے دن کے اوقات کو منظم کرنے کا اصول بیان فرمایا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: اجْتَهِدُوا فِي أَنْ يَكُونَ زَمَانُكُمْ أَرْبَعَ سَاعَاتٍ: سَاعَةً لِمُنَاجَاةِ اللهِ، وَسَاعَةً لِأَمْرِ الْمَعَاشِ، وَسَاعَةً لِمُعَاشَرَةِ الْإِخْوَانِ وَالثِّقَاتِ... وَسَاعَةً تَخْلُونَ فِيهَا لِلَذَّاتِكُمْ فِي غَيْرِ مُحَرَّمٍ (ميزان الحكمة: ص1111)

کوشش کرو کہ تمہارا وقت چار حصوں میں تقسیم ہو: ایک حصہ اللہ تعالیٰ سے مناجات اور راز و نیاز کے لیے، ایک حصہ روزی کمانے اور معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے، ایک حصہ بھائیوں اور قابلِ اعتماد لوگوں کے ساتھ میل جول کے لیےاور ایک حصہ اپنی جائز خوشیوں اور لذتوں کے لیے، بشرطیکہ وہ حرام نہ ہوں۔ یہی متوازن طرزِ زندگی اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مادی ضروریات، روحانی اور سماجی زندگی پر حاوی نہ ہوں۔

استقامت کی طاقت اور بے مقصد تبدیلیوں سے بچنا ۔

جب انسان اپنی گزری ہوئی زندگی کی کمی پوری کرنے کے لیے روزمرہ کے معمولات بدلنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اکثر ضرورت سے زیادہ جوش میں آکر سب کچھ ایک ہی بار بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح وہ خود کو تھکا دیتا ہے اور پھر دوبارہ پرانی حالت میں لوٹ جاتا ہے۔ آرنلڈ بینیٹ اس نفسیاتی غلطی سے خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’بڑی ناکامی سے کچھ حاصل نہیں ہوتاجبکہ چھوٹی چھوٹی کامیابیاں مسلسل حاصل کرتے رہنا بڑی کامیابی کا سبب بن سکتا ہے۔‘‘وہ ایک مشہور اصول پیش کرتے ہیں کہ خود کو بہتر بنانے کے لیے ہفتے میں صرف تین راتیں، ہر رات نوے منٹ مختص کیے جائیں اور اسی سے ایک سنجیدہ منصوبے کا آغاز کیا جائے، بجائے اس کے کہ ایسے نظام الاوقات بنائے جائیں جن پر عمل کرنا ممکن ہی نہ ہو۔

یہ عملی طریقۂ کار انسان کی نفسیات اور اس کی توانائی کو مدِنظر رکھتا ہے اور نیک عادات پیدا کرنے کے اسلامی فلسفے سے حیرت انگیز طور پر مطابقت رکھتا ہے، خواہ ان عادات کا تعلق مطالعے سے ہو، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک سے ہو یا رضاکارانہ خدمت سے ہو۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: (قَلِيلٌ تَدُومُ عَلَيْهِ، أَرْجَى مِنْ كَثِيرٍ مَمْلُولٍ مِنْهُ) تھوڑا سا عمل جس پر تم پابندی سے قائم رہو، اس زیادہ عمل سے بہتر ہے جس سے تم اکتا جاؤ۔

امام محمد باقر علیہ السلام بھی اپنے اس فرمان کے ذریعے عمل میں پابندی اور تسلسل کی اہمیت پر زور دیتے ہیں: (أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دَامَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ قَلَّ)اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر بندہ ہمیشہ پابندی سے عمل کرتا رہے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

مسلسل کی جانے والی کوشش، چاہے ابتدا میں کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، وقت گزرنے کے ساتھ انسان کی شخصیت کو متوازن اور مضبوط بناتی ہے۔

تربیت ذہنی اور سخت محاسبۂ نفس:

وقت کو درست انداز میں استعمال کرنے کا عمل اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب انسان ذہنی طور پر بیدار رہے اور مسلسل اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت نے فکری تربیت اور محاسبۂ نفس کو انسان کی مادی اور روحانی زندگی میں سے ہر ایک میں درست راستے پر قائم رہنے کے لیے ایک بنیادی اصول قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ روزانہ اپنے اعمال اور مقاصد کا جائزہ لے اور دیکھے کہ اس نے کیا حاصل کیا ہے اور آگے کیا کرنا ہے:

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ) (سورہ حشر۱۸) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (روز قیامت) کے لیے کیا بھیجا ہے

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بھی زندگی کے معیار اور اس کی درست سمت کو روزانہ محاسبۂ نفس سے جوڑتے ہیں: (لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُحَاسِبْ نَفْسَهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ، فَإِنْ عَمِلَ حَسَناً اسْتَزَادَ اللَّهَ، وَإِنْ عَمِلَ سَيِّئاً اسْتَغْفَرَ اللَّهَ) وہ ہم میں سے نہیں جو ہر روز اپنا محاسبہ نہ کرے۔ اگر اس نے نیک عمل کیا ہو تو اللہ تعالیٰ سے مزید توفیق طلب کرے، اور اگر برا عمل کیا ہو تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے۔

ہمارے لیے دستیاب ان اوقات سے فائدہ اٹھانا محض کارکردگی بڑھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیا میں انسان کے بامقصد کردار اور دیرپا اثرات کی بنیاد ہے۔ جب وقت کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت سمجھنے کا احساس، عادات کی اصلاح اور اپنی زندگی کو منظم کرنے کے عملی طریقوں کے ساتھ مل جاتا ہے تو وقت ایک ایسے دریا کے بجائے جو ہمیں تیزی سے انجام کی طرف لے جا رہا ہو، ایک ایسے کھیت میں بدل جاتا ہے جس میں ہم اپنے حال اور مستقبل کے لیے فائدہ مند فصل اگا سکتے ہیں۔ اس طرح جسم اور روح، کام اور خاندان کی ضروریات کے درمیان حقیقی توازن قائم ہوتا ہے۔

شیئر: