واپس

کیا نظریۂ ارتقاء ایمان کو منہدم کر دیتا ہے؟ سائنس اور مذہب کے درمیان فرضی تصادم کا تجزیاتی جائزہ

شیخ مصطفیٰ الہجری

یہ جاننے کے لیے کہ آیا جدید سائنسی نظریات اور مذہب کی بنیادی تعلیمات کے درمیان واقعی کوئی تضاد یا تصادم پایا جاتا ہے، ضروری ہے کہ سب سے پہلے لفظ ارتقاء کے مفہوم اور اس کے مختلف پہلوؤں کا تجزیاتی جائزہ لیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتقاء محض کوئی ایک سائنسی یا فلسفیانہ نظریہ نہیں جسے یکسر قبول یا مسترد کر دیا جائے، بلکہ یہ پانچ بنیادی تصورات کا مجموعہ ہے

۱۔ زمین کی قدامت: اس سے مراد یہ نظریہ ہے کہ ہماری زمین کا وجود تقریباً ساڑھے چار ارب سال قدیم ہے۔

۲۔ تدریجی ارتقا اور پیش رفت: اس تصور کے مطابق حیات کا آغاز نہایت سادہ اور یک خلوی جانداروں سے ہوا۔ بعد ازاں زندگی نے بتدریج ارتقائی مراحل طے کیے اور اس کے نتیجے میں زیادہ پیچیدہ انواع وجود میں آئیں، مثلاً مچھلیاں، رینگنے والے جانور، ممالیہ اور بالآخر انسان۔

۳۔ وراثتی تسلسل اور تغیر: اس نظریے کے مطابق جانداروں میں پائے جانے والے بے پناہ تنوع کا سبب یہ ہے کہ جاندار اپنی صفات والدین سے اگلی نسلوں میں منتقل کرتے ہیں۔ تاہم، اس انتقال کے دوران معمولی تغیرات اور تبدیلیاں بھی رونما ہوتی رہتی ہیں، جو نسل در نسل جمع ہو کر نمایاں اختلافات اور نئی خصوصیات کو جنم دیتی ہیں۔

۴۔ مشترک سلف: اس تصور کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ آج کرۂ ارض پر موجود تمام جاندار ایک ہی حیاتیاتی شجرۂ نسب سے تعلق رکھتے ہیں، جس کی جڑیں زمین پر حیات کے ابتدائی ظہور تک پہنچتی ہیں۔

۵۔ ڈارون کا نظریہ اور قدرتی انتخاب

یہ وہ طریقۂ کار ہے جو اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ارتقاء کا عمل کیسے وقوع پذیر ہوا؟

اس نظریے کے مطابق جینیاتی سطح پر اتفاقی تغیرات رونما ہوتے ہیں۔ پھر قدرتی انتخاب کے عمل کے ذریعے وہ تغیرات اور خصوصیات برقرار رہنے کے زیادہ امکانات حاصل کر لیتی ہیں جو کسی جاندار کے لیے بقا، ماحول سے مطابقت اور نسل آگے بڑھانے میں زیادہ معاون ثابت ہوں۔

حقیقی تصادم کہاں پایا جاتا ہے؟

اگر ہم ارتقاء کے پہلے چار تصورات، یعنی زمین کی قدامت، تدریجی ارتقاء، نسلی تسلسل اور مشترک سلف، پر غور کریں تو اسلامی عقیدے اور توحید کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ ان کا کوئی حقیقی اور جوہری تضاد دکھائی نہیں دیتا۔ اصل اختلاف صرف ان سخت گیر لفظی تعبیرات سے پیدا ہوتا ہے جنہیں بعض بنیاد پرست مذہبی گروہوں نے اختیار کر رکھا ہے۔ ان تعبیرات کے مطابق کائنات کی عمر محض چند ہزار سال تک محدود ہے۔ اس کے برعکس، قرآنی نقطۂ نظر کائنات کی عمر کو کسی مختصر مدت تک محدود نہیں کرتا، بلکہ زمانے کی وسعتوں اور تخلیق کے مختلف مراحل کو سمجھنے کے لیے وسیع امکانات فراہم کرتا ہے۔

اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سمجھنے کا انداز ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

(إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا ۖ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ) (سورۂ اعراف، آیت ۵۴)

تمہارا رب یقینا وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر متمکن ہوا، وہ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے جو اس کے پیچھے دوڑتی چلی آتی ہے اور سورج اور چاند اور ستارے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ آگاہ رہو! آفرینش اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے، بڑا بابرکت ہے اللہ جو عالمین کا رب ہے۔

معتبر تفاسیر میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہاں بیان کردہ چھ دن سے مراد ہمارے معمول کے چوبیس گھنٹوں والے شمسی دن نہیں، بلکہ تخلیق کے مختلف ادوار اور طویل مراحل ہیں۔ ایک صاحبِ ایمان کے بنیادی عقیدے کی اساس اس حقیقت پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک بامقصد ارادے اور حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس کی مشیت یہ تھی کہ انسان ایک باشعور، صاحبِ عقل اور مکلف مخلوق کی حیثیت سے وجود میں آئے، جو اپنے خالق کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

(اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا) (سورۂ طلاق، آیت ۱۲) وہی اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور انہی کی طرح زمین بھی، اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ نے بلحاظ علم ہر چیز پر احاطہ کیا ہوا ہے۔

پس اللہ تعالیٰ کا یہ حکیمانہ اور بامقصد ارادہ تخلیق کے کسی بھی ایسے طریقۂ کار سے پوری طرح ہم آہنگ ہے جسے اللہ نے اپنی مشیت کے تحت اختیار فرمایا ہو؛ خواہ اس نے انسان کو یکبارگی پیدا کیا ہو یا تخلیق کے ایک طویل، تدریجی اور منظم ارتقائی عمل کے ذریعے اسے وجود بخشا ہو۔

اتفاقیت کا مغالطہ: سائنس کو فلسفیانہ تعبیر کے تابع کرنے کی کوشش

یہاں ایک بنیادی سوال ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے: پانچویں تصور، یعنی جینیاتی تغیرات کے اتفاقی ہونے اور قدرتی انتخاب کے بارے میں کیا کہا جائے؟ کیا لفظ اتفاقی کا مطلب یہ نہیں کہ خالق کا کوئی کردار نہیں اور محض اندھا اتفاق کارفرما ہے؟ درحقیقت، یہی وہ مقام ہے جہاں لفظی مغالطہ جنم لیتا ہے۔ ماہرینِ حیاتیات کی سائنسی اصطلاح میں اتفاقی ہونے کا مطلب فلسفیانہ اعتبار سے بے مقصد یا بے حکمت ہونا نہیں، بلکہ اس سے صرف یہ مراد ہے کہ جینیاتی تغیر کسی جاندار کی ماحول میں موجود ضرورت کے براہِ راست اور فوری ردِعمل کے طور پر رونما نہیں ہوتا۔ اسی طرح کوئی ایسا قطعی طبعی قانون بھی موجود نہیں جو لازماً کسی مخصوص مفید تغیر کے وقوع پذیر ہونے کو یقینی بناتا ہو۔

اتفاقیت کا یہ خالص سائنسی مفہوم کسی بھی طرح دینی ایمان سے متصادم نہیں؛ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ان جینیاتی تغیرات کو اپنی مشیت کے مطابق سمت عطا فرمائے اور اپنی پوشیدہ، مگر نہایت دقیق حکمت و تدبیر کے تحت ان کے وقوع پذیر ہونے کے اوقات کا تعین کرے، تاکہ ان کے ذریعے حیات کے ظہور اور ارتقاء کا عمل آگے بڑھے۔

لہٰذا، اصل تصادم تجرباتی سائنس سے نہیں، بلکہ اس فلسفیانہ دعوے سے ہے جسے زبردستی اس نظریے کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ کہ ارتقاء کا پورا سفر ایک اندھا، بے سمت اور غیر ارادی عمل ہے، جس کے پسِ پردہ کسی خالق کا کوئی ارادہ، مقصد یا تدبیر کارفرما نہیں۔

رچرڈ ڈاکنز: الحاد کے پیمانے پر سائنس کی تعبیر

اس فلسفیانہ خلطِ مبحث کو سب سے زیادہ فروغ دینے والوں میں ملحد مصنف اور ماہرِ حیاتیات رچرڈ ڈاکنز کا نام نمایاں ہے۔ وہ اپنی معروف کتاب اندھا گھڑی ساز میں فطرت کے نظام کو ایک گھڑی ساز سے تشبیہ دیتا ہے، لیکن اس کے نزدیک یہ گھڑی ساز اندھا ہے؛ یعنی نہ اس کے پاس عقل و شعور ہے، نہ بصیرت اور نہ ہی کوئی منصوبہ بندی۔ وہ صراحت کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ارتقاء کے شواہد ایک ایسی کائنات کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں نہ کوئی نقشہ بندی ہے اور نہ ہی کوئی مقصد۔

اگر ہم ارتقاء کی پوری تاریخ کو ایک عظیم الشان دائرۃ المعارف میں محفوظ تصور کریں اور اس کا نام ’’حیات کی لائبریری‘‘ رکھ دیں، جس میں پہلے خلیے سے لے کر انسان کی تشکیل تک رونما ہونے والے ہر جینیاتی تغیر کی تفصیلات درج ہوں، تو سائنس کی یہ لائبریری ایک سطر بھی ایسی پیش نہیں کر سکے گی جو اس بات کو ثابت کرے کہ اللہ تعالیٰ ان تغیرات کی رہنمائی نہیں فرما رہا تھا۔سائنس ہمیں تخلیق کے طریقۂ کار سے آگاہ کرتی ہے، لیکن وہ اس بات کی نفی کرنے سے عاجز ہے کہ اس طریقۂ کار کے پسِ پردہ کوئی رہنما اور مدبر بھی موجود ہے۔

تاہم، ڈاکنز سائنسی شواہد کی حدود سے آگے بڑھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ قدرتی انتخاب کا اتفاقی عمل تنہا ہی انسانی آنکھ جیسے نہایت پیچیدہ اعضا کو وجود میں لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جو لوگ اس بات کو ناممکن سمجھتے ہیں کہ انسانی آنکھ محض اتفاق سے وجود میں آ سکتی ہے، ان کے جواب میں ڈاکنز حیاتیاتی امکان کی وسعت کا تصور پیش کرتا ہے اور چند سوالات اٹھاتا ہے۔ کیا حیاتیاتی اعتبار سے ممکن ایسا کوئی مسلسل اور مرحلہ وار راستہ موجود ہے جو ایک ایسے جاندار سے، جس کے پاس آنکھ سرے سے موجود نہ ہو، ایک ایسے جاندار تک پہنچتا ہو جس کے پاس انسانی آنکھ جیسا پیچیدہ عضو موجود ہو؟

کیا اس پورے ارتقائی سفر کا ہر مرحلہ کسی اتفاقی جینیاتی تغیر کے نتیجے میں وقوع پذیر ہو سکتا ہے؟

کیا اس سفر کا ہر معمولی تغیر جاندار کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، تاکہ وہ اسے زندہ رہنے میں مدد دے اور فطرت اسے برقرار رکھے؟

ڈاکنز خود ہی ان سوالات کا جواب پورے اعتماد کے ساتھ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ میرا احساس یہ ہے کہ اگر ارتقاء کے مختلف مراحل کے درمیان فرق اتنا معمولی ہو کہ وہ ایک دوسرے سے بہت قریب ہوں، تو ضروری جینیاتی تغیرات کا رونما ہونا تقریباً یقینی ہو جاتا ہے۔

الحادی استدلال کا بطلان:

جب ہم ڈاکنز کے استدلال کو سائنسی منطق کے درست معیار پر پرکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی دلیل دو بنیادی ستونوں میں ایسی مہلک دراڑوں کا شکار ہے جو اس کی پوری عمارت کو منہدم کر دیتی ہیں۔

اوّل: ریاضیاتی حساب و کتاب کی جگہ محض احساسات کو دے دینا

تجرباتی سائنس محض تمناؤں اور قیاس آرائیوں پر استوار نہیں ہوتی۔ ڈاکنز نے نہ تو کوئی ایسا ریاضیاتی احتمالی حساب پیش کیا ہے اور نہ ہی کوئی دقیق حیاتیاتی نمونہ فراہم کیا ہے جو یہ ثابت کر سکے کہ ارتقاء کے یہ مسلسل مراحل عملاً کسی مداخلت یا رہنمائی کے بغیر وقوع پذیر ہو سکتے ہیں۔ اس نے اپنا پورا استدلال محض اس جملے پر قائم کیا ہے کہ ’’میرا احساس یہ ہے ۔۔‘‘اس کے برعکس، ممتاز ماہرینِ حیاتیات میں سے بعض، مثلاً مائیکل بیہی، اپنے نظریۂ ناقابلِ تقسیم پیچیدگی کے ذریعے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بہت سے پیچیدہ حیاتیاتی نظام، مثلاً خلیے کے اندر کام کرنے والے پیچیدہ سالماتی نظام اور خون جمنے کا نظام، ایسے نہیں ہیں کہ انہیں ارتقاء کے چھوٹے چھوٹے اتفاقی مراحل میں تقسیم کر دیا جائے اور ان میں سے ہر مرحلہ الگ سے بھی کوئی فائدہ فراہم کرتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکنز نے ارتقاء کے اس مفروضہ راستے کو فرض تو کر لیا ہے، لیکن اسے سائنسی طور پر ثابت نہیں کیا۔

دوم: امکان سے حقیقت تک ایک غیر منطقی چھلانگ

فرض کیجیے کہ بحث کی حد تک ڈاکنز یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ آنکھ کا ارتقاء بغیر کسی رہنمائی کے نظریاتی طور پر ممکن ہے اور اس کے وقوع پذیر ہونے کا امکان فلکیاتی اعتبار سے بھی ناممکن نہیں۔ تو کیا کسی چیز کے نظریاتی طور پر ممکن ہونے کا ثبوت اس بات کو بھی ثابت کر دیتا ہے کہ وہ حقیقت میں اسی بے مقصد طریقے سے وقوع پذیر ہوئی تھی؟ اور کیا کسی طریقۂ کار کا ممکن ہونا اس کے پیچھے موجود کسی خالق اور مدبر کی نفی کر دیتا ہے؟

اس استدلال کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ملازم اپنی بیوی سے کہے کہ اگلے سال میری تنخواہ میں پچاس ہزار ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا۔ جب بیوی اس سے اس دعوے کی قطعی دلیل طلب کرے تو وہ جواب دے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاضیاتی اعتبار سے میری تنخواہ میں اتنا اضافہ ہونا ناممکن نہیں ہے۔یہ کس قدر کمزور استدلال ہے! محض کسی واقعے کا نظریاتی طور پر ممکن ہونا اس بات کے لیے کافی نہیں کہ اسے ایک بالفعل وقوع پذیر حقیقت تسلیم کر لیا جائے، اور نہ ہی اس سے ان حقیقی اسباب اور عوامل کی نفی ہوتی ہے جو اس واقعے کے وقوع پذیر ہونے کا سبب بنے ہوں۔ الحاد زیادہ سے زیادہ جس بات کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ قدرتی طریقۂ کار کے ذریعے ارتقاء نظریاتی طور پر ممکن ہے۔ لیکن وہ اس بات کو ثابت کرنے سے یکسر عاجز ہے کہ حیرت انگیز پیچیدگیوں اور واضح مقاصد سے بھرپور تخلیق کا یہ حسین و جمیل سلسلہ اس کائنات میں کسی خدا، کسی تدبیر اور کسی حکیم خالق کے بغیر جاری و ساری ہے۔

شیئر: