واپس
’’اندھے گھڑی ساز‘‘ کا نظریہ: فلسفی الفِن پلانٹنگا کا رچرڈ ڈاکنز کے دلائل کا جواب

’’اندھے گھڑی ساز‘‘ کا نظریہ: فلسفی الفِن پلانٹنگا کا رچرڈ ڈاکنز کے دلائل کا جواب

شیخ مقداد الربیعی

گزشتہ چند برسوں میں الحاد کے منظرنامے پر ایک ایسے گروہ نے خاصی شہرت حاصل کی ہے جسے ’’نئے ملحدین‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس گروہ میں رچرڈ ڈاکنز، ڈینیئل ڈینیٹ، کرسٹوفر ہچنز اور سیم ہیرس جیسے معروف نام شامل ہیں۔ ان لوگوں نے خود کو مذاہب کی بنیادیں ہلانے اور مذہبی عقائد کو چیلنج کرنے والے علم برداروں کے طور پر پیش کیا ہے۔

ان کی گفتگو اور تحریروں میں عموماً یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مذہب انسانی تاریخ میں ہونے والی برائیوں اور تباہ کاریوں کا بنیادی سبب ہے۔ تاہم، اس مؤقف میں وہ بیسویں صدی کے دوران مادّی اور سیکولر نظریات کے نام پر ہونے والی بے شمار تباہ کاریوں، انسانی المیوں اور قتلِ عام کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالاں کہ ان واقعات کا حجم اور شدت ایسی ہے کہ ماضی کی مذہبی جنگوں اور غلطیوں کے مقابلے میں وہ کہیں زیادہ سنگین دکھائی دیتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ’’نئے ملحدین‘‘ ایمان کا مذاق اڑانے اور اسے ایک بے بنیاد خرافہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا اندازِ گفتگو اکثر سنجیدہ اور متوازن عقلی بحث کے بجائے طنز، تمسخر، بلند آہنگ اعتراضات اور بعض اوقات بچوں جیسی نوک جھونک سے عبارت ہوتا ہے۔ یہ طرزِ فکر دراصل قدیم مادی فلسفیوں کی سنجیدہ فکری روایت کے معیار تک بھی نہیں پہنچتا، بلکہ زیادہ تر ایک ایسی ناپختہ بغاوت محسوس ہوتا ہے جس کے پیچھے مضبوط عقلی دلائل کم ہی نظر آتے ہیں۔ شاید ہم یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ ’’نئے ملحدین‘‘ کا یہ رجحان بھی گرمیوں کے بادل کی طرح عارضی ثابت ہو اور سنجیدہ فکری مباحث کے افق پر چھائی یہ کیفیت جلد گزر جائے۔

علم کی عظمت اور اس کی حدود

نیا الحادی فکر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ سائنس اور مذہب کے درمیان ایک لازمی اور ناگزیر تصادم موجود ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید سائنس گزشتہ پانچ صدیوں کے دوران انسان کی عظیم ترین علمی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ خصوصاً نیوٹن کے دور سے طبیعیات میں ہونے والی پیش رفت انسانی تاریخ میں ایک غیر معمولی اجتماعی علمی کاوش کی مثال ہے۔تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سائنس کو اس حد تک مقدس سمجھ لیا جائے کہ اسے زندگی کے ہر معاملے میں فیصلہ کن اور واحد مرجع قرار دے دیا جائے۔ یہ رویہ دو بنیادی حقیقتوں کو نظر انداز کرتا ہے:

اول: تجرباتی سائنس ان سوالات کے جوابات دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی جو ہماری زندگی میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، مثلاً اخلاقیات، سیاست اور مذہب۔ افسوس کہ بعض لوگ سائنس دانوں کو جدید دور کے ’’پادری‘‘ سمجھنے لگتے ہیں اور زندگی کے ایسے معاملات میں بھی ان کی رائے طلب کرتے ہیں جو ان کے علمی تخصص سے باہر ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سائنس دان جب اپنی تجربہ گاہ سے باہر نکلتا ہے تو ان معاملات میں وہ بھی ایک عام انسان ہی ہوتا ہے، جب تک وہ کسی مخصوص شعبے میں ماہر نہ ہو۔

دوم: خود سائنس میں بعض ایسی نظریات بھی موجود ہیں جو عملی طور پر نہایت کامیاب ثابت ہوئے ہیں، لیکن نظری اعتبار سے ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ اس کی نمایاں مثال جدید طبیعیات کے دو عظیم نظریات، عمومی نظریۂ اضافیت (General Relativity) اور کوانٹم میکینکس (Quantum Mechanics) ہیں۔ دونوں نظریات اپنے اپنے دائرے میں غیر معمولی کامیاب ہیں، لیکن موجودہ صورت میں انہیں ایک ہی جامع نظریے کے طور پر بیک وقت درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صورتِ حال اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سائنس ایک مسلسل جاری رہنے والا تحقیقی سفر ہے، کوئی ایسی حتمی اور معصوم وحی نہیں جس میں غلطی کا امکان ہی نہ ہو۔

رچرڈ ڈاکنز کی دلیل کا تجزیہ اور اس کی کمزوریوں کی وضاحت

رچرڈ ڈاکنز الحاد کے نمایاں ترین علم برداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اپنی مشہور کتاب ’’دی بلائنڈ واچ میکر‘‘(The Blind Watchmaker) میں ڈاکنز یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ فطرت ایک گھڑی ساز کی طرح پیچیدہ زندگی کی تعمیر کرتی ہے، لیکن یہ گھڑی ساز ’’اندھا‘‘ ہے۔ ان کے مطابق قدرتی انتخاب کسی منصوبہ بندی یا کسی متعین مقصد کے بغیر، محض خودکار اور بے سمت عمل کے ذریعے زندگی کی پیچیدہ ساختیں وجود میں لاتا ہے۔ کتاب کے ذیلی عنوان میں بھی وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ارتقا کے شواہد ایسی کائنات کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے پیچھے کوئی باقاعدہ منصوبہ یا ڈیزائن موجود نہیں۔

آئیے ایک مثال سے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ ارتقائی تاریخ ایک ایسی ضخیم لائبریری میں محفوظ ہے جسے ہم ’’کتب خانۂ حیات‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ اس لائبریری میں بیکٹیریا کے وجود میں آنے کے زمانے سے لے کر آج تک رونما ہونے والی ہر جینیاتی تبدیلی کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔

اب فرض کریں کہ ہمیں یہ پوری لائبریری بھی مل جائے، تب بھی ہمیں اس میں ایسی کوئی چیز نہیں ملے گی جو یہ ثابت کر سکے کہ ان جینیاتی تبدیلیوں کے پیچھے اللہ کی کوئی رہنمائی یا ارادہ کارفرما نہیں تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے قدرت کے قوانین ہی کو ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن ڈاکنز کی کوشش اس سے آگے نہیں بڑھتی کہ وہ یہ ثابت کریں کہ قدرتی انتخاب کا بے مقصد اور اتفاقی عمل اکیلا ہی پیچیدہ اعضا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ اس مسئلے کو ’’نامیاتی خلا‘‘ (Organic Space) کے تصور کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے ارتقائی سفر کا تصور کرتے ہیں جو یک خلوی جانداروں سے شروع ہو کر انسانی آنکھ جیسی پیچیدہ ساخت تک پہنچتا ہے۔ پھر وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ بے شمار اتفاقی جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے، مرحلہ وار، اس سفر کو طے کیا جا سکے اور ہر مرحلہ پچھلے مرحلے کے مقابلے میں کچھ نہ کچھ فائدہ مند ثابت ہوتا جائے، یہاں تک کہ بقا کے امکانات میں اضافہ ہوتا رہے؟

ڈاکنز اس سوال کا جواب کسی قطعی تجرباتی ثبوت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ایک طرح کے ذاتی احساس اور اندازے کی بنیاد پر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’’اگر ایک مرحلے اور دوسرے مرحلے کے درمیان فرق کافی معمولی ہو تو ضروری جینیاتی تبدیلیاں تقریباً ناگزیر طور پر رونما ہو جائیں گی۔‘‘

ڈاکنز کی سائنسی اور منطقی دلیل میں موجود خامیاں

فلسفی الفِن پلانٹنگا اپنی کتاب (Where the Conflict Really Lies) میں رچرڈ ڈاکنز کے استدلال پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ ڈاکنز کی دلیل میں دو بنیادی کمزوریاں ہیں:

اول: حساب اور دلیل کے بجائے ’’ذاتی احساس‘‘ پر انحصار

ڈاکنز اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ حیاتیاتی یا ریاضیاتی حساب پیش نہیں کرتے کہ ارتقا کا یہ راستہ واقعی ممکن ہے۔ اس کے بجائے وہ اپنی دلیل کو ایک ذاتی رائے پر قائم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’میرا احساس یہ ہے کہ۔۔۔‘‘لیکن محض کسی شخص کا احساس یا اندازہ سائنسی دلیل نہیں بن سکتا۔اس کے برعکس بعض ماہرینِ حیاتیات، مثلاً مائیکل بیہی (Michael Behe)، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جانداروں میں بعض ایسے نہایت پیچیدہ نظام موجود ہیں جنہیں چھوٹے چھوٹے، الگ الگ فائدہ مند مراحل میں تقسیم کرنا آسان نہیں۔ اسے ’’ناقابلِ تحلیل پیچیدگی ‘‘کہا جاتا ہے۔لہٰذا صرف یہ فرض کر لینا کہ پیچیدہ حیاتیاتی ساختیں لازماً چھوٹی چھوٹی مفید جینیاتی تبدیلیوں کے مسلسل سلسلے سے وجود میں آ سکتی ہیں، جبکہ اس کے حق میں کوئی قطعی ریاضیاتی یا تجرباتی ثبوت موجود نہ ہو، اسے مکمل سائنسی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوم: ایک بنیادی منطقی مغالطہ

فرض کر لیتے ہیں کہ ہم ڈاکنز کی بات مان لیتے ہیں اور یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ انسانی آنکھ کا بغیر کسی شعوری رہنمائی کے ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آنا ’’ناممکن نہیں‘‘، یعنی اگرچہ اس کے امکانات انتہائی کم ہوں، پھر بھی نظری طور پر یہ ممکن ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا کسی واقعے کا ممکن ہونا اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ وہ واقعہ واقعی پیش آیا ہے؟ اور کیا کسی چیز کے ممکن ہونے سے یہ لازماً ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی خالق یا ڈیزائنر موجود نہیں؟

پلانٹنگا اس منطقی کمزوری کو ایک دلچسپ مثال کے ذریعے واضح کرتے ہیں۔

فرض کریں ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ اسے جلد ہی تنخواہ میں پچاس ہزار ڈالر کا اضافہ ملنے والا ہے۔ بیوی اس سے پوچھتی ہے کہ ’’اس بات کا کیا ثبوت ہے؟‘‘ وہ جواب دیتا ہے:’’کیونکہ پچاس ہزار ڈالر کا اضافہ مل جانا فلکیاتی حد تک ناممکن تو نہیں ہے!‘‘ ظاہر ہے، کسی واقعے کا محض ممکن ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ واقعہ حقیقت میں ضرور پیش آئے گا۔ اسی طرح کسی ایک ممکنہ وضاحت کو ممکن ثابت کر دینا دوسری ممکنہ وضاحتوں کو بھی خود بخود رد نہیں کر دیتا۔چنانچہ ڈاکنز کی دلیل سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی شعوری رہنمائی کے ارتقائی عمل کے ذریعے زندگی کی پیچیدہ شکلوں کا وجود میں آنا نظری طور پر ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن صرف اتنا ثابت کر دینا اس دعوے کے لیے کافی نہیں کہ کائنات کے پیچھے کوئی خدا یا خالق موجود نہیں۔

نئے ملحدین کے دلائل کا گہرا اور محتاط مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اکثر سائنسی حقائق اور مادّی فلسفے کے مفروضوں کو باہم خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ کسی چیز کے نظری طور پر ممکن ہونے کو اس کے حقیقت میں واقع ہونے کا ثبوت سمجھ لینا درست نہیں، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس بنیاد پر خالق کے وجود کی نفی نہیں کی جا سکتی۔

زندگی کی پیچیدگی، اس کی حیرت انگیز ترتیب اور اس میں پائی جانے والی باریک حکمت آج بھی ایک عظیم صانع کی قدرت و حکمت کی روشن علامت ہے۔ ایک صاحبِ عقل مؤمن کے نزدیک تجرباتی سائنس دین کی دشمن نہیں، بلکہ وہ ایک ایسی کھڑکی ہے جس سے خالقِ کائنات کی عظمت، قدرت اور اس کی تخلیق میں پائی جانے والی بے مثال کاریگری مزید نمایاں ہوتی ہے؛ وہ خالق جس نے ہر چیز کو بہترین انداز میں پیدا کیا۔

شیئر: