واپس
ڈارون کے خطرناک خیال کا علمی تجزیہ: ڈینیئل ڈینیٹ کے دعووں پر پلانٹنگا کی ناقدانہ نظر

ڈارون کے خطرناک خیال کا علمی تجزیہ: ڈینیئل ڈینیٹ کے دعووں پر پلانٹنگا کی ناقدانہ نظر

شیخ مقداد الربیعی

علم اور مذہب کے باہمی تعلق کے بارے میں آج کی فکری بحث میں ’’نیا الحاد‘‘ کی آوازیں نمایاں ہیں۔ یہ لوگ سائنسی سوچ پر اجارہ داری قائم کرنے اور خالق پر ایمان کو ایک پرانی اور فرسودہ تخلیات کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس حوالے سے ڈینیئل ڈینیٹ نے اپنی کتاب ’’ڈارون کا خطرناک خیال‘‘میں ایسے دعوے پیش کیے ہیں جو بظاہر توسائنسی نظر آتے ہیں، لیکن در حقیقت وہ الحادی فلسفیانہ مفروضوں سے زیادہ کچھ نہیں۔چنانچہ یہ جاننا ضروری ہے کہ فلسفی ایلْوِن پلانٹنگا نے ان دعووں کا کس طرح تجزیہ کیا؟ اورڈینیٹ کے نزدیک ’’ڈارون کا خطرناک خیال‘‘ کیا ہے؟

ڈینیٹ کے نزدیک ڈارون کے نظریے کا اصل خطرہ یہ دعویٰ ہے کہ جانداروں کی دنیا اپنے حیرت انگیز اور پیچیدہ ڈیزائن کے باوجود کسی الٰہی رہنمائی سے وجود میں نہیں آئی، بلکہ یہ سب کچھ قدرتی انتخاب کے ایک اندھے اور غیر شعوری عمل کا نتیجہ ہے۔ڈینیٹ اس عمل کو ایک میکانکی نظام قرار دیتا ہے، جو کمپیوٹر کے کسی الگورتھم کی طرح کام کرتا ہے اور محض اتفاق کے ذریعے جانداروں کی مختلف اقسام پیدا کرتا ہے، بنابر ایں اس کے پیچھے کسی باشعور اور مدبر ذہن کی ضرورت نہیں۔ایسے میں ڈینیٹ صرف جانداروں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ اپنی کتاب (جادو کا طلسم توڑنا) میں اس دعوے کو انسانی شعور تک بھی پھیلاتا ہے۔ اس کے مطابق ہمارا اخلاقی شعور، مذہبی رجحانات، فنی تخلیقی صلاحیتیں، حتیٰ کہ سائنسی پرکھ کرنے کی ہماری صلاحیت بھی اسی اندھے عمل کا نتیجہ ہے۔

مختصراً، ڈینیٹ کے نزدیک عقل اور شعور کائنات کی تاریخ میں بہت دیر سے نمودار ہوئے اور یہ محض اتفاقی مادے کی پیداوار ہیں۔ یہی اس خیال کا اصل خطرناک پہلو ہے؛ کیونکہ اس نظریے کو قبول کرنے کا مطلب، اس کے نزدیک، ایک ایسے خالق کے وجود پر ایمان سے دستبردار ہونا ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور سب کا خالق ہے۔

دلیل کے بجائے سائنسی دبدبہ

پلانٹنگا کے مطابق ڈینیٹ اپنی بحث کا آغاز مضبوط دلائل سے نہیں کرتا، بلکہ وہ حملے، خوف پیدا کرنے اور مخالفین کے خیالات کو پہلے ہی خارج از بحث قرار دینے کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ ہر اس شخص کو جو زندگی کے تنوع کی واحد وضاحت کے طور پر نظریۂ ارتقا کو تسلیم کرنے میں شک کرے، ’’بلا عذر جاہل‘‘قرار دیتا ہے۔ حتی کہ وہ اپنے سخت لہجے میں ڈاکنز سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے اور اس امکان کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے کہ شاید خالق نے ارتقا کے عمل کی کسی مرحلے پر رہنمائی کی ہو۔

یہ طرزِ عمل ہمیں اس تعصب کی ذہنیت کی یاد دلاتا ہے؛ جہاں اختلاف کرنے والے شخص کو صرف غلط نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے اخلاقی اور سائنسی اعتبار سے بھی برا اور ناقابلِ قبول قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ڈینیٹ طنزیہ انداز میں یہ تجویز بھی دیتا ہے کہ بعض بنیاد پرست مذہبی لوگوں کو ’’ثقافتی چڑیا گھروں‘‘میں محفوظ کردیا جائے۔

پلانٹنگا کی طرف سے ان دعووں کا تجزیہ

پلانٹنگا اس مادی نظریے کا جواب دیتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ ڈینیٹ کی پیش کردہ باتیں دراصل سائنسی نہیں بلکہ مادی فطری فلسفہ پت مبنی ہیں، جنہیں تجرباتی سائنس کا لباس پہنا دیا گیا ہے۔ اس فلسفے کی کمزوری کئی پہلوؤں سے واضح ہوتی ہے:

اول: مادے کے شعور کا مسئلہ

پلانٹنگا فلسفی جان لاک کا حوالہ دیتے ہیں، جن کے نزدیک یہ ممکن نہیں کہ ایک بے جان اور غیر شعوری مادہ کسی سوچنے اور سمجھنے والی عقل مند ہستی کو وجود میں لائے۔اس مرحلے پر جب ڈینیٹ کو اس مضبوط دلیل کا سامنا ہوا تو اس نے اسکاکسی سائنسی دلیل سے جواب دینے کے بجائے صرف تمسخرانہ قہقہوں پر اکتفا کیا۔لیکن کیا مذاق اڑانا کوئی ایسی سائنسی یا منطقی دلیل ہے جسے قابلِ اعتبار سمجھا جائے؟جبکہ درست منطق اس بات کی تائید کرتی ہے کہ محض اندھے اور بے شعور کیمیائی تعاملات سے، بغیر کسی شعوری ارادے کے، زبان، شعور، اخلاقی ادراک اور ارادہ وجود میں آنا انتہائی مشکل ہے۔ توحیدی ایمان اس کی زیادہ مربوط وضاحت پیش کرتا ہے کہ ’’اولین عقل‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مادے اور شعور کو وجود بخشا، نہ کہ مادے نے عقل کو پیدا کیا۔

دوم: نظریاتی امکان کا مطلب حقیقی وقوع نہیں

ڈینیٹ، ڈاکنز کی اس دلیل کو بار بار دہراتا ہے کہ قدرتی انتخاب کا ایک اتفاقی عمل نظری طور پر اس قدر پیچیدگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پلانٹنگا اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر بحث کی خاطر ہم حیاتیاتی ارتقا کو درست بھی تسلیم کرلیں، تب بھی تجرباتی سائنس یہ ثابت نہیں کرسکتی کہ یہ عمل ’’اتفاقی اور بغیر کسی رہنمائی‘‘ کے ہوا۔ سائنس کے پاس ایسے ذرائع نہیں کہ وہ اس امکان کی نفی کرسکے کہ خالق نے جینیاتی تبدیلیوں کی رہنمائی کی ہو۔اگر مادیت پسند یہ دعویٰ کریں کہ کسی پیچیدہ عضو کا اتفاقاً وجود میں آنا فلکیاتی اعتبار سے ناممکن نہیں، تو یہ محض ایک کمزور نظریاتی امکان کو ثابت کرنا ہے۔ کسی چیز کے ناممکن نہ ہونےکو ثابت کرنا ہرگز اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ واقعی اسی طریقے سے وجود میں آئی۔ اسی طرح کسی چیز کا نظریاتی طور پر ممکن ہونا اسے ایسی قطعی حقیقت نہیں بنا دیتا جو دیگر عقلی توضیحات کی نفی کردے۔

پلانٹنگا اپنے تجزیے کے اختتام پر کہتے ہیں کہ ڈینیئل ڈینیٹ نے ایسا کوئی سائنسی ثبوت پیش نہیں کیا جو یہ ثابت کرے کہ کائنات کسی رہنمائی کے بغیر وجود میں آئی۔ اس کے بجائے اس نے اپنے ذاتی مادی نظریات کو سائنسی حقائق کے طور پر پیش کیا ہے۔کائنات کے ایک حکیم خالق کے وجود پر ایمان عقل اور منطق کے عین مطابق ہے اور تجرباتی سائنس سے اس کا کوئی تضاد نہیں، کیونکہ سائنس صرف ان طریقۂ کار کا مطالعہ کرتی ہے جن کے ذریعے چیزیں وقوع پذیر ہوتی ہیں؛ وہ ان کے پیچھے موجود مقصد اور مدبر کی نفی کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔پس اندھا اتفاق شعور پیدا نہیں کرسکتا اور بے جان مادہ عقل کو جنم نہیں دے سکتا۔

شیئر: