واپس
ختمِ نبوت: سلسلہ وحی کا اختتام اور امامت کے ذریعے ہدایت کا تسلسل

ختمِ نبوت: سلسلہ وحی کا اختتام اور امامت کے ذریعے ہدایت کا تسلسل

’’ختمِ نبوت‘‘  کا تصور اسلامی نظامِ ہدایت میں اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ وحیِ نبوت کے سلسلے کے منقطع ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ اور انسان کے درمیان ہدایت و رہنمائی کا تعلق کس نوعیت کا رہتا ہے۔ یہ بحث بنیادی طور پر دو مرکزی محوروں کے گرد گھومتی ہے۔ پہلا یہ محور یہ ہے کہ کہیں ختمِ نبوت کا مطلب یہ تو نہیں کہ انسانیت کے لیے روحانی اور معنوی فیض کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے اور انسانیت ایسی شخصیات کو پیدا کرنے سے عاجز ہوگئی ہے جن کا تعلق عالمِ غیب سے ہو۔ دوسرا محور ’’نبوتِ تبلیغی‘‘ کے اختتام کی حکمت سے متعلق ہے۔ اگر ’’نبوتِ تشریعی‘‘ دینِ اسلام کے کامل ہوجانے کے ساتھ ختم ہوگئی، تو پھر اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کی طرح تبلیغ اور یاد دہانی کے لیے انبیاء کیوں مبعوث نہیں فرمائے؟ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سطحی نگاہ سے آگے بڑھتے ہوئے قرآنِ کریم کے محکمات، احادیثِ شریفہ اور علمائے امامیہ کی جانب سے پیش کیے گئے ان معرفتی اور اعتقادی پہلوؤں کو گہرائی سے سمجھا جائے جنہیں انہوں نے تحقیق و تدبر کے ذریعے واضح کیا ہے۔

اس سلسلے میں درج ذیل باتیں قابل غور ہیں

پہلا: روحانی فیض کا تسلسل اور ’’ولایت‘‘ کے دروازے کا کھلا رہنا

یہ عقیدہ کہ ختمِ نبوت کا مطلب غیب کے ساتھ روحانی تعلق کا منقطع ہوجانا ہے، دراصل ’’نبوت‘‘ اور ’’ولایت‘‘ کے درمیان فرق کو درست طریقے سے نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے ۔  ’’نبوت‘‘ ایک ایسے منصبِ الٰہی کا نام ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے شریعت حاصل کرنا اور اسے لوگوں تک پہنچانا شامل ہے، جبکہ ’’ولایت‘‘ اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کے ساتھ روحانی اتصال کی ایک کیفیت کا نام ہے۔(لھذا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ختم نبوت کے ساتھ ہی ) وحیِ تشریعی کا دروازہ تو بند ہوچکا ہے، لیکن الہام اور اشراق کا وہ دروازہ، جسے علمِ کلامِ شیعی میں ’’ولایت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، قیامت تک باقی اور جاری ہے۔قرآنِ کریم ہر پاکیزہ دل کے لیے، نبوت سے قطعِ نظر، اس الٰہی فیض کے تسلسل کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾ اور جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں، ہم ضرور انہیں اپنی راہیں دکھاتے ہیں۔(سورۂ عنکبوت، آیت 69)

اس حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ سید محمد حسین طباطبائی اس امر پر زور دیتے ہیں کہ ولایت، جو نبوت کا باطن ہے، کبھی منقطع نہیں ہوتی۔ نبوت کا تعلق راہِ حق کی نشان دہی سے ہے، جبکہ ولایت انسان کو اس مطلوبِ حقیقی تک پہنچانے والی ہدایت ہے۔ اسی بنا پر نبوت کے اختتام کے بعد بھی امت میں ولایت کا سلسلہ برقرار رہتا ہے۔ (تفسیر المیزان، جلد پنجم، صفحہ ۲۷۳)

قرآنِ کریم میں بھی ایسی متعدد ہستیوں کے واقعات بیان ہوئے ہیں جو نبی نہ ہونے کے باوجود عالمِ غیب و ملکوت سے فیض یاب اور اس سے روحانی طور پر متصل تھیں؛ مثلاً حضرت مریمؑ اور حضرت موسیٰؑ کی والدہ۔ شیعہ حدیثی مصادر میں ’’مُحَدَّث‘‘ کا تصور بھی کثرت سے بیان ہوا ہے۔ اس سے مراد ایسا انسان ہے جس تک غیبی ہدایات پہنچتی ہوں اور فرشتے اس سے گفتگو کرتے ہوں، لیکن وہ نبی نہ ہو۔ شیخ کلینی نے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نبی اور مُحَدَّث کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے روایت کیا ہے کہ’’اور مُحَدَّث وہ ہے جو آواز سنتا ہے، لیکن شخص کو نہیں دیکھتا۔‘‘ (اصولِ کافی،جلد 1، صفحہ 271 )

یہ امر اعتقادی طور پر اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ وحیِ تشریعی کا سلسلہ بند ہوجانے کا مطلب آسمان کے دروازوں کا بند ہوجانا نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور ان کے بعد ائمۂ اطہار علیہم السلام اس غیبی اتصال کے کامل ترین مظہر ہیں۔

دوسرا: ’’نبوتِ تبلیغی‘‘ کے اختتام کی حکمت اور امت کا فکری بلوغ

رہا دوسرا سوال کہ اسلام کے بعد تبلیغی انبیاء کیوں مبعوث نہیں کیے گئے، تو اس کا جواب انسانیت کے فکری ارتقا اور دائمی معجزے کی نوعیت میں پوشیدہ ہے۔ سابقہ امتوں میں ’’نبوتِ تبلیغی‘‘ دو بنیادی وجوہ کی بنا پر ایک ناگزیر ضرورت تھی کہ ایک یہ کہ سابقہ آسمانی کتابیں تحریف کا شکار ہوگئی تھیں، اور دوسری یہ کہ انسانی عقل ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچی تھی کہ وہ شریعت الہیہ کی حفاظت اور اس کے احکام کے استنباط کی صلاحیت حاصل کرسکے۔اسلام کی آمد کے ساتھ یہ دونوں اسباب مکمل طور پر ختم ہوگئے۔ ایک طرف اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے خود قرآن مجید اور پیغامِ الٰہی کے متن کی حفاظت کی ذمہ داری لی، چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ ’’بے شک ہم ہی نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘ (سورۂ حجر، آیت 9) اور چونکہ نص تحریف و دست کاری سے محفوظ ہے، دوسری طرف آیتِ کریمہ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾  (سورۂ مائدہ، آیت 3)کے مطابق دین اپنی تکمیل کی بلند ترین منزل تک پہنچ چکا ہے، اس لیے کسی نئے نبی کو بھیجنے کی بنیادی ضرورت باقی نہیں رہی کہ وہ نص میں پیدا ہونے والی کسی تحریف کی اصلاح کرے یا تشریع میں موجود کسی کمی کو پورا کرے۔

آیت اللہ شیخ عبداللہ جوادی آملی نے اپنی کتاب «وحی و نبوت»، ص 310 میں اس مسئلے کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے وضاحت کی ہے:’’نبوتِ تبلیغی کے خاتمے کا راز شریعت کے کامل ہونے، کتاب خدا کی حفاظت اور انسانی عقل کے قرآن کی رہنمائی میں اس مرحلے تک پہنچ جانے میں ہے جہاں وہ اجتہاد کی صلاحیت حاصل کرچکی ہے۔ سابقہ ادوار میں امت اپنے دینی ورثے کی حفاظت کرنے پر قادر نہیں تھی، اس لیے ایسے تبلیغی انبیاء کی ضرورت ہوتی تھی جو مٹ جانے والی تعلیمات کو دوبارہ زندہ کرے۔ لیکن امتِ اسلامیہ کو محفوظ قرآن عطا کیا گیا، اسے امامت کی نعمت حاصل ہوئی جو شریعت کی تفصیلات کو واضح کرتی ہے، اور پھر وہ اجتہاد کے دور میں داخل ہوگئی، جہاں علماء تمام پیش آنے والے نئے واقعات اور مسائل کے لیے احکام کا استنباط کرتے ہیں۔‘‘

تیسرا: امامت اور اجتہاد، ’’نبوتِ تبلیغی‘‘ کا حقیقی متبادل

اسلام نے نبوتِ تبلیغی کے اختتام کے بعد کوئی خلا نہیں چھوڑا، بلکہ اس ذمہ داری کو دو عظیم اداروں کی طرف منتقل کردیا: امامت، اور پھر علماء کی مرجعیت یعنی اجتہاد۔شیعی فکر کے مطابق امامِ معصوم، سوائے نئی کسی شریعت لانے کے ، نبی کے باقی تمام وظائف انجام دیتا ہے؛ یعنی دین کی حفاظت، اس کی وضاحت اور لوگوں کی ہدایت وغیرہ۔

شیخ مفید نے اپنی کتاب «أوائل المقالات»، ص 71 میں لکھا ہے کہ ’’وہ ائمہ جو احکام کے نفاذ، حدود کے قائم کرنے، شریعتوں کی حفاظت اور لوگوں کی تربیت میں انبیاء کے قائم مقام ہیں، انبیاء کی طرح معصوم ہیں۔ ان کے لیے فتویٰ دینے میں تقیہ کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے میں ان سے غلطی ہوسکتی ہے۔‘‘

امامِ معصوم علیہ السلام کی غیبت کے زمانے میں تبلیغِ دین، دین کی حفاظت اور شبہات کے جوابات دینے کی ذمہ داری مجتہد علماء کی طرف منتقل ہوگئی۔ اس کی بنیاد امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول اس حدیثِ شریف پر ہے جسے اصولِ کافی، جلد 1، صفحہ 32 میں روایت کیا گیا ہے    ’’بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء نے نہ دینار ورثے میں چھوڑے اور نہ درہم، بلکہ انہوں نے علم ورثے میں چھوڑا ہے۔ پس جس شخص نے اس علم میں سے کچھ حاصل کیا، اس نے بہت بڑا حصہ حاصل کرلیا۔‘‘

یوں مضبوط اور مستحکم علمی قواعد پر قائم مسلسل اجتہاد نے تبلیغی وحی کی جگہ لے لی۔ چنانچہ فقہاء کی ذمہ داری یہ ہوگئی کہ وہ قرآنِ کریم کے ثابت اور کلی اصولوں کو زمان و مکان کے بدلتے ہوئے حالات اور نئے پیش آنے والے مسائل پر منطبق کریں۔

آخر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ:ختمِ نبوت کا مطلب یہ نہیں کہ آسمان نے زمین کی رہنمائی سے دست برداری اختیار کرلی ہے، بلکہ یہ انسانی عقل کے مرحلۂ رشد و بلوغ تک پہنچنے کا اعلان ہے۔ اس مرحلے میں دستور (قرآن) محفوظ ہے، حجتِ الٰہی (امام) باقی ہے، اور روحانی فیض (ولایت اور الہام) جاری ہے۔ یوں نبوتِ تبلیغی کی ذمہ داری ایسے فقہی اور معرفتی شعور کی طرف منتقل ہوگئی ہے جو نئے پیش آنے والے مسائل کے حل، احکام کے استنباط اور بدلتے ہوئے حالات کی رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی امر دینِ اسلام کو ایک متحرک اور زندہ دین بناتا ہے، جو قیامت تک انسانی زندگی کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے اور انسانیت کے سفرِ تکامل میں اس کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،

شیئر: