شیخ مصطفیٰ الہجری
آج کا نوجوان معلومات کے ایک مسلسل اور بے پناہ سیلاب میں زندگی گزار رہا ہے، یعنی ایک ایسے ڈیجیٹل ماحول کے درمیان جو کسی سرحد کو تسلیم نہیں کرتا۔ بعض لوگ شاید یہ گمان کرتے ہوں کہ یہ نسل محض ایک خاموش اور غیر فعال صارف ہے، جو اسکرینوں پر پیش کی جانے والی ہر چیز کو بلا سوچے سمجھے قبول کر لیتی ہے،لیکن جدید تحقیقات نے اس کے بالکل برعکس حقیقت کو آشکار کیا ہے کہ اس کھلے اور وسیع ماحول نے ایک ایسی نسل کو جنم دیا ہے جو بلند درجے کی تنقیدی صلاحیت رکھتی ہے، براہِ راست تلقین کو آسانی سے قبول نہیں کرتی، اور ہر خبر کے پسِ پردہ موجود حقیقت تک پہنچنے کی جستجو میں رہتی ہے۔
تحقیق کے معیار پر نئی تحقیق و جستجو کرنے والے مصنف ڈان ٹیپسکاٹ نےاپنی کتاب نسلِ انٹرنیٹ (Net Generation)میں اس نسل کی نمایاں خصوصیات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں تیسری بنیادی خصوصیت، یعنی نئے تحقیق و جستجو کرنے والوں کا نمائندہ قرار دیا ہے۔
ٹیپسکاٹاپنی کتاب کے پہلے باب، صفحہ 72 پر اس نسل کے منفرد شعور کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔اس نسل کے افراد تحقیق و جستجو کرنے والے نئے افراد ہیں۔ جب میں چھوٹا تھا تو ہم جو تصاویر دیکھتے تھے، وہ محض تصاویر ہی ہوا کرتی تھیں، ان سے زیادہ کچھ نہیں۔ لیکن انٹرنیٹ کی نسل کے نزدیک شفافیت یعنی متعلقہ فریقوں کو کمپنیوں اور ان کی پیش کردہ خدمات کے بارے میں ضروری اور متعلقہ معلومات تک رسائی حاصل ہونا ایک بالکل فطری اور معمول کی بات ہے۔
کتاب اس بات کو مزید واضح کرتے ہوئے کہتی ہے کہ انٹرنیٹ کی تعاملی فطرت نے نئی نسل میں تحقیق اور تنقیدی سوچ کی صلاحیت پیدا کی ہے۔ چنانچہ مصنف پہلے باب کے صفحہ 55 پر لکھتا ہے کہ اب بچوں کو انٹرنیٹ کے سامنے بیٹھ کر صرف معلومات دیکھنے پر اکتفا نہیں کرنا پڑتا، بلکہ انہیں خود معلومات تلاش کرنا ہوتی ہیں۔ اس عمل سے ان کے اندر نافقط تحقیق، جستجو اور غور و فکر کی صلاحیت بڑھتی ہے، بلکہ اس عمل سے ان میں بہت سی دوسری صلاحیتیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ انہیں تنقیدی سوچ رکھنی ہوتی ہے اور ایسے سوالات کے جواب تلاش کرنے ہوتے ہیں کہ کون سی ویب سائٹ بہتر اور زیادہ قابلِ اعتماد ہے؟ میں سچ اور جھوٹ میں فرق کیسے کروں؟
لہٰذا یہ نسل صرف خاموش تماشائی نہیں ہے، بلکہ جیسا کہ کتاب کے صفحہ 54 میں بیان ہوا ہے، یہ لوگ خود آگے بڑھ کر کام کرنے والے، دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے والے، چیزوں کو منظم کرنے والے، پڑھنے والے، لکھنے والے، معلومات کو محفوظ کرنے والے اور عملی حکمتِ عملی بنانے والے فعال افراد ہیں۔
منہجِ فَتَبَيَّنُوا سے ہم آہنگی
ڈیجیٹل دنیا کے ماحول میں پیدا ہونے والی یہ تحقیق و پرکھنے کی عادت، معلومات اور خبروں کے معاملے میں اسلامی تعلیمات کے بنیادی طریقۂ کار سے حیرت انگیز حد تک ہم آہنگ ہے۔ قرآنِ کریم نے اس سلسلے میں ایک مضبوط اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا)
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تم تحقیق کر لیا کرو، آج کے نوجوانوں کا شفافیت کا مطالبہ کرنا اور یک طرفہ یا مخصوص مقصد کے تحت چلائے جانے والے میڈیا کو قبول کرنے سے انکار کرنا، درحقیقت اسی قرآنی حکم، یعنی تحقیق اور تصدیق کی ایک فطری صورت ہے۔اصل فرق اس بات میں ہے کہ اس تنقیدی اور تحقیقی صلاحیت کو کس سمت میں استعمال کیا جائے۔ اس تنقیدی سوچ کو انٹرنیٹ کی بے ترتیب اور بے سمت دنیا میں بھٹکنے کی بجائے اسے ایک واضح اور درست راستہ دیا جا سکتا ہے، تاکہ یہ آج کے فکری شبہات کے مقابلے میں ایک مضبوط دفاعی دیوار بن جائے۔ جو ذہن مختلف خبروں کے ذرائع کا آپس میں موازنہ کر کے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا سیکھ چکا ہو، وہی ذہن علمی اور تاریخی تحقیق کے اصول اپنانے کے لیے بھی پوری طرح تیار ہوتا ہے۔ ایسا ذہن ان گمراہ کن اور غلط روایات کا بھی تجزیہ کر سکتا ہے جو عقیدے اور معاشرے کو نشانہ بنانے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں۔
علمی اور طالب علمانہ ماحول میں صلاحیتوں سے استفادہ
اس تجزیے کی اہمیت اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب ہم اسے محض نظری بحث سے نکال کر جامعات کے علمی ماحول اور طلبہ کی سرگرمیوں میں عملی طور پر نافذ کریں۔ یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے جامع تربیتی پروگرام ترتیب دینا، اور ایسی ورکشاپس منعقد کرنا جو تجزیاتی مطالعے اور سنجیدہ و مضبوط علمی مضامین لکھنے پر توجہ مرکوز کریں، اس تحقیقی و جستجو کی صلاحیت کو بہترین انداز میں بروئے کار لا سکتا ہے۔ جب ان طلبہ کو مطالعاتی کلبوں یا رضاکارانہ تحقیقی ٹیموں میں شامل کیا جائے تو ان کی باریک بینی اور تحقیق و جانچ کی فطری رغبت کو صحیح سمت دی جا سکتی ہے، تاکہ وہ ایسے مضبوط علمی متون تیار کریں جو شبہات کا عقلی انداز میں رد کریں۔ علمی تحقیق کے عمل میں تولیدی مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو شامل کرنا، مثلاً تاریخی متون اور مخطوطات کو حاصل کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے لیے ان کا استعمال، ان نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں زیادہ وسیع پیمانے پر بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس طرح وہ محض معلومات تلاش کرنے اور انٹرنیٹ پر اسے دیکھنے والے افراد نہیں رہتے، بلکہ فعال اور نتیجہ خیز محقق بن جاتے ہیں۔ جب طلبہ کی تحقیقی ٹیموں کو تقابلی تجزیے کے ذرائع اور ٹولز فراہم کیے جائیں تو وہ صرف غلط معلومات کو مسترد کرنے تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ اس کے مقابلے میں ایسا متبادل مواد بھی تیار کریں گے جو موجودہ دور کے اسلوب میں ہماری حقیقی اور اصیل شناخت کی ترجمانی کرتا ہو۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ انٹرنیٹ کی نسل محض سطحی نسل نہیں ہے، جیسا کہ کبھی اسے پیش کیا جاتا ہے، بلکہ یہ اپنی مخصوص صلاحیتوں اور ذرائع کے ذریعے حقیقت کی تلاش کرنے والی نسل ہے۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ان کی نئے تحقیق کرنے والوں کی حیثیت سے موجود اس صلاحیت سے فائدہ اٹھائیں اور ان کے منظم شک و تنقید کو علمی یقین میں تبدیل کریں۔ یہ کام ان کی فطری ڈیجیٹل مہارتوں اور اسلام کے اس مستحکم منہج کے درمیان مضبوط پل قائم کرکے کیا جا سکتا ہے جو تحقیق، تصدیق اور عقلی تجزیے پر قائم ہے۔