الشيخ مصطفى الهجري
اس زمانے میں محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہی بہت سے سوالات بار بار اٹھائے جاتے ہیں کہ آخر عاشورا کیوں؟ ہر سال کربلا کی یاد کو تازہ کرنے پر اتنا اصرار کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا آج کے عاشورا، یعنی ہمارے عہد کے بحران اور جن مشکلات سے ہم دوچار ہیں، ہمیں تاریخ کے اس عاشورا کی طرف رجوع کرنے سے بے نیاز نہیں کر دیتے؟ کیا ہمارے موجودہ سانحات کربلا میں پیش آنے والے سانحے سے بھی بڑھ کر نہیں ہیں؟ پھر ہم اپنی کربلاؤں کے ساتھ ایک اور کربلا کیوں شامل کریں؟ اور اپنے دکھوں پر مزید دکھوں کا بوجھ کیوں ڈالیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا آج جس روایتی انداز سے عاشورا کو یاد کیا جاتا ہے، اس نے عاشورا کو مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے بجائے اختلاف اور کشیدگی کا سبب نہیں بنا دیا؟ حالانکہ اسے تو ایسا ہونا چاہیے تھا کہ وہ مسلمانوں کے لیے الہام و رہنمائی کا سرچشمہ، دلوں کے اطمینان کا ذریعہ اور طاغوتی قوتوں اور ظالموں کے مقابلے میں متحد ہونے کا ایک عظیم موقع ثابت ہوتا۔
ان سوالات کا شعور و آگہی کے ساتھ جواب تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم عاشورا کی طرف سنجیدگی سے واپس لوٹیں اور اسے صرف ایک گزرے ہوئے تاریخی واقعے کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکر، مقصد اور پیغام کے عنوان سے سمجھیں۔ جب ہم امام حسینؑ کے ان اہداف کا باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کریں گے تو ایک ایسی حقیقت ہمارے سامنے آئے گی جو افسوس کے ساتھ کہیں پسِ پردہ چلی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ عاشورائی حسینیؑ تحریک کا حقیقی اور بنیادی مقصد ہم نے سانحے کے شور اور المیے کی گونج میں کہیں کھو دیا ہے۔ عاشورا کی تفصیلات میں موجود دردناک المیے نے انقلابِ حسینیؑ کی عظیم اقدار اور بلند مقاصد کو پسِ پشت ڈال دیا اور ہمارے نزدیک یہی اس عظیم، بامقصد اور زندہ یادگار کا حقیقی المیہ ہے۔
جس گمشدہ مقصد کو ہم تلاش کر رہے ہیں وہ امن و سلامتی کا عظیم معاملہ ہے جسے یہ عظیم تحریک امتِ مسلمہ میں دوبارہ قائم کرنا چاہتی تھی۔ امام حسینؑ کبھی بھی تفرقہ، جنگ اور خونریزی کے داعی نہیں تھے، نہ ہی وہ بے مقصد خون بہانے اور جانیں ضائع کرنے کے خواہش مند تھے اور نہ ہی ان کی جدوجہد محض بغاوت یا انقلاب برپا کرنے کے لیے تھی بلکہ وہ امن، اتحاد اور وحدت کا پیغام لے کر اٹھے تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ امتِ مسلمہ کو خالص اسلامی تعلیمات اور رسالتِ اسلام کے پاکیزہ اصولوں کی بنیاد پر متحد کیا جائے۔ اس بابرکت حسینی تحریک کا اصل ہدف یہی تھا کہ امت کا چھینا گیا امن واپس لایا جائے اور وہ سلامتی بحال کی جائے جو ظلم و استبداد پر قائم حکومت نے چھین لی تھی۔
ممکن ہے بعض لوگ اعتراض اور حیرت کے ساتھ یہ سوال کریں: آپ جس امن اور سلامتی کی بات کر رہے ہیں وہ کون سا امن ہے؟ حالانکہ حسینی ؑتحریک اپنی تمام تر تفصیلات اور واقعات کے ساتھ ایسی جدوجہد دکھائی دیتی ہے جس کے ہر مرحلے پر بے چینی چھائی ہوئی ہے، جس پر خوف کے سائے منڈلاتے ہیں اور جو ایسے راستے پر آگے بڑھتی ہے جو قتل و خونریزی سے گھرا ہوا ہے۔
لیکن اس سوال کے جواب میں ہم پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں: جو بات ہم نے بیان کی ہےاس پر حیرت نہ کریں؛ کیونکہ امام حسینؑ کا پیغام دراصل پیغامِ اسلام کی ایک زندہ تصویر اور عملی نمونہ ہے اور اسلام کا پیغام تو سراسر امن و سلامتی کا پیغام ہےجیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾ الأنفال: 24
اے ایمان والو! اللہ اور رسول کو لبیک کہو جب وہ تمہیں حیات آفرین باتوں کی طرف بلائیں اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور یہ بھی کہ تم سب اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔
اسلام بنیادی طور پر زندگی کا پیغام ہے اور امن و استحکام کے بغیر زندگی کا قائم رہنا ممکن نہیں۔
جاہلیت کے ہاتھوں امن کے چھن جانے کا سانحہ
اسلام کے امن اور اطمینان کے ساتھ گہرے تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے کے عمومی حالات پر ایک مختصر نظر ڈالیں اور یہ سوال کریں کہ اس وقت معاشرے کی مجموعی صورتِ حال کیا تھی؟
جاہلیت کے دور اور اس زمانے میں انسان کی زندگی کی عمومی تصویر ایک تاریک منظر پیش کرتی ہے ، ایک ایسا منظر جس میں باہم دشمنی رکھنے والے اور آپس میں لڑنے والے قبائل موجود تھے، جو معمولی معمولی باتوں پر ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جاتے تھے۔ یہ ایسے انسان کی تصویر تھی جس کی عزت و حرمت پامال ہو چکی تھی جسے دن دہاڑے لوٹا جاتا، قتل کیا جاتا اور غلام بنا لیا جاتا تھا۔ انسان اپنی زندگی کے ہر پہلو میں امن و تحفظ سے محروم تھا بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی وہ شدید محرومی کا شکار تھا۔ اس پستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسوقت کا جاہل انسان اخلاقی زوال کی اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں اور لونڈیوں کو خواہ وہ پاک دامنی اور عفت اختیار کرنا چاہتی ہوںمعمولی اور گھٹیا مالی فائدے کے حصول کے لیے بدکاری پر مجبور کرتا تھا جیسا کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے:
﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ النور: 33
اور تمہاری جوان لونڈیاں اگر پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تو انہیں دنیاوی زندگی کے متاع کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو ۔
معاشرتی سطح پر بھی کوئی امن موجود نہیں تھا کیونکہ طبقاتی تفریق، غلامی، رشتہ داریوں کا توڑنا اور معصوم بچیوں کو زندہ دفن کر دینا اس معاشرے کی نمایاں حقیقتیں تھیں۔ اسی طرح معاشی میدان میں بھی امن و اطمینان کا فقدان تھاکیونکہ بدترین قسم کا سود، جوا، ناجائز طریقے سے مال کھانا اور غلاموں کی خرید و فروخت اس دور کے عربوں کی معروف تجارت میں شامل تھا۔ ان سب سے بڑھ کر روحانی اعتبار سے بھی کوئی امن حاصل نہیں تھا کیونکہ بتوں اور پتھروں کی عبادت انسان کو نہ روحانی تحفظ فراہم کر سکتی تھی اور نہ ایسا اندرونی سکون دے سکتی تھی جس سے اس کا دل مطمئن ہو۔ آخر وہ عرب ان بتوں سے کون سا روحانی امن حاصل کر سکتا تھا جنہیں اس نے محض تجارت کا ذریعہ بنا لیا تھا؟ بلکہ اس کی عقل سے دوری اور خودفریبی کی کیفیت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ کبھی کبھی وہ کھجوروں سے اپنا معبود بنا لیتا، پھر جب بھوک لگتی تو اسی معبود کو کھا جاتا!
اسی تاریک، خوف زدہ اور جہالت کے بادلوں میں گھرے ہوئے ماحول میں رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت ہوئی۔ آپ ﷺ کی بعثت اور بابرکت دعوت کو ابھی پچیس سال بھی مکمل نہ ہوئے تھے کہ آپ ﷺ نے ایک عظیم معجزہ رقم کر دکھایا۔آپ ﷺ نے ان بکھرے ہوئے، باہم لڑنے والے اور منتشر گروہوں کو ایک ایسی متحد امت میں تبدیل کر دیا جس کی اپنی مستقل شناخت اور اجتماعی وجود تھا، ایک ایسی امت جو باہمی تعلق، تعاون اور ہمدردی کے جذبے سے جڑی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے انسان کو اس کا کھویا ہوا اعتماد واپس دیا اور اس معاشرے میں ایک مضبوط اخلاقی نظام اور بلند انسانی اقدار کی بنیاد رکھی۔ پس اسلام حقیقتاً امن، سلامتی اور رحمت کا دین بن کر سامنے آیا۔
عرب یا دور جاہلیت کے انسان پر ہی موقوف امن کا مسئلہ درحقیقت ہر زمانے اور جگہ کے انسان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ کیونکہ امن انسان کی ایک فطری ضرورت ہے جو اس کی گہرائیوں میں رچی بسی ہوئی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے اندر امن کی طلب ایک فطری جذبے کے طور پر ہمیشہ موجود رہتی ہے اور وہ مسلسل یہ خواہش رکھتا ہے کہ زندگی امن، سلامتی اور اطمینان کے ساتھ گزارے۔ بہت سے لوگ اس عظیم نعمت کی قدر و اہمیت کو اس وقت تک محسوس نہیں کرتے جب تک وہ اس سے محروم نہ ہو جائیں اور خوف و بے چینی کی تلخی کا مزا نہ چکھ لیں۔ اسی حقیقت کی طرف رسولِ اکرم ﷺ کی اس حدیثِ مبارک میں اشارہ ملتا ہے: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی قدر و قیمت سے لوگ غافل رہتے ہیں: امن اور صحت و عافیت۔ (روضۃ الواعظین، فتّال نیشابوری، وفات 508ھ، ص 472)
اسلام… امن و سلامتی کا مکمل نظام
نبی اکرم ﷺ نے یہ امن کا یہ عظیم معجزہ کس طرح برپا کیا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی اس شدید اور فطری ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے جو وہ زندگی کے ہر پہلو میں امن و تحفظ کے حصول کے لیے محسوس کرتا ہے، اسلام نے اپنے تمام احکام، عقائد اور تصورات میں اسی مقصد کو پیشِ نظر رکھا کہ تمام انسانوں کے لیے یہ ضرورت پوری کی جا سکے۔ چنانچہ اسلام کا پیغام مکمل طور پر انسانی فطرت کی امنگوں سے ہم آہنگ تھا اور اس کی تمام بنیادی ضروریات کو پورا کرنے والا تھا۔
ذاتی اور معاشرتی زندگی کے امن و تحفظ کے میدان میں اسلام نے ہر اس عمل کو سختی کے ساتھ حرام قرار دیا جو اجتماعی نظم و ضبط کو نقصان پہنچاتا ہو۔ چنانچہ اسلام نے چوری، زیادتی، قتل اور ہر اس عمل کو ممنوع قرار دیا جو لوگوں کے سکون و اطمینان میں خلل ڈالے یا انہیں اذیت و پریشانی میں مبتلا کرے۔ اس طرح اسلام نے ایک ایسی سازگار اور پاکیزہ بنیاد فراہم کی جس پر معاشی ترقی کی سرگرمیاں فروغ پا سکیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ﴾، النحل: 112
اور اللہ ایسی بستی کی مثال دیتا ہے جو امن سکون سے تھی، ہر طرف سے اس کا وافر رزق اسے پہنچ رہا تھا۔
اگر معاشرے کے افراد میں خوف اور دہشت پھیلی ہوئی ہوتو اقتصادی اعتبار سے کسی بھی صورت میں استحکام ممکن نہیں ہو سکتا ۔ اسی لیے مذکورہ آیتِ کریمہ امن کو نظر انداز کرنے کے انجام کو واضح کرتے ہوئے مزید بیان کرتی ہے:﴿ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ﴾ النحل: 112
پھر اس نے اللہ کی نعمات کی ناشکری شروع کی تو اللہ نے ان کی حرکتوں کی وجہ سے انہیں بھوک اور خوف کا ذائقہ چکھا دیا۔
پس ان کے برے اعمال، ان کی گمراہی اور معاشرے کے استحکام کے اصولوں کی پاسداری نہ کرنے کے باعث ان سے امن کی نعمت چھین لی گئی۔معاشرتی سطح پر اسلام نے ہر اس عمل کی بھرپور ترغیب دی جو معاشرے کے رشتوں کو مضبوط کرنے اور باہمی اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کا سبب بنتا ہے، جیسے صلہ رحمی، بھائیوں اور دوستوں سے ملاقات، پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت، بیماروں کی عیادت اور اہلِ ایمان کے جنازوں میں شرکت۔ اس کے مقابلے میں اسلام نے ہر اس رویے کو مسترد کیا جو باہمی نفرت، دشمنی، اختلافات میں اضافہ اور دوسروں سے تعلقات کے پل توڑنے کا باعث بنتا ہے۔ چنانچہ غیبت، چغلی، فساد پھیلانا، تکبر، لوگوں پر زیادتی کرنا اور انہیں اذیت و پریشانی میں مبتلا کرنا حرام قرار دیا گیا۔
اخلاقی امن کے میدان میں اسلام نے معاشرے کو اندرونی طور پر مضبوط اور محفوظ بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم کی۔ اسلام نے اس بات کو واضح کیا کہ سچائی اور امانت داری حقیقی ایمان کی پہچان ہیں اور انہی دونوں صفات کی روشنی میں انسان کی حقیقی دینداری کو پرکھا جاتا ہے۔ جیسا کہ امام صادقؑ سے روایت ہے: (لا تغتروا بصلاتهم ولا بصيامهم، فإنّ الرجل ربما يلهج بالصلاة والصوم حتى لو تركه استوحش ولكن اختبروهم عند صدق الحديث وأداء الأمانة) الكافي ج ٢ ص ١٠٤
ان لوگوں کی نمازوں اور روزوں سے دھوکا نہ کھاؤکیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان نماز اور روزے کا اس قدر عادی ہو جاتا ہے کہ اگر وہ انہیں چھوڑ دے تو اسے بے چینی محسوس ہونے لگتی ہےلیکن تم انہیں سچ بولنے اور امانت ادا کرنے کے معاملے میں آزماؤ۔ (الکافی، ج 2، ص 104)
اسلام نے ہر اس عمل کو حرام قرار دیا جو عمومی اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔ چنانچہ اس نے ناجائز تعلقات، بدکاری، جنسی بے راہ روی، جھوٹ اور بدعہدی سے منع کیا۔ یہ ہرگز کوئی اتفاقیہ بات نہیں تھی کہ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی عظیم رسالت کا خلاصہ ایک مختصر مگر جامع کلمے میں بیان فرمایا، جو آپ ﷺ سے منقول ہے اور وہ یہ ہے: (إنّما بُعثت لأُتَمِّمَ مكارم الأخلاق) بے شک مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ (مکارم الاخلاق، طبرسی، ص 8)
معاشی سطح پر بھی یہی حقیقت واضح طور پر نظر آتی ہے۔ اسلام نے اپنے معاشی قوانین اور نظام میں مادی استحکام پیدا کرنے اور طبقاتی و معاشرتی فاصلے کم کرنے کو بنیادی مقصد قرار دیا۔ اسی لیے اس نے زکوٰۃ اور خمس کا حکم دیا، نیکی اور صدقہ و خیرات کی ترغیب دی جبکہ سود، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز طریقوں سے مال کھانے کو حرام قرار دیا تاکہ معاشروں میں ایک متوازن اقتصادی استحکام قائم ہو سکے۔ کیونکہ بلا شبہ غربت طبقاتی تقسیم کو جنم دیتی ہے اور طبقاتی تفاوت دشمنی، کینہ اور باہمی تصادم کا سبب بنتا ہے۔اسی طرح صحت، خوراک اور ماحول کے میدان میں بھی یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے واضح ہوتا ہے:﴿فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ ﴿۳﴾الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾ قريش: 4
چاہیے تھا کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں،۴۔ جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے انہیں امن دیا۔
اور یہی حقیقت رسولِ اکرم ﷺ کی اس حدیثِ مبارک میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے:( من أصبح معافى في جسده آمناً في سربه، عنده قوت يومه فكأنّما حيزت (خيرت) له الدنيا) (الخصال للصدوق ص ١٦١، والأمالي ص ٤٦٩)
جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحت مند ہو، وہ اپنے گھر اور جان کے اعتبار سے امن میں ہو اور اس کے پاس اس دن کی ضروری خوراک موجود ہوتو گویا پوری دنیا اسے عطا کر دی گئی ہے۔ اس حدیث سے غور کرنے والا شخص محسوس کر سکتا ہے کہ امن کے تین بنیادی اور اہم پہلوؤں کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہے، اور وہ یہ ہیں: صحت کا امن، زندگی کا امن اور غذائی امن۔
امن… معیشت و عبادت سے پہلے بنیادی ضرورت
اسلامی نقطۂ نظر میں ذاتی اور عمومی زندگی کے امن و تحفظ کو نہایت بنیادی اور انتہائی اہم مقام حاصل ہے، یہاں تک کہ یہ خالص معاشی معاملات پر بھی مقدم قرار پاتا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نبی حضرت ابراہیمؑ نے مکہ اور اس کے باشندوں کے لیے اپنی خلوص بھری دعا میں رزق کی طلب سے پہلے امن و سلامتی کی دعا کی،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ﴾ البقرة: 126
اور (وہ وقت یاد رکھو) جب ابراہیم نے دعا کی: اے رب! اسے امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور روز قیامت پر ایمان لائیں انہیں ثمرات میں سے رزق عنایت فرما،
اس طرح واضح ہوتا ہے کہ امن عبادت پر بھی مقدم ہےکیونکہ جب لوگوں میں انتشار، خوف اور دہشت پھیلی ہوئی ہو تو انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح نہیں کر سکتا جس طرح خشوع و خضوع کے ساتھ کرنی چاہیے۔ اسی لیے قرآنِ کریم ہمیں اس مثالی اور بہترین معاشرے کی تصویر دکھاتا ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں سے کیا ہے اور اس میں خالص عبادت کے لیے امن کو ایک بنیادی شرط کے طور پر پہلے بیان کیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ النور: 55
اسے پائدار ضرور بنائے گا اور انہیں خوف کے بعد امن ضرور فراہم کرے گا، وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس کے بعد بھی جو لوگ کفر اختیار کریں گے پس وہی فاسق ہیں۔
لیکن یہ سب کچھ انسان کی امن کی بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں تھا، جب تک کہ اس کے ساتھ امن دوسرے اعلی درجے کا انتظام نہ کیا جاتا جس کی انسان شدت سے خواہش رکھتا ہے، اور وہ ہے یعنی روحانی اور نفسیاتی امن۔ کیونکہ انسان اگرچہ ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہا ہو جہاں اسے زندگی کا تحفظ حاصل ہو، سماجی تعلقات مضبوط ہوں، معاشی خوش حالی میسر ہو اور اخلاقی اعتبار سے بھی وہ مضبوط ہو، پھر بھی یہ سب اپنی اہمیت کے باوجود اسے اندرونی روحانی سکون اور قلبی اطمینان عطا نہیں کر سکتے۔ کیا ہم آج کی دنیا میں یہ نہیں دیکھتے کہ بعض لوگ، جو مادی آسائشوں اور زندگی کی فراوانیوں سے بھرپور زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، پھر بھی خودکشی کر کے اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں؟ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ یہ ظاہری اور کھوکھلی مادی خوش حالی انہیں حقیقی اندرونی سکون اور اطمینان فراہم نہیں کر سکی۔ روحانی امن صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے رجوع کرنے اور اس کے ذکر کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ الرعد: 28
(یہ لوگ ہیں) جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دل یادِ خدا سے مطمئن ہو جاتے ہیں یاد رکھو! یاد خدا سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔
اسی لیے اسلام میں عبادات کا پورا نظام، جس میں نماز، روزہ، دعا اور دیگر عبادات شامل ہیں دراصل ایسے ذرائع اور وسائل ہیں جن کا مقصد انسان کو روحانی اطمینان اور قلبی سکون تک پہنچانا ہے۔ روشن حقیقت یہ ہے کہ مادی امن کی دوسری صورتیں اس وقت تک اپنی بہترین اور مکمل شکل میں قائم نہیں ہو سکتیں جب تک انہیں روحانی امن کی حفاظت اور اس کی مضبوط بنیاد نہ ہو۔
ایمان اور امن کا گہرا تعلق
یہ گہرا تعلق ہمیں ایک اہم قرآنی اور وجودی حقیقت کے سامنے لا کھڑا کرتا ہےاور وہ یہ ہے کہ ہر سطح پر پایا جانے والا مکمل امن دراصل ایمان اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے ہی ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ﴾( الانعام: 82 )جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے ملوث نہیں کیا یہی لوگ امن میں ہیں اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔
اسی لیے جب بھی آپ دیکھیں کہ کوئی معاشرہ سماجی، معاشی، اخلاقی اور روحانی اعتبار سے مستحکم ہے تو یقین رکھیں کہ وہ ایک صاحبِ ایمان معاشرہ ہے اور امام حسینؑ کے راستے پر گامزن ہے۔ اور جب کوئی معاشرہ سماجی طور پر بے چینی اور انتشار کا شکار ہو، جہاں انسان روحانی اضطراب، اخلاقی بے راہ روی، جرائم اور اخلاقی زوال میں مبتلا ہو تو یہ اس بات کی خطرناک علامت ہے کہ اس معاشرے سے ایمان رخصت ہو چکا ہے، چاہے اس کے افراد نماز پڑھتے ہوں، روزے رکھتے ہوں، امام حسینؑ پر گریہ کرتے ہوں اور اپنے گھروں میں مجالس بھی منعقد کرتے ہوں۔ جس معاشرے میں بے چینی، خوف، جرم، چغلی، غیبت اور کینہ عام ہو، آخر وہ کس طرح ایک حقیقی مؤمن معاشرہ کہلا سکتا ہے؟
اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی عقیدہ کوئی محض ذہنی اور تجریدی نظریہ یا جامد تصور نہیں بلکہ یہ ایک زندہ اور متحرک عقیدہ ہے جو دل اور احساسات کو زندگی عطا کرتا ہے، عقل اور فکر کو بھی مطمئن کرتا ہے، اور انسان کی زندگی میں امن و اطمینان پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ اللہ پر ایمان انسان کو سکون، سلامتی اور استحکام عطا کرتا ہے اور یہی کیفیت ایمان بالمعاد کے ذریعے بھی حاصل ہوتی ہے۔ ایک صحیح عقیدے کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسان کو زندگی کے بڑے اور بنیادی سوالات، جو اس کے دل و دماغ کو مسلسل بے چین رکھتے ہیں کے ایسے اطمینان بخش جوابات فراہم کرے جو یقین اور اطمینان کا باعث بنیں۔
اسی طرح عبادات کا معاملہ بھی ہے اگر آپ کی نماز آپ کو روحانی سکون، خاندانی استحکام اور معاشرتی امن عطا نہیں کرتی تو وہ صرف نماز کا نام ہے، نماز کی حقیقی روح نہیں۔ کیونکہ حقیقی نماز وہ ہے جس میں دل کی کیفیت جسم کی حرکات کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ﴾ (الحديد: 16) کیا مومنین کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر خدا سے نرم ہو جائیں
ہمیں سب سے پہلے اللہ کے ساتھ حقیقی امن اور تعلق کی کیفیت میں زندگی گزارنی چاہیےتاکہ ہم اپنے آپ کے ساتھ بھی سکون اور اطمینان کے ساتھ رہ سکیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ بھی امن و محبت کا برتاؤ کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو ہمیں اپنی ذات کے لیے بھی امن عطا کرتی ہے اور ہمارے معاشرے کے لیے بھی سلامتی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر تم نے اللہ کے ساتھ امن و اطمینان کا تعلق قائم کر لیا تو یہی تمہارے لیے کافی ہے۔ اور سیدنا ابا عبد اللہ الحسینؑ نے عمرو بن سعید کے اس خط کے جواب میں، جس میں اسے دنیاوی امان کی پیشکش کی گئی تھی، فرمایا (فخير الأمان أمان الله ولن يُؤْمِنَ اللهُ يومَ القيامة من لم يخفْ في الدنيا، ونسأل الله مخافة في الدنيا توجب لنا أمانه يوم القيامة) سب سے بہترین امان اللہ کی امان ہے اور قیامت کے دن اللہ اس شخص کو امن عطا نہیں کرے گا جو دنیا میں اس سے خوف نہ رکھتا ہو۔ ہم اللہ سے دنیا میں ایسا خوف مانگتے ہیں جو ہمیں قیامت کے دن اس کی امان کا مستحق بنا دے۔ (تاریخ الطبری، ج 4، ص 292)
امت میں امن کے حفاظتی ستون
انسان کو امن کی شدید ضرورت ہے اسلام نے مذکورہ امور کے علاوہ انسان کی زندگی میں بہت سے حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور امن کو پرموٹ کیا ہے جو اسے خوف اور گمراہی کی کھائیوں میں گرنے سے محفوظ رکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں:
اول: محفوظ مقام : اس حوالے سے ہمارے سامنے مکہ مکرمہ کی مثال آتی ہے، جو امن و سلامتی کا ایک ایسا مرکز ہے جہاں انسان ہی نہیں بلکہ جانور اور پرندے بھی امن پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا ﴾ (البقرة: 125) اور (وہ وقت یاد رکھو) جب ہم نے خانہ (کعبہ) کو مرجع خلائق اور مقام امن قرار دیا۔
یہی خواہش اللہ کے برگزیدہ نبی حضرت ابراہیم خلیلؑ کی بھی تھی جب انہوں نے اپنے رب سے دعا کرتے ہوئے عرض کیا:﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ البقرة: 126
اور (وہ وقت یاد رکھو) جب ابراہیم نے دعا کی: اے رب! اسے امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور روز قیامت پر ایمان لائیں انہیں ثمرات میں سے رزق عنایت فرما۔ اور ایک دوسری آیت میں:﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ﴾ (إبراهيم: 35) اور (وہ وقت یاد کیجیے) جب ابراہیم نے دعا کی: میرے رب! اس شہر کو پر امن بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا ۔
امام حسینؑ اس امن والے شہر کی حرمت کا کس قدر خیال رکھتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپؑ مکہ سے اس خوف کی وجہ سے روانہ ہوئے کہ کہیں اس مقدس مقام کی بے حرمتی نہ ہو اور وہیں آپؑ کو قتل نہ کر دیا جائے۔
دوم: محفوظ زمان: اسلام نے بعض اوقات کو بھی امن کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ان میں حرمت والے مہینے شامل ہیں جن میں جنگ و قتال کو ممنوع قرار دیا گیاتاکہ جنگجوؤں کو آرام کا موقع ملے اور لوگ امن و تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اسی طرح ماہِ رمضان بھی ایسا بابرکت مہینہ ہے جو انسان کے لیے روحانی، سماجی اور معاشی امن کے قیام میں کردار ادا کرتا ہے۔ اس عظیم مہینے کی سب سے بڑی رات لیلۃ القدر ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے:﴿سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ﴾ (القدر: 5 ) یہ رات طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے۔
سوم: وہ انسان جو امن و امان کا مظہر ہو: اس مقام پر سب سے پہلے معصومؑ ہستی آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسولوں اور ائمہؑ کی طرف ہماری گہری ضرورت کا راز بھی یہی ہےکیونکہ معصومؑ صرف ایک حاکم یا سیاسی سربراہ نہیں ہوتا بلکہ اپنی رسالت، ذمہ داری اور ذات کے ذریعے انسانوں کے لیے پناہ گاہ، مضبوط قلعہ اور محفوظ حصار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: (النجوم أمان لأهل الأرض من الغرق وأهل بيتي أمان لأمتي من الاختلاف، فإذا خالفتها قبيلة من العرب اختلفوا فصاروا حزب إبليس) ستارے اہلِ زمین کے لیے غرق ہونے سے امان کا ذریعہ ہیں اور میرے اہلِ بیت میری امت کے لیے اختلاف سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ پس عرب کے جس قبیلے نے بھی ان کی مخالفت کی وہ اختلاف میں مبتلا ہو گیا اور شیطان کے گروہ میں شامل ہو گیا۔ (المستدرک للحاکم، ج 3، ص 129)
اور آپ ﷺ ہی سے ایک اور روایت بھی منقول ہے: (النجوم أمان لأهل السماء فإن طمست النجوم أتى السماء ما يوعدون، وأنا أمان لأصحابي فإذا قُبضت أتى أصحابي ما يوعدون، وأهل بيتي أمان لأمتي فإذا ذهب أهل بيتي أتى أمتي ما يوعدون)
ستارے اہلِ آسمان کے لیے امان کا ذریعہ ہیں؛ پس جب ستارے مٹا دیے جائیں گے تو آسمان پر وہ چیز آ جائے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اور میں اپنے اصحاب کے لیے امان ہوں؛ پس جب مجھے اٹھا لیا جائے گا تو میرے اصحاب پر وہ چیز آ جائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اور میرے اہلِ بیت میری امت کے لیے امان ہیں۔ پس جب میرے اہلِ بیت نہ رہیں گے تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی جس کا اس سے وعدہ کیا گیا ہے۔ (المستدرک للحاکم، ج 3، ص 457)
سیدہ حضرت فاطمہ زہراءؑ نے بھی اپنے مشہور خطبے میں اسی مفہوم کی وضاحت فرمائی ہے: (جعل الله الإيمان تطهيراً من الشرك... وإمامتنا أماناً من الفرقة) اللہ تعالیٰ نے ایمان کو شرک سے پاکیزگی کا ذریعہ قرار دیا... اور ہماری امامت کو تفرقے اور اختلاف سے امان کا سبب بنایا۔ (بحار الأنوار، ج 29، ص 223)
اور امیر المؤمنین حضرت علیؑ نے اس کردار کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: زمین پر اللہ کے عذاب سے بچانے والے دو امان کے ذریعے تھے۔ ان میں سے ایک اٹھا لیا گیا اور وہ رسولِ اکرم ﷺ تھے۔ اب دوسرے کو مضبوطی سے تھام لو اور وہ استغفار ہے۔ پھر آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت فرمائی: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ (الانفال: 33) اور اللہ ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا جب تک آپ ان کے درمیان موجود ہیں اور نہ ہی اللہ انہیں عذاب دینے والا ہے جب وہ استغفار کر رہے ہوں۔
یہی رسولِ اکرم ﷺ اور اہلِ بیتؑ کے ائمہ کا بنیادی اور نہایت اہم کردار ہے۔ ان کا اصل مقصد صرف ظاہری اور دنیوی حکومت کا منصب سنبھالنا نہیں تھا، اگرچہ وہ دوسروں کی نسبت اس کے زیادہ حقدار تھے بلکہ ان کا بنیادی کردار یہ تھا کہ وہ روحانی اور فکری مرجعیت کا سرچشمہ بنیں؛ ایسی مرجعیت جو پوری انسانیت کے لیے امن، سلامتی اور تحفظ کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔
واقعی افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے موجودہ دینی بیانیے میں ہم اہلِ بیتؑ کی زمانی اور سیاسی مرجعیت پر تو زیادہ توجہ دیتے ہیں لیکن ان کی روحانی اور علمی امامت کو اتنی اہمیت نہیں دیتے۔ اسی وجہ سے ہم رسولِ اکرم ﷺ کے بعد خلافت کے لیے ان کی اہلیت اور حقانیت ثابت کرنے کے حوالے سے ایک طویل تاریخی بحث میں الجھ جاتے ہیں اور اس موضوع پر دسیوں بلکہ سینکڑوں کتابیں اور ضخیم جلدیں تحریر کرتے ہیں۔ کاش ہم اپنی اسی محنت اور کوشش کا کچھ حصہ اس عظیم علمی اور روحانی مرجعیت کو واضح کرنے میں بھی صرف کرتے جو بھٹکے ہوئے انسانوں کے لیے ہدایت اور روشنی کا راستہ دکھاتی ہے۔ بلاشبہ ظاہری اور دنیوی حکومت کا حق بھی ان کا ایک بنیادی حق تھالیکن انہوں نے اسے کبھی اپنی ذات کے لیے مقصد نہیں بنایابلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس کے ذریعے امت کے لیے امن قائم کریں اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کو فروغ دیں۔ جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت علیؑ اپنی غرض و مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اللهم إنّك تعلم أنّه لم يكن الذي كان منّا منافسةً في سلطان ولا التماسَ شيء من فُضُول الحُطام ولكن لنرد المعالم من دينك ونظهرَ الإصلاح في بلادك فيأمنَ المظلمون من عبادِك وتُقامَ المُعَطَّلَةُ من حدودِكنهج البلاغة، ج٢ ص١٣..
اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ جو کچھ ہماری طرف سے ہوا، وہ نہ حکومت و اقتدار حاصل کرنے کی حرص کے لیے تھا اور نہ دنیاوی مال و متاع کی کسی معمولی چیز کے حصول کی خواہش کے لیے؛ بلکہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ ہم تیرے دین کی نشانیوں کو دوبارہ زندہ کریں، تیرے شہروں میں اصلاح قائم کریں، تاکہ تیرے مظلوم بندے امن و امان حاصل کر سکیں اور تیرے وہ احکام و حدود جو معطل کر دیے گئے ہیں، دوبارہ قائم کیے جا سکیں۔ (نہج البلاغہ، ج 2، ص 13) حضرت علیؑ لوگوں کے لیے امن و امان کا مضبوط حصار اور حفاظتی سہارا تھے اور یہی کردار اہلِ بیتؑ کے تمام ائمہ کا بھی ہے۔
حسینؑ… چراغِ ہدایت اور امن کی تحریک
امام حسینؑ بھی انہی عظیم ائمہ میں سے ہیں جنہوں نے اس حقیقت کو اپنی بہترین صورت میں عملی طور پر پیش کیا۔ آپؑ اپنی تحریک اور قیام کے عروج پر بھی لوگوں کے لیے امن و امان کا مضبوط سہارا اور حفاظتی حصار تھے۔ اسی حقیقت کی طرف حدیثِ مبارک میں واضح طور پر اشارہ کیا گیا ہے: (الحسين مصباحُ الهدى وسفينةُ النَّجاة) حسینؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں۔ (عیون اخبار الرضاؑ، ج 1، ص 62) کیونکہ چراغ ہی وہ چیز ہے جو انسان کو روشنی فراہم کرتا ہے تاکہ وہ تاریک راستے میں ٹھوکر کھانے اور بھٹکنے سے محفوظ رہے اور کشتی ہی وہ ذریعہ ہے جو اسے استحکام، امن اور لہروں کے اتار چڑھاؤ اور طوفانی خطرات سے نجات عطا کرتی ہے۔ اسی لیے امام حسینؑ کی تحریک ہرگز فتنہ، فساد یا امت کو تقسیم کرنے والی کوئی جدوجہد نہیں تھی جیسا کہ بعض لوگ اسے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود امام حسینؑ نے اپنے قیام کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: میں نہ سرکشی، خود پسندی، فساد پھیلانے یا ظلم کرنے کے لیے نکلا ہوں، بلکہ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔عمرو بن سعید کے نام اپنے خط میں بھی امام حسینؑ نے اسی حقیقت کی تاکید فرمائی:
أمّا بعد فإنّه لم يشاققِ الله من دعا إلى الله وعمل صالحاً وقال:
اما بعد! جو شخص اللہ کی طرف دعوت دے، نیک عمل کرے اور یہ کہے کہ:﴿ وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴾( فصلت ۳۳) اور اس شخص کی بات سے زیادہ کس کی بات اچھی ہو سکتی ہے جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا: میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
اگر ہم حسینی تحریک کے تمام نعروں پر غور و فکر کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ وہ سب خالص اسلامی تعلیمات پر مبنی نعرے تھے، جن کا مقصد انسانوں کے لیے خیر، بھلائی اور امن و سلامتی کا قیام تھا۔
اس زمانے میں جبکہ اموی کسروی طرزِ حکومت نے لوگوں سے ان کا امن، استحکام، باہمی اتحاد، اخلاقی اقدار اور روحانی کیفیت چھین لی تھی اور وہ امت کو تقریباً دوبارہ پہلی جاہلیت کے دور جیسے حالات کی طرف لے جا رہی تھی۔ایسے میں امام حسینؑ نے اپنے قیام اور عظیم قربانی کے ذریعے یہ چاہا کہ لوگوں کو اس کھوئے ہوئے امن کا کچھ حصہ دوبارہ واپس مل سکے۔جیساکہ آپؑ نے اہلِ بصرہ کے نام اپنے بلیغ خط میں فرمایا: (فإنّ السنة قد أُميتت والبدعة قد أحييت فإن تسمعوا قولي أهدكم سبيل الرشاد) پس بے شک سنت کو مٹا دیا گیا ہے اور بدعت کو زندہ کر دیا گیا ہے۔ اگر تم میری بات سنو تو میں تمہیں ہدایت اور درست راستے کی طرف رہنمائی کروں گا۔ (الکامل فی التاریخ، ج 4، ص 23)