شیخ معتصم السید أحمد
اسلامی دنیا کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس سوالوں کے جوابات نہیں، نہ یہ کہ اسلام علم و حکمت کے خزانے سے خالی ہے، اور نہ ہی یہ کہ قرآن آج کے انسان کے فکری، روحانی اور زندگی کے بڑے مسائل کا حل پیش نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس ہر سوال کا جواب، مضبوط دلائل، اور ایک عظیم علمی ورثہ موجود ہے۔ لیکن اکثر ہم ان حقائق کو ایسے انداز میں پیش نہیں کر پاتے جو لوگوں کے دل و دماغ پر اثر ڈال سکے۔ ہمارے پاس سچائی ہے، مگر کبھی ہمارے پیش کرنے کا انداز اس کی خوبصورتی اور تاثیر کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ ہمارے پاس قرآن کی روشن ہدایات ہیں، مگر ہم انہیں صرف پڑھنے یا یاد رکھنے تک محدود کر دیتے ہیں، انہیں ایسی بصیرت اور شعور میں تبدیل نہیں کر پاتے جو انسان کی سوچ بدل دے اور اس کی زندگی کو روشنی عطا کرے۔ اسی طرح ہمارا عظیم علمی ورثہ بھی کئی بار صرف کتابوں اور یادداشتوں تک محدود رہ جاتا ہے، حالانکہ اس کا مقصد انسان کے اندر زندہ شعور پیدا کرنا اور اسے صحیح راستہ دکھانا ہے۔
اسی لیے آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم صرف "شبہات کا ردّ" کرنے کے بجائے "بصیرت پیدا کرنے" کو اپنا مقصد بنائیں۔ کیونکہ ہر سوال اٹھانے والا دین کو ردّ کرنا نہیں چاہتا، ہر شبہے کا جواب صرف سوال کرنے والے کو خاموش کر دینے میں نہیں ہوتا، اور نہ ہی کامیاب دعوت تبلیغ وہ ہے جو محض مخالف کو دلیل سے لاجواب کر دے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ جواب انسان کے دل و دماغ میں شعور بیدار کرے، دلیل اس کے لیے ہدایت کی روشنی بن جائے، اور علم صرف معلومات کا ذخیرہ نہ رہے بلکہ اس کی سوچ، کردار اور زندگی کا حصہ بن کر اسے حق کو پہچاننے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی قوت عطا کرے۔
قرآنِ کریم نے اپنے آپ کو کبھی محض اعتراضات کا جواب دینے یا مناظرے جیتنے والی کتاب کے طور پر پیش نہیں کیا، بلکہ وہ انسان کو ہدایت دینے، اس کے دل و دماغ کو روشن کرنے اور اس کے اندر بصیرت پیدا کرنے والی کتاب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (هَذَا بَصَائِرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ) "یہ تمام انسانوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور اہلِ یقین کے لیے رحمت ہے۔" ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا (قَدْ جَاءَكُم بَصَائِرُ مِن رَّبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا) تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بصیرت کی روشن نشانیاں آ چکی ہیں، اب جو دیکھے گا وہ اپنا ہی فائدہ کرے گا، اور جو اندھا بنے گا اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ بصیرت محض معلومات کا مجموعہ، چند جوابات کا ذخیرہ، یا اعتراضات کے ردّ میں یاد کیے ہوئے دلائل کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ باطنی روشنی، پختہ شعور اور صحیح فہم ہے جو انسان کو اپنی حقیقت، اپنی ذمہ داری اور اپنے رب سے تعلق کا احساس دلاتی ہے، حق اور باطل میں واضح فرق کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے، اور اسے صرف سوالات کے ظاہری الفاظ نہیں بلکہ ان کے پس منظر، اسباب اور اصل جڑ کو سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔ یہی بصیرت انسان کو وقتی شبہات سے محفوظ رکھتی ہے اور اسے یقین، اطمینان اور استقامت کے ساتھ حق پر قائم رہنے کی قوت عطا کرتی ہے۔
اسی لیے جب اسلامی دعوت و خطاب کا سارا زور صرف شبہات کے ردّ پر رہ جاتا ہے تو وہ بظاہر کسی بحث میں کامیاب ضرور ہو سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ایک صاحبِ بصیرت انسان بھی تیار کر دے۔ وہ کسی اعتراض کا جواب دے سکتا ہے، مگر اس فکری بے چینی اور قلبی اضطراب کو دور نہیں کر سکتا جس نے اس اعتراض کو جنم دیا تھا۔ وہ کسی دلیل کو باطل ثابت کر سکتا ہے، مگر اُس اندرونی خلا، کمزور یقین اور معنویت کی کمی کا علاج نہیں کرتا جس کی وجہ سے وہ شبہ انسان کے دل میں جگہ بنا سکا۔ اس کے برعکس بصیرت کی تعمیر کا مقصد محض سوالوں کے جواب دینا نہیں، بلکہ انسان کی سوچ کو سنوارنا، اس کے یقین کو مضبوط کرنا اور اس کی نگاہ کو اتنا روشن کرنا ہے کہ وہ خود حق کو پہچاننے کے قابل ہو جائے۔ یہ صرف یہ نہیں کہتی کہ "یہی صحیح جواب ہے"، بلکہ یہ انسان کو اس جواب کی حکمت، اس کی سچائی، اس کی عقلی و فطری بنیاد، اور اس کا اپنی زندگی، اپنے ایمان، اپنے انجام اور اپنی ذمہ داری سے تعلق بھی سمجھاتی ہے۔ جب یہ بصیرت پیدا ہو جاتی ہے تو انسان صرف یاد کیے ہوئے جوابات پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ اس کے اندر ایسا شعور بیدار ہو جاتا ہے جو ہر نئے سوال، ہر نئے شبہے اور ہر نئے فتنے کے سامنے بھی اسے حق پر ثابت قدم رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کے بعض اسلامی خطابات میں تین بنیادی مسائل نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ پہلا یہ کہ دین کو ایک زندہ اور رہنمائی کرنے والے نظامِ حیات کے بجائے محض چند تیار شدہ جوابات تک محدود کر دیا گیا ہے۔
دوسرا یہ کہ ہر سوال کو مخالفت، ہر شبہے کو بغاوت، اور ہر سوال کرنے والے کو دشمن سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ بہت سے سوالات حق کی تلاش، یقین کی خواہش اور فکری اطمینان کی جستجو سے جنم لیتے ہیں۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات اور انسان کی عملی زندگی کے درمیان وہ مضبوط تعلق قائم نہیں ہو پاتا جس کے ذریعے دین انسان کی سوچ، کردار اور فیصلوں کی رہنمائی کرے۔ یہ تمام کمزوریاں نہ دین میں کسی نقص کی علامت ہیں، نہ قرآن و سنت کے پیغام میں کسی کمی کی، بلکہ ان کا تعلق اس انداز سے ہے جس میں ہم حق کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دلیل نہایت مضبوط ہوتی ہے مگر اس کا بیان دلوں تک نہیں پہنچتا، جواب بالکل درست ہوتا ہے مگر وہ انسان کے اندر بصیرت اور یقین پیدا نہیں کرتا، اور نص موجود ہونے کے باوجود اس کی روشنی انسان کی زندگی، اس کے مسائل اور اس کے روزمرہ تجربات تک نہیں پہنچ پاتی۔ نتیجتاً انسان جواب تو سن لیتا ہے، لیکن اس کے دل میں وہ روشنی پیدا نہیں ہوتی جو اسے حق کو پہچاننے، اس پر مطمئن ہونے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنا دے۔
پہلا مسئلہ: دین کو جامد جوابات تک محدود کر دینا
اسلامی دعوت ِخطاب کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ بعض اوقات دین کو چند تیار شدہ اور یاد کیے ہوئے جوابات کے مجموعے تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ جب کوئی سوال سامنے آتا ہے تو انہی جوابات کو ہر موقع پر یکساں انداز میں پیش کر دیا جاتا ہے، گویا ہر سوال کا ایک ہی جواب کافی ہے۔ اس طرزِ فکر میں نہ سوال کی اصل نوعیت کو سمجھنے کی کوشش ہوتی ہے، نہ ان حالات اور اس فکری ماحول کو دیکھا جاتا ہے جس نے اس سوال کو جنم دیا، اور نہ ہی اس انسان کی کیفیت، ذہنی کشمکش اور زندگی کے تجربات کو سمجھا جاتا ہے جو یہ سوال پوچھ رہا ہے۔
یہ ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے، کیونکہ آج کا انسان صرف ایک سادہ سوال کے ساتھ نہیں جیتا، بلکہ وہ ہر لمحہ مختلف افکار، نظریات اور اثرات کے ہجوم میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایک طرف سائنس اور جدید فکر کی آوازیں ہیں، دوسری طرف میڈیا کا دباؤ، صارفیت کی ثقافت، شکوک کو فروغ دینے والے فلسفے، اور دین کی وہ تصویر ہے جو بعض سیاسی، سماجی اور تاریخی تجربات کے ذریعے اس کے ذہن میں بن چکی ہے۔ انہی متضاد اثرات کے درمیان وہ اللہ، قرآن، نبوت، عدل، عورت، آزادی، زندگی کے مقصد اور موت جیسے بنیادی سوالات کے جواب تلاش کرتا ہے۔
ایسے پیچیدہ پس منظر میں اگر اس کے سامنے صرف ایک مختصر، رٹا رٹایا یا پہلے سے تیار شدہ جواب رکھ دیا جائے تو ممکن ہے وہ علمی اعتبار سے بالکل درست ہو، مگر اس کے باوجود وہ اس کے دل کو مطمئن نہ کر سکے اور نہ ہی اس کی فکری الجھن کو دور کر سکے۔ کیونکہ انسان صرف جواب نہیں ڈھونڈتا، بلکہ وہ فہم، اطمینان اور یقین کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک کامیاب اسلامی دعوت ِ تبلیغ صرف صحیح جواب دینے پر اکتفا نہیں کرتی، بلکہ سوال کی جڑ تک پہنچتی ہے، سوال کرنے والے کے حالات کو سمجھتی ہے، اور حق کو اس انداز سے واضح کرتی ہے کہ وہ انسان کے عقل و دل دونوں کو روشن کر دے۔ یہی وہ جواب ہے جو معلومات سے آگے بڑھ کر بصیرت بن جاتا ہے۔
قرآنِ کریم نے کبھی انسان سے اس انداز میں گفتگو نہیں کی کہ وہ صرف چند خشک دلائل یا جامد معلومات اس کے سامنے رکھ دے۔ قرآن کا اسلوب ہمیشہ زندہ، بامعنی اور انسان کی پوری شخصیت سے ہم کلام ہونے والا ہے۔ وہ صرف عقل کو مخاطب نہیں کرتا، بلکہ دل کو نرم کرتا ہے، ضمیر کو جگاتا ہے، احساسات کو بیدار کرتا ہے اور فطرت کو آواز دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کا مقصد صرف یہ نہیں کہ انسان کسی حقیقت کو جان لے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اسے سمجھے، محسوس کرے، اس پر یقین کرے اور اپنی زندگی کا حصہ بنا لے۔
چنانچہ جب قرآن توحید کی دعوت دیتا ہے تو محض ایک عقیدہ بیان کرکے آگے نہیں بڑھ جاتا، بلکہ انسان کو اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ وہ فرماتا ہے: (أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَت وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ)کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کیسے پیدا کیا گیا؟ اور آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کس شان سے بلند کیا گیا؟
گویا قرآن توحید کو صرف ایک نظریہ بنا کر پیش نہیں کرتا، بلکہ انسان کی آنکھیں کھولتا ہے تاکہ وہ خود کائنات کی ہر نشانی میں اپنے خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کا مشاہدہ کرے۔اور جب قرآن آخرت کا ذکر کرتا ہے تو صرف ایمان لانے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ انسان کی عقل کو اس کی اپنی تخلیق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وہ فرماتا ہے: (وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي العِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ) وہ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی ہی پیدائش کو بھول جاتا ہے۔ کہتا ہے: بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ آپ کہہ دیجیے: انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا تھا۔
یوں قرآن انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ جس رب نے اسے عدم سے وجود بخشا، اس کے لیے دوبارہ زندہ کرنا ہرگز مشکل نہیں۔
اسی طرح جب قرآن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے تو انہیں صرف چند ظاہری احکام یا سماجی آداب کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ انہیں انسان کے باطن، اس کے نفس اور اس کی ابدی کامیابی سے جوڑ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا) یقیناً وہی کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اور وہی نامراد ہوا جس نے اسے آلودہ کر دیا۔اس طرح قرآن انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ اخلاق محض معاشرتی اصول نہیں، بلکہ انسان کے انجام، اس کی روحانی ترقی اور اللہ کے ہاں اس کی کامیابی کا بنیادی معیار ہیں۔یہی قرآن کا امتیاز ہے۔ وہ صرف جواب نہیں دیتا، شعور پیدا کرتا ہے۔ صرف دلائل نہیں دیتا، بصیرت عطا کرتا ہے؛ صرف معلومات نہیں بڑھاتا، بلکہ انسان کی نگاہ، فکر اور کردار کو بدل دیتا ہے۔ یہی وہ انداز ہے جو انسان کو وقتی شبہات کے جواب دینے کے بجائے، ہمیشہ کے لیے حق کو پہچاننے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کا مقصد صرف سوالوں کے جوابات دینا نہیں، بلکہ انسان کے اندر بصیرت اور شعور پیدا کرنا ہے۔ وہ انسان کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا درست ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ درست کو پہچانا کیسے جائے، سوچا کیسے جائے، حق و باطل میں امتیاز کیسے کیا جائے، اور زندگی کے ہر معاملے کو اللہ کی ہدایت کی روشنی میں کیسے دیکھا جائے۔ قرآن جزوی مسائل کو کلی اصولوں سے، احکام کو ان کی حکمت سے، اور اعمال کو انسان کے انجام سے جوڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن محض معلومات نہیں دیتا، بلکہ ایک ایسا زاویۂ نظر عطا کرتا ہے جو انسان کی فکر اور کردار دونوں کو بدل دیتا ہے۔
اسی لیے جب اسلامی خطاب جواب کو بصیرت سے، حکم کو حکمت سے، اور نص کو زندگی سے الگ کر دیتا ہے تو دین کی تاثیر کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اس کی وجہ دین کی کمزوری نہیں، بلکہ اس کا وہ اندازِ پیشکش ہے جو قرآن کی روح سے ہم آہنگ نہیں رہتا۔ الفاظ تو باقی رہتے ہیں، مگر ان کا اثر دلوں تک نہیں پہنچ پاتا۔امام جعفر صادقؑ کا یہ ارشاد اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے: (العالِمُ بِزَمانِهِ لا تَهجُمُ عَلَيهِ اللَّوابِسُ) "جو شخص اپنے زمانے کی صحیح پہچان رکھتا ہو، شبہات اسے پریشان نہیں کرتے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی عالم صرف نصوص کا حافظ نہیں ہوتا، بلکہ اپنے زمانے کے حالات، لوگوں کے سوالات اور ان کے فکری پس منظر کو بھی سمجھتا ہے۔ وہ شبہات کو اچانک پیدا ہونے والی باتیں نہیں سمجھتا، بلکہ ان کی جڑ تک پہنچتا ہے، ان کے اسباب کو پہچانتا ہے، اور ایسا جواب دیتا ہے جو صرف اعتراض کو خاموش نہیں کرتا، بلکہ انسان کے اندر شعور، یقین اور بصیرت پیدا کر دیتا ہے۔
دوسرا مسئلہ: ہر سوال کو دشمنی سمجھ لینا
دوسرا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بعض دین کی تبلیغ کرنے والے ہر سوال کو گویا ایک الزام، سوال کرنے والے کو ایک مخالف، اور فکری بے چینی کو بغاوت سمجھ لیتے ہیں ۔ حالانکہ یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے، کیونکہ ہر سوال دین کا دشمن نہیں ہوتا، بلکہ بہت سے سوال ایمان کی طرف جانے والے راستے کا پہلا قدم ہوتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جستجو کا آغاز ایک بے چین سوال سے کیا، مگر منزل گہرے یقین اور مضبوط ایمان پر جا کر ملی۔ اور کتنے ہی ایسے تھے جنہیں ڈانٹنے یا ردّ کرنے والے کی نہیں، بلکہ صبر سے سننے، سمجھنے اور رہنمائی کرنے والے کی ضرورت تھی۔
یہ درست ہے کہ بعض سوالات محض اعتراض، تمسخر یا انتشار پھیلانے کی نیت سے اٹھائے جاتے ہیں، اور کچھ شبہات کا مقصد حقیقت کی تلاش نہیں بلکہ ذہنوں میں الجھن پیدا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن غلطی اس وقت ہوتی ہے جب یہی معیار ہر سوال کرنے والے پر لاگو کر دیا جائے۔ اللہ کے عدل کے بارے میں سوال کرنے والا ہر نوجوان لازماً منکرِ خدا نہیں ہوتا، فقہ اور معاشرے میں اپنے مقام کے بارے میں پوچھنے والی ہر عورت دین سے بغاوت نہیں کر رہی ہوتی، اور ارتقاء، سائنس یا تاریخ پر سوال اٹھانے والا ہر طالبِ علم لازماً ملحد نہیں ہوتا۔ یہ سب ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو سچائی کی تلاش کے سفر میں ہوں۔ ایسے موقع پر سخت لہجہ انہیں دین سے دور کر سکتا ہے، جبکہ حکمت اور حسنِ اخلاق سے بھرپور گفتگو ان کے سوال کو بصیرت اور یقین کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔اسی لیے قرآنِ کریم نے ہمیں جذبات، سختی یا غصے کے ساتھ دعوت دینے کی تعلیم نہیں دی، بلکہ فرمایا:( ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ)
قابلِ غور بات یہ ہے کہ قرآن نے صرف "بحث کرو، دعوت دو" نہیں فرمایا، بلکہ "بہترین انداز سے بحث کرو، اور دعوت دیدو کا حکم دیا۔ گویا مطلوب صرف مضبوط دلیل نہیں، بلکہ دلیل پیش کرنے کا بہترین اسلوب بھی ہے۔ مقصد صرف مخالف کو خاموش کرنا یا بحث میں کامیاب ہونا نہیں، بلکہ انسان کے دل کو حق کے لیے کھولنا اور اسے ہدایت کے قریب لے جانا ہے۔اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ کے بارے میں فرمایا: (فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ)
یہ آیت دعوت و تبلیغ کا ایک عظیم اصول بیان کرتی ہے: صرف حق پر ہونا کافی نہیں، حق کو صحیح انداز سے پیش کرنا بھی ضروری ہے۔ ممکن ہے دلیل آپ کے پاس ہو، مگر اگر اس کے ساتھ سختی، درشتی اور تحقیر کا لہجہ شامل ہو جائے تو لوگ حق سے پہلے آپ سے دور ہو جائیں گے۔ جب اللہ کے نبی ﷺ، جو وحیِ الٰہی کی رہنمائی میں تھے، نرمی، شفقت اور حسنِ اخلاق کے پابند بنائے گئے، تو پھر کسی داعی، عالم، خطیب یا مصنف کے لیے یہ کیسے مناسب ہو سکتا ہے کہ وہ سختی اور تلخی کو اپنی دعوت کا مستقل طریقہ بنا لے؟ حضرت علیؑ کا یہ گہرا ارشاد بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ (النَّاسُ أَعْدَاءُ مَا جَهِلُوا) لوگ عموماً اسی چیز کی مخالفت کرتے ہیں جسے وہ جانتے نہیں۔
اس حقیقت کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ دین کے مخالف اس لیے نہیں ہوتے کہ انہوں نے اسے سمجھ کر ردّ کر دیا ہو، بلکہ اس لیے کہ وہ دین کو صرف ایک مسخ شدہ تصویر، ایک سخت مزاج خطاب، کسی تلخ سماجی تجربے، یا ایسے میڈیا کے ذریعے جانتے ہیں جو دین کو عقل، آزادی اور انسانیت کا مخالف بنا کر پیش کرتا ہے۔ اگر ہم ایسے لوگوں کا استقبال وضاحت سے پہلے الزام، اور تعلیم سے پہلے نفرت کے ساتھ کریں، تو ہم ان کے شبہات دور نہیں کرتے بلکہ ان کے اور دین کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
اسی لیے بصیرت کی تعمیر کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سوال اور دشمنی، فکری اضطراب اور انکار، اور حق کے متلاشی اور ضدی معاند کے درمیان فرق کرنا سیکھیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ باطل کے ساتھ سمجھوتہ کیا جائے یا حق کو کمزور کیا جائے، بلکہ یہ کہ ہر شخص اور ہر صورتِ حال کے مطابق حکمت سے کام لیا جائے۔ کہیں مضبوط علمی استدلال کی ضرورت ہوتی ہے، کہیں شفقت اور حسنِ اخلاق کی، کہیں صبر کے ساتھ رہنمائی کی، اور کہیں تربیت اور احتضان کی۔ جو ان مواقع کے فرق کو نہیں سمجھتا، وہ یہ گمان تو کرتا ہے کہ وہ دین کا دفاع کر رہا ہے، لیکن حقیقت میں وہ بہت سے لوگوں کے لیے دین تک پہنچنے کا راستہ دشوار بنا دیتا ہے۔
تیسرا مسئلہ: دین اور زندگی کا کمزور تعلق
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ بعض مبلغین اور خطباء دین کو زندگی سے الگ کر کے پیش کرتے ہیں، گویا وہ چند مجرد نظریات کا مجموعہ ہے جن کا انسان کی بے چینی، مسائل، خوف، ظلم، بے معنویت کے احساس اور مقصدِ حیات کی تلاش سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا خطاب دلوں پر گہرا اثر نہیں چھوڑتا، کیونکہ انسان صرف عقلی جواب نہیں ڈھونڈتا، بلکہ ایسا معنی بھی چاہتا ہے جس کے سہارے وہ جینا سیکھے، ایسی روشنی جو اس کی راہ روشن کرے، اور ایسی بصیرت جو اس کی تکلیف، صبر اور جدوجہد کو مقصد عطا کرے۔
اسی لیے جب انسان اللہ کے بارے میں سوال کرتا ہے تو وہ ہمیشہ کوئی فلسفیانہ بحث نہیں چھیڑ رہا ہوتا، بلکہ اس کے دل میں یہ سوال موجزن ہوتے ہیں: کیا اس زندگی کا کوئی مقصد ہے؟ کیا میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہوں؟ کیا ظلم ہی اس دنیا کا آخری فیصلہ ہے؟ کیا موت ہر چیز کا اختتام ہے؟ اور جب وہ دین کے بارے میں پوچھتا ہے تو وہ محض اس کی تعریف نہیں جاننا چاہتا، بلکہ یہ سمجھنا چاہتا ہے کہ دین میری زندگی کو کیسے بدلتا ہے؟ میری انسانیت کو کیا عطا کرتا ہے؟ مجھے ظلم، خواہشات، خوف اور مایوسی کے مقابلے میں مضبوط کیسے بناتا ہے؟ اور مجھے عدل، رحمت اور استقامت کی راہ پر کیسے قائم رکھتا ہے؟
قرآنِ کریم ہمیشہ ایمان کو زندگی سے جوڑتا ہے۔ ایمان کوئی مجرد عقیدہ نہیں، بلکہ زندگی کو بدل دینے والی قوت ہے۔ توحید صرف ایک فکری نظریہ نہیں، بلکہ انسان کو اللہ کے سوا ہر باطل اقتدار اور ہر جھوٹی بندگی سے آزاد کرنے کا اعلان ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى)
یہاں ایمان کا مطلب دنیا سے کنارہ کشی نہیں، بلکہ ہر اس طاغوت کے مقابلے میں ڈٹ جانا ہے جو انسان کی آزادی، عزت اور شعور کو سلب کرنا چاہتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ)۔ دین جمود کی نہیں، زندگی کی دعوت دیتا ہے؛ ایسی زندگی جو عقل کو بیدار کرے، دل کو زندہ کرے، ضمیر کو روشن کرے اور معاشرے میں عدل پیدا کرے۔ اگر انسان کو دین میں اپنے وجود کا معنی، اپنی زندگی کا مقصد، اور خوف، بے معنویت اور ذلت سے نجات کا راستہ دکھائی نہ دے، تو دینی خطاب دین کی ایک عظیم حقیقت کو اجاگر کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ اسی حقیقت کو امام جعفر صادقؑ کے اس ارشاد میں نہایت جامع انداز سے بیان کیا گیا ہے: (كُونُوا دُعَاةً لِلنَّاسِ بِغَيْرِ أَلْسِنَتِكُمْ) اپنی زبانوں سے نہیں، بلکہ اپنے کردار سے لوگوں کو دین کی دعوت دو۔
اس لیے کہ دعوت صرف الفاظ سے نہیں، کردار سے بھی دی جاتی ہے۔ لوگ محض خوبصورت تقریریں سن کر قائل نہیں ہوتے، بلکہ جب وہ دین کو سچائی، عدل، رحمت، امانت اور پاکیزہ کردار کی صورت میں مجسم دیکھتے ہیں، تب اس کی حقانیت ان کے دلوں میں اترتی ہے۔ جو خطاب اقدار کا ذکر تو کرے مگر انہیں اپنی زندگی میں نہ دکھا سکے، وہ اپنی بڑی تاثیر کھو دیتا ہے، کیونکہ آج کا انسان صرف سنتا نہیں، دیکھتا بھی ہے۔
اسی لیے جب دینی نصوص کا تعلق زندگی سے منقطع ہو جاتا ہے تو بہت سے لوگوں کو دین محض ماضی کی ایک داستان محسوس ہونے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر دور کے انسان سے براہِ راست مخاطب ہے۔ خرابی نص میں نہیں، بلکہ اس فہم میں ہے جو نص کے پیغام کو زندگی کی حقیقتوں تک پہنچانے سے قاصر رہتی ہے۔ قرآن جب فرعون کا ذکر کرتا ہے تو کسی گزرے ہوئے بادشاہ کی تاریخ نہیں سناتا، بلکہ ہر زمانے کے استکبار کی نفسیات کو بے نقاب کرتا ہے۔ جب قارون کا تذکرہ کرتا ہے تو صرف ایک قدیم دولت مند کی کہانی نہیں سناتا، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ اقدار سے محروم دولت کس طرح طغیان کو جنم دیتی ہے۔ اور جب ابلیس کا ذکر کرتا ہے تو صرف ایک غیبی واقعہ بیان نہیں کرتا، بلکہ انسان کے باطن میں چھپے تکبر، حسد اور سرکشی کی جڑوں کو آشکار کرتا ہے۔ اسی طرح اسلامی شعور میں امام حسینؑ کا ذکر صرف ایک تاریخی المیہ نہیں، بلکہ ذلت کے انکار، عزتِ انسانی کے تحفظ، اور اس ابدی معیار کی علامت ہے کہ حق و باطل کا فیصلہ کبھی ظالم کے ہاتھ میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔
جب دینی نصوص کو اس زاویۂ نظر سے پڑھا جائے تو وہ محض معلومات نہیں دیتیں، بلکہ انسان کو بصیرت عطا کرتی ہیں۔ لیکن جب انہیں زندگی سے الگ کر دیا جائے تو وہ اپنی جگہ حق ہونے کے باوجود انسان کے لیے ہدایت، بیداری اور آزادی کی زندہ قوت نہیں بن پاتیں۔
بصیرت کا منہج، شبہات کے جواب کی نفی نہیں کرتا
شبہات کے جواب سے آگے بڑھ کر بصیرت کی تعمیر کی بات کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شبہات کا رد اور ان کا قانع جواب دئے بغیر چھوڑ دیا جائے، عقیدے کے دفاع سے دست بردار ہو جائیں، یا حق و باطل کے درمیان فرق مٹا دیا جائے۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ شبہات جواب چاہتے ہیں، باطل علمی تنقید کا تقاضا کرتا ہے، اور دین پر ہونے والے اعتراضات اور بہتانوں کا جواب دینا بھی ضروری ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ردِّ شبہات ہی پورا دینی منصوبہ بن جائے، اور اسلامی خطاب ہر وقت دفاعی پوزیشن میں کھڑا نظر آئے، گویا اس کے پاس مخالفین کے سوالات کا تعاقب کرنے کے سوا کوئی مثبت فکری منصوبہ ہی نہ ہو۔
قرآنِ کریم نے شبہات کا جواب ضرور دیا، لیکن وہ محض جوابات کی کتاب نہیں۔ اس نے مشرکین سے مکالمہ کیا، اہلِ کتاب کی باتوں کا رد کیا، منافقین کے چہروں سے نقاب اٹھایا، مگر اسی کے ساتھ انسان کی شخصیت تعمیر کی، نفس کا تزکیہ کیا، صحیح فکر پیدا کی، ایک امت کی تشکیل کی، اور انسان کو زمین سے آسمان، دنیا سے آخرت، اور علم سے ذمہ داری کا رشتہ سمجھایا۔ اسی لیے اسلامی خطاب محض ردِّ عمل نہیں، بلکہ ایک فکری، تربیتی اور تہذیبی منصوبہ ہونا چاہیے۔
ہمیں ایسے خطاب کی ضرورت ہے جو شبہات کا جواب دے تو صرف انہیں باطل ثابت نہ کرے، بلکہ ان کی جڑوں تک بھی پہنچے۔ الحاد پر گفتگو کرے تو صرف اس کے دلائل رد نہ کرے، بلکہ انسان کی مقصد، معنی اور ہدایت کی پیاس کو بھی سامنے لائے۔ عورت کے بارے میں بات کرے تو صرف فقہی دفاع تک محدود نہ رہے، بلکہ اسلام کے تصورِ کرامت، خاندان، تکامل اور عدل کو واضح کرے۔ آزادی کا ذکر کرے تو صرف بے راہ روی کی نفی نہ کرے، بلکہ یہ بھی بتائے کہ حقیقی آزادی خواہشات، طاغوت، بازار اور نفس کی غلامی سے نجات کا نام ہے۔ اور عبادات کا ذکر کرے تو صرف ان کے وجوب پر اکتفا نہ کرے، بلکہ یہ بھی دکھائے کہ وہ انسان کے باطن، ارادے اور ضمیر کی تعمیر کیسے کرتی ہیں۔
آج اسلامی خطاب کو ایسے صاحبِ بصیرت ذہن کی ضرورت ہے جو نص کو بھی سمجھے، زمانے کو بھی، انسان کو بھی، جو سوال کرنے والے اور ہٹ دھرمی والے میں فرق کر سکے، اور جو مضبوط دلیل کو رحمت، حکمت اور حسنِ بیان کے ساتھ پیش کرے۔ ایسا خطاب جو اپنے اصولوں پر پورے اعتماد سے قائم رہے، مگر محض تکرار پر اکتفا نہ کرے، اور یہ نہ سمجھے کہ ہر مسئلے کا جواب چند رٹے ہوئے جملوں میں سمویا جا سکتا ہے۔
یہ دین اتنا کمزور نہیں ہے کہ سوالوں سے اس پر خوف طاری ہوجائے، اور نہ ہی حق اتنا نازک ہے کہ لوگوں کو سوچنے سے روکنا پڑے۔ اسی طرح قرآن کوئی ایسی کتاب نہیں جو زندگی سے کٹی ہوئی ہو اور جسے زمانۂ حاضر کے سوالات سے الگ رکھنا ضروری ہو۔بلکہ قرآن بصیرت عطا کرنے والی کتاب ہے، اہلِ بیتؑ ہدایت کا روشن مکتب ہیں، اور اسلام اپنے اندر ایسی فکری گہرائی رکھتا ہے کہ ہر دور کے انسان سے مؤثر انداز میں ہم کلام ہو سکتا ہے۔ البتہ اس کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو اس پیغام کو شعور و بصیرت کے ساتھ اپنے اندر سموئیں، حکمت کے ساتھ پیش کریں، اور اسے محض مناظرے اور بحث کا موضوع بنانے کے بجائے ہدایت و رہنمائی کا نور بنا دیں۔
پس یہی ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم صرف شبہات کا جواب دینے تک محدود نہ رہیں، بلکہ ہر شبہے کو شعور بیدار کرنے کا موقع بنائیں، ہر سوال کو گہری معرفت کا دروازہ بنائیں، اور ہر اضطراب کو مضبوط یقین تک پہنچنے کا راستہ بنا دیں۔ حقیقی معرکہ یہ نہیں کہ ہم کسی وقتی بحث میں کامیاب ہو جائیں، بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ انسان کو حقیقت دیکھنے کی بصیرت عطا کریں۔ جب انسان بصیرت حاصل کر لیتا ہے تو پھر کوئی شبہ اسے اپنی مرضی کے مطابق گمراہ نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کے پاس صرف رٹا ہوا جواب نہیں ہوتا، بلکہ حقیقت کو پہچاننے والی بصیرت بھی ہوتی ہے۔