شیخ معتصم السید احمد
جو شخص اربعینِ حسینی، یعنی کربلا کی جانب ہونے والی اربعین واک، کو محض سرسری نگاہ سے دیکھتا ہے، اسے یہ مذہبی جذبات سے سرشار ایک عظیم انسانی اجتماع دکھائی دیتا ہے، جہاں راستوں کے دونوں اطراف مواکب سجے ہوتے ہیں اور لاکھوں زائرین کے لیے ہر قدم پر کھانے، رہائش، علاج، نقل و حمل اور دیگر بے شمار خدمات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔
مگر یہ منظر اربعین کی حقیقت کا صرف ظاہری رخ ہے کیونکہ اربعین محض ایک بڑا اجتماع نہیں، بلکہ عالمی سطح پر یہ ایک ایسا منفرد سماجی تجربہ ہے، جو بتاتا ہے کہ جب اقدار محض نظریات نہیں رہتیں بلکہ اجتماعی رویّوں میں ڈھل جاتی ہیں، جب عوامی شعور سرکاری اقدامات سے آگے بڑھ جاتا ہے، اور جب دوسروں کی خدمت انسان کی شناخت اور ذمہ داری بن جاتی ہے، تو معاشرہ کس طرح نئی شکل اختیار کرتا ہے۔اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ وہاں لاکھوں زائرین کے لیے کھانے اور دیگر سہولیات کیسے مہیا کی جاتی ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس غیر معمولی ہم آہنگی کے ساتھ کیسے تعاون کرتے ہیں؟ ان کے درمیان اعتماد کی یہ فضا کیسے قائم ہوتی ہے؟ اور آخر وہ کون سی قوت ہے جو خاندانوں، برادریوں اور افراد کو ایسے لوگوں کی خدمت کے لیے اپنا مال، وقت اور محنت صرف کرنے پر آمادہ کرتی ہے، جنہیں وہ نہ جانتے ہیں اور نہ ہی شاید دوبارہ کبھی ان سے ملنے کا امکان ہے؟
زیارتِ اربعین درحقیقت ہمارے سامنے ایک ایسے معاشرے کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے جو جدید معاشرتی تصور سے یکسر مختلف ہے۔کیونکہ روزمرہ زندگی میں زیادہ تر تعلقات لین دین کے اصول پر قائم ہوتے ہیں، خدمت کے بدلے اجرت، کام کے بدلے تنخواہ، اور منفعت کے بدلے منفعت اگرچہ یہ نظام زندگی کی تنظیم کے لیے ضروری ہے، مگر ایک مضبوط معاشرہ صرف اسی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ جو معاشرہ صرف حساب و کتاب جانتا ہو، وہ مفادات کا انتظام تو کر سکتا ہے، مگر رحمت، اعتماد اور باہمی تعاون جیسی اقدار پیدا نہیں کر سکتا۔
اربعین میں دنیا بھر کو انسانی خدمت کا ایک ایسا وسیع منظر دکھائی دیتا ہے، جو کسی مادی صلے کا محتاج نہیں ہوتا۔ لوگ اپنا کھانا، اپنے گھر، اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں اجنبی زائرین کے لیے وقف کر دیتے ہیں، بغیر یہ پوچھے کہ وہ کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں یا ان کا سماجی مقام کیا ہے۔ موکب کا منتظم نہ کسی معاہدے کا طلب گار ہوتا ہے، اور نہ ہی وہ ان سے کسی صلے کی امید رکھتا ہے، کیونکہ اس کےلئے تو یہی کافی ہے کہ آنے والا امام حسینؑ کا زائر ہے۔
پس یہیں سے اربعین کی ایک عظیم سماجی قدر نمایاں ہوتی ہے کہ انسان سے صرف انسان ہونے کے ناطے تعلق قائم کرنا، نہ کہ اسے نفع، اقتدار یا ذاتی مفاد کا ذریعہ سمجھنا بھی ممکنات میں سے ہے، مگر یہ وصف ہر معاشرے میں آسانی سے پیدا نہیں ہوتا۔ جہاں تنازعات طویل ہوں، قانون کمزور ہو اور بدعنوانی رچ بس جائے، وہاں باہمی اعتماد بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے محتاط رہتے ہیں، وہ انجانے تو کجا اپنے جانے پہچانے لوگوں پر بھی دروازے بند رکھتے ہیں، اور ہر بڑھتے ہوئے ہاتھ کے پیچھے کسی نہ کسی مفاد کا گمان کرتے ہیں۔
ایسے میں اربعین اس سوچ کو بدل دیتی ہے۔ دروازے کھل جاتے ہیں، گھر مہمان خانوں میں بدل جاتے ہیں، ذاتی وسائل اجتماعی خدمت کے لیے وقف ہو جاتے ہیں، اور اجنبی شک و شبہے کے بجائے خیرمقدم کا مستحق بنتا ہے۔ یہ محض جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ معاشرے کے اندر اخلاقی سرمایہ موجود ہے، اور جب کوئی مشترک قدر لوگوں کو یکجا کر دے تو وہ روزمرہ زندگی کے بہت سے رائج الوقت رویوں اور مفادات کے اصولوں سے بالاتر ہو سکتے ہیں۔
اربعین کا اعتماد ساز معاشرہ
اعتماد محض کوئی اخلاقی نعرہ نہیں، بلکہ یہ ہر اس فعال معاشرے کی بنیاد ہے۔ جہاں اعتماد کمزور ہو، وہاں معاملات پیچیدہ ہو جاتے ہیں، شکوک بڑھ جاتے ہیں،ہاں معمولی تعلقات بھی سخت نگرانی کے محتاج بن جاتے ہیں، اور تعاون دشوار ہو جاتا ہے۔ لیکن جہاں اعتماد مضبوط ہو، وہاں لوگ کم وسائل کے ساتھ بھی بڑے کام انجام دے لیتے ہیں، کیونکہ ان کی توانائی باہمی بدگمانی میں صرف نہیں ہوتی۔
زیارتِ اربعین اسی بلند درجے کے اعتماد کی عملی تصویر پیش کرتی ہے۔کیونکہ زائر ان لوگوں پر بھروسا کرتا ہے جن سے اس کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ ان کے ہاں کھاتا ہے، ان کی فراہم کردہ جگہوں پر قیام کرتا ہے، اپنی ضروریات ان کے سپرد کرتا ہے اور ان کی خدمات سے استفادہ کرتا ہے۔ دوسری طرف میزبان بھی اپنا گھر، اپنا سامان اور اپنے وسائل ایسے لوگوں کے لیے کھول دیتا ہے، جنہیں وہ پہلے سے نہیں جانتا۔
یہ اعتماد نہ کسی حفاظتی ادارے کے سہارے قائم ہے، نہ کسی قانونی معاہدے کے بل پر، بلکہ ایک مشترک عقیدے پر استوار ہے کہ ہم سب امام حسینؑ کے زائر کی خدمت کے لیے ہیں۔ یوں عقیدہ محض فرد اور خدا کے درمیان تعلق نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسی سماجی قوت بن جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان اعتماد کو جنم دیتی ہے۔اس لیے شعائر کو محض جذباتی رسوم سمجھنا درست نہیں۔ جب شعائر اپنی حقیقی روح کے ساتھ زندہ ہوں تو وہ لوگوں کے درمیان تعلقات کو ازسرِنو استوار کرتے ہیں، تعاون کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، اور مختلف قومیتوں، ثقافتوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان ایک مشترک زبان پیدا کر دیتے ہیں۔
یہ اعتماد اچانک پیدا نہیں ہوتا، بلکہ دینی شعور اور مسلسل سماجی تربیت کا ثمر ہے۔ جو شخص اس فکر کے ساتھ پروان چڑھے کہ زائر کی خدمت باعثِ شرف ہے، اس کی عزت و تکریم عبادت ہے، اور اس کی راہ میں مشقت سعادت ہے، اسے خدمت کے لیے کسی سرکاری حکم کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ یوں ایک قدر سماجی عادت بنتی ہے، عادت ایک غیر تحریری نظام میں ڈھل جاتی ہے، اور یہی نظام عوامی خدمت کے ایک وسیع اور مؤثر نیٹ ورک کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
موکب ایک سماجی ادارہ
زیارتِ اربعین(یعنی اربعین واک) کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ موکب کو صرف کھانا تقسیم کرنے کی جگہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگرچہ اسکا سب سے نمایاں منظر یہی ہوتا ہے، مگر موکب کی حقیقت اس سے کہیں وسیع ہے۔ کہ یہ ایک ایسا مختصر مگر مکمل سماجی ادارہ بن جاتاہے، جہاں مالی وسائل، انتظام، ذمہ داریوں کی تقسیم، وقت کی منصوبہ بندی، سامان کی نگرانی، مہمان نوازی، صفائی، طبی امداد، نقل و حمل، رہنمائی، اور بسا اوقات علمی و ثقافتی سرگرمیاں بھی منظم انداز میں انجام پاتی ہیں۔اگرچہ بہت سے مواکب جدید انتظامی اصطلاحات استعمال نہیں کرتے، لیکن عملی طور پر وہ اعلیٰ درجے کی تنظیم کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے کردار سے واقف ہوتا ہے، ذمہ داریاں عمر، تجربے اور صلاحیت کے مطابق تقسیم ہوتی ہیں، اور پوری ٹیم مسلسل بدلتے ہوئے حالات اور بڑھتی گھٹتی ضروریات کے باوجود مؤثر انداز میں خدمات انجام دیتی ہے۔
یہ سب اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ اس حسینی معاشرے میں تنظیم و انتظام کی ایسی صلاحیت موجود ہے، جو ہمیشہ سرکاری اداروں میں نظر نہیں آتی۔ جن لوگوں کو کبھی اجتماعی نظم سے عاری سمجھا جاتا ہے، وہی بڑے سے بڑے کام کامیابی سے انجام دیتے ہیں، جب انہیں محسوس ہو کہ مقصد ان کا اپنا ہے اور خدمت ان کے دل کی آواز ہے، نہ کہ کسی بیرونی حکم کی پابندی۔
یہاں ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ اجتماعی کاموں میں بہت سی ناکامیاں لوگوں کی تنظیمی صلاحیت کی کمی سے نہیں، بلکہ مقصد یا قیادت پر اعتماد کے فقدان سے جنم لیتی ہیں۔ جب انسان کو محسوس ہو کہ اس کی محنت بدعنوانی کی نذر ہو جائے گی، یا کوئی دوسرا اسے اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے گا، تو اس کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے اور وہ صرف رسمی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ لیکن جب اسے یقین ہو کہ یہ کام اسی کا ہے، اس کا مقصد واضح ہے اور اس کی کوشش کی قدر کی جاتی ہے، تو وہ اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لاتا ہے۔
اسی زاویے سے دیکھا جائے تو مواکب اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عراقی معاشرہ، اور بالعموم شیعہ معاشرہ، رضاکارانہ خدمت، وسائل کی تنظیم اور اجتماعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تجربے کو صرف موسمِ اربعین تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ فلاحی خدمات، سماجی بہبود، غریبوں کی مدد، آفات سے نمٹنے اور ثقافتی و سماجی منصوبوں میں بھی اس سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔
وہ معاشرہ جو ریاست سے پہلے متحرک ہو جاتا ہے
زیارتِ اربعین معاشرے اور ریاست کے تعلق کا ایک منفرد نمونہ بھی پیش کرتی ہے۔ جدید ریاستوں میں عموماً لوگ ہر کام کے لیے سرکاری اداروں کے منتظر رہتے ہیں؛ وہی منصوبہ بناتے ہیں، وسائل فراہم کرتے ہیں، خدمات انجام دیتے ہیں اور نظام چلاتے ہیں۔ اگرچہ امن، بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل اور صحت جیسے شعبوں میں ریاست کا کردار ناگزیر ہے، لیکن اس پر مکمل انحصار معاشرے میں خودعملی کے جذبے کو کمزور کر دیتا ہے۔
اربعین میں صورتِ حال مختلف ہوتی ہے۔ یہاں خدمت کا آغاز ریاست کے انتظار سے نہیں ہوتا۔ خاندان، برادریاں، مواکب، فلاحی تنظیمیں اور افراد بہت پہلے سے تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ وسائل جمع کیے جاتے ہیں، ذمہ داریاں تقسیم ہوتی ہیں، مقامات تیار کیے جاتے ہیں اور زائرین کے استقبال کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ریاست کا کردار اس اجتماعی کوشش کی تکمیل، حفاظت اور نظم و ضبط تک محدود رہتا ہے، نہ کہ اس کی ابتدا کرنا۔
یہ نمونہ عمل اس لیے بھی نہایت اہم ہے کہ یہ یاد دلاتا ہے کہ زندہ معاشرہ وہ نہیں جس کی جگہ ریاست لے لے، بلکہ زندہ معاشرہ وہ ہے جو اخلاقی قوت اور خودعملی کے جذبے کے ساتھ ریاست کا معاون بنے۔ ریاست سڑکیں تو بنا سکتی ہے، مگر سخاوت کا جذبہ پیدا نہیں کر سکتی۔ وہ امن قائم کر سکتی ہے، مگر لوگوں کے دلوں میں محبت نہیں اتار سکتی۔ وہ ہسپتال قائم کر سکتی ہے، مگر کسی کو اس بات پر مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ رضاکارانہ طور پر کسی اجنبی کی خدمت میں راتیں جاگے۔
اسی لیے زیارتِ اربعین کی طاقت صرف زائرین کی تعداد میں نہیں، بلکہ اس صلاحیت میں ہے کہ وہ گھروں، محلّوں، برادریوں اور چھوٹے چھوٹے سماجی حلقوں کو ایک مشترک مقصد کے لیے متحرک کر دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے جو کسی مرکزی حکم سے نہیں، بلکہ ہزاروں افراد کے رضاکارانہ فیصلوں سے جنم لیتی ہے۔پس یہی ایک ایسے مضبوط معاشرے کی حقیقی علامت ہے کہ جو نظم و تعاون کو اپنے اندر سے جنم دے، نہ کہ ہر وقت کسی بیرونی قوت کے انتظار میں رہے۔
کیا اربعین کا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ ہے؟
اربعین کے تجربے کو کسی کمی یا کمزوری سے مبرا تصوراتی نمونے کے طور پر پیش کرنا بھی درست نہیں کونکہ اس میں تنظیمی کمزوریاں، بعض وسائل کا ضیاع، شعور میں تفاوت، اور ایسے پہلو بھی موجود ہیں جو اصلاح کے متقاضی ہیں۔ کبھی تعداد پر توجہ معیار سے بڑھ جاتی ہے، اور کبھی خدمت کے دیگر شعبوں کے مقابلے میں صرف اطعام کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ تاہم یہ کمزوریاں اس عظیم تجربے کی قدر کم نہیں کرتیں، بلکہ اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ ہر عمل کو بلا تنقید سراہا جائے، اور نہ اصلاحی تنقید کو شعائر کی توہین سمجھا جائے۔ اخلاص کے ساتھ حسنِ انتظام بھی ضروری ہے، محبت کے ساتھ شعور بھی، اور امام حسینؑ کے نام پر جمع ہونے والے وسائل کو بہترین انداز میں استعمال کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔اسی لیے مواکب کو چاہیے کہ اطعام، اپنی تمام اہمیت کے باوجود، خدمت کا واحد میدان نہ رہنے دیں، بلکہ صحت آگاہی، رہنمائی، صفائی، ماحول کے تحفظ، بزرگوں اور خصوصی افراد کی خدمت، ٹریفک کی تنظیم، اور مختلف زبانوں میں پیغامِ حسینؑ کی مؤثر ترجمانی جیسے شعبوں کو بھی اپنی خدمات کا حصہ بنائیں، تاکہ ایک مہذب، منظم اور باوقار معاشرے کی تصویر دنیا کے سامنے آئے۔اصل سوال یہ نہیں کہ زائر کو کھانا کیسے کھلایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی بہترین خدمت کیسے کی جائے؟ اس کی عزت و وقار کا تحفظ کیسے ہو؟ اسراف کو کیسے روکا جائے؟ اور ہر دینار، ہر ساعت اور ہر کوشش کو زیادہ سے زیادہ مؤثر اور مفید کیسے بنایا جائے؟
یہ سوالات جذبۂ خدمت کی قدر کم نہیں کرتے، بلکہ اسے بے ترتیبی سے بچاتے ہیں اور اس کے اثرات کو زیادہ پائیدار، مؤثر اور بامقصد بناتے ہیں۔
اربعین میں یہ قوت کیوں بیدار ہوتی ہے؟
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ اگر معاشرہ اس قدر منظم، فیاض اور بااعتماد بن سکتا ہے، تو یہی قوت زندگی کے دوسرے شعبوں میں اسی شدت سے کیوں نظر نہیں آتی؟
لوگ ہزاروں مواکب کامیابی سے چلا لیتے ہیں، مگر کبھی اپنے محلّوں کے چھوٹے منصوبے بھی کیوں کامیاب نہیں ہو پاتے؟ زائر کی خدمت گاہ کو صاف رکھنے کا اہتمام تو کرتے ہیں، مگر عام گلیوں اور سڑکوں کے لیے وہی احساس کیوں پیدا نہیں ہوتا؟ زیارت میں ایک اجنبی پر اعتماد کر لیتے ہیں، لیکن روزمرہ زندگی میں اپنے پڑوسی یا شریک پر بدگمانی کیوں کرتے ہیں؟
یہ سوال الزام کے لیے نہیں، بلکہ حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہے۔ زیارتِ اربعین یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ اجتماعی قوت ہمارے معاشرے میں موجود ہے، مگر اسے بیدار کرنے کے لیے ایک مضبوط مشترک مقصد درکار ہوتا ہے۔ اربعین میں مقصد واضح، مرکزِ عقیدت مشترک، عمل روحانی معنویت سے بھرپور اور اس کے نتائج نمایاں ہوتے ہیں، اس لیے لوگ پوری دلجمعی سے میدان میں آتے ہیں۔ لیکن روزمرہ زندگی میں جب مشترک اقدار کمزور پڑ جائیں، ذاتی مفادات غالب آ جائیں، اور انسان یہ محسوس کرے کہ اس کی کوشش کوئی تبدیلی نہیں لائے گی یا اس کا فائدہ کوئی اور اٹھا لے گا، تو یہی جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔
اس لیے مسئلہ یہ نہیں کہ معاشرہ صلاحیت نہیں رکھتا، بلکہ یہ ہے کہ اسے ہمیشہ ایسا مقصد میسر نہیں آتا جو اس کی قوت کو یکجا کرے اور اس کے اندر اعتماد پیدا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ زیارتِ اربعین ہمیں ایک اہم سماجی سبق دیتی ہے کہ معاشرے صرف قوانین کے بل پر متحرک نہیں ہوتے، بلکہ انہیں ایک مشترک فکر، ایک بلند مقصد اور ایک ایسا مرکز درکار ہوتا ہے جو سب کو ایک لڑی میں پرو دے۔
البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سماجی سرگرمی کو شعیرہ بنا دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ شعائر کی منطق سے سبق لیا جائے؛ یعنی مقصد کا واضح ہونا، خدمت کا باوقار ہونا، تعلق اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا، اور ہر فرد کو محض مدد لینے والا نہیں، بلکہ تعمیرِ معاشرہ کا شریک بنانا۔
عراقی عوام کی نظر میں عراق
یہ منظرنامہ عراق کے تناظر میں اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ وہ عراق جو بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں جنگ، اختلاف، دہشت گردی اور بدعنوانی کی علامت بن چکا ہے، اربعین کے موقع پر اپنی ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک ایسا ملک، جو لاکھوں زائرین کا استقبال کرتا ہے، اپنے گھر ان کے لیے کھول دیتا ہے، راستوں کو منظم کرتا ہے، اور اپنے شہروں اور دیہات کو خدمت کے مراکز میں بدل دیتا ہے۔
یہ تصویر عراق کے مسائل اور زخموں کی نفی نہیں کرتی، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ عراق صرف وہ نہیں جو خبروں میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے باطن میں سخاوت، دینی وابستگی، سماجی یکجہتی اور ازسرِنو اٹھ کھڑے ہونے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
یوں اربعین کے ذریعے عراقی عوام دنیا کے سامنے اپنے وطن کا نیا تعارف پیش کرتے ہیں۔ وہ عراق کو صرف سرزمینِ تنازع نہیں، بلکہ سرزمینِ مہمان نوازی، زیارت اور انسان دوستی کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔ اور یہ تعارف کسی مصنوعی تشہیر سے نہیں، بلکہ اس عملی کردار سے ہوتا ہے جسے ہر زائر اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور خود محسوس کرتا ہے۔اس طرح کی مثبت تصویر کسی بھی تشہیری مہم سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتی ہے؛ کیونکہ انسان الفاظ پر تو شک کر سکتا ہے، لیکن اس گھر پر نہیں جس کے دروازے اس کے لیے کھلے ہوں، نہ اس کھانے پر جو محبت سے پیش کیا گیا ہو، اور نہ اس ہاتھ پر جو مدد کے لیے بڑھا ہو۔
اسی لیے زیارتِ اربعین صرف عراق کی ایک مذہبی مناسبت نہیں، بلکہ عراق اور عراقی عوام کو دنیا کے سامنے ان کی حقیقی شناخت کے ساتھ پیش کرنے کا ایک عظیم تہذیبی موقع بھی ہے۔ تاہم اس موقع سے بھرپور فائدہ اسی وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب اس کے ساتھ شعور بھی ہو؛ کیونکہ بدانتظامی، غفلت یا تنگ نظری پر مبنی رویہ اس خوبصورت تصویر کو دھندلا سکتا ہے۔ جتنا خدمت، احترام، صفائی اور نظم و ضبط کا معیار بلند ہوگا، اتنا ہی اربعین امام حسینؑ کے پیغام اور عراق کے حقیقی خدوخال کی بہتر ترجمانی ہوسکے گی۔
ہجوم سے معاشرے تک کا مرحلہ
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اصل چیلنج لوگوں کو جمع کرنا نہیں، بلکہ ایک ہجوم کو حقیقی معاشرے میں بدلنا ہے۔ ہجوم افراد کو ایک جگہ اکٹھا تو کر دیتا ہے، مگر ان کے درمیان تعلق پیدا نہیں کرتا۔ معاشرہ اعتماد، ذمہ داری، باہمی تعاون اور اس احساس پر قائم ہوتا ہے کہ ہر فرد کی بھلائی دوسرے کی بھلائی سے وابستہ ہے۔
زیارتِ اربعین بڑی حد تک اس ہجوم کو ایک منظم اور باہمی تعاون کرنے والے معاشرے میں بدل دیتی ہے۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق خدمت انجام دیتا ہے، کیونکہ کوئی ایک فرد تمام ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتا۔ کوئی کھانا تقسیم کرتا ہے، کوئی صفائی کا اہتمام کرتا ہے، کوئی رہنمائی کرتا ہے، کوئی طبی امداد فراہم کرتا ہے، کوئی آمدورفت میں مدد دیتا ہے، اور کوئی نظم و ضبط سنبھالتا ہے۔ انہی چھوٹی چھوٹی کوششوں سے ایک عظیم اجتماعی منظر وجود میں آتا ہے۔
اربعین کا ایک بڑا سماجی سبق یہی ہے کہ عظیم کام ہمیشہ بڑے ادارے ہی انجام نہیں دیتے، بلکہ ہزاروں معمولی مگر مخلصانہ کوششیں، جب ایک مقصد کے لیے یکجا ہو جائیں، تو غیر معمولی نتائج پیدا کرتی ہیں۔ کسی معاشرے کو غیر معمولی ہیروز کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ایسے افراد درکار ہوتے ہیں جو اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت اور اخلاص سے ادا کریں۔
زیارتِ اربعین ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتی ہے جو ایک مشترک قدر کے گرد جمع ہو کر اپنی اصل قوت کو پہچان لیتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ اخلاق صرف انفرادی اوصاف کا نام نہیں، بلکہ وہ اجتماعی نظام کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں؛ جہاں سخاوت موکب بن جاتی ہے، اعتماد مہمان نوازی میں ڈھل جاتا ہے، محبت نظم و تعاون کی صورت اختیار کرتی ہے، اور وابستگی خدمت میں بدل جاتی ہے۔
اس تجربے کے بعد اصل سوال یہ نہیں کہ اربعین کی فضا کو پورا سال کیسے برقرار رکھا جائے، کیونکہ یہ نہ ممکن ہے اور نہ ضروری۔ اصل سوال یہ ہے کہ اربعین نے جو سماجی شعور ہمیں دیا ہے، اسے اپنی روزمرہ زندگی میں کیسے زندہ رکھا جائے؟ خودعملی کو اپنے محلّوں تک، اعتماد کو اپنے تعلقات تک، تعاون کو اپنے اداروں تک، اور احترامِ انسانیت کو اپنی اجتماعی زندگی تک کیسے پہنچایا جائے؟ اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں، تو زیارتِ اربعین سال میں ایک بار آنے والا متاثر کن اجتماع نہیں رہے گی، بلکہ اس معاشرے کی عملی مثال بن جائے گی جس کی تعمیر کی ہم آرزو رکھتے ہیں۔
زیارتِ اربعین ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ لوگوں کے دلوں میں امام حسینؑ کی محبت کتنی گہری ہے، بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ جب ایک معاشرہ کسی اعلیٰ مقصد پر متحد ہو جائے، وقتی طور پر ذاتی مفادات سے بلند ہو جائے، تو اس کے اندر کتنی عظیم قوت بیدار ہو سکتی ہے۔ تب انسان جان لیتا ہے کہ دوسرے کی خدمت میں خسارہ نہیں، عطا سے مال کم نہیں ہوتا، اور یہ کہ کسی اجنبی کی مدد کے لیے بڑھنے والا ہاتھ ہی درحقیقت ایک مضبوط معاشرے، بلکہ ایک مضبوط وطن کی بنیاد رکھتا ہے۔
پس یہی اربعین کا گہرا سماجی فلسفہ ہے کہ معاشرہ صرف قانون، معیشت یا ریاست کے سہارے تشکیل نہیں پاتا، بلکہ ان اقدار سے بھی بنتا ہے جن پر لوگ ایمان رکھتے ہیں اور جنہیں وہ اپنے عمل کا حصہ بنا دیتے ہیں۔