واپس
زیارتِ اربعین: زائرین کے کربلا کی جانب باپیادہ سفر کا حقیقی ہدف

زیارتِ اربعین: زائرین کے کربلا کی جانب باپیادہ سفر کا حقیقی ہدف

شیخ معتصم السید احمد

بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال ہےکہ جب سفری ذرائع آسانی سے میسر ہیں،اور چند گھنٹوں میں کربلا پہنچا جا سکتا ہے، نیز یہ کہ نہ تو پیدل چلنا زیارت کی صحت کی شرط ہے اور نہ ہی اس کی قبولیت کے لیے ضروری، تو پھر لاکھوں افراد امام حسینؑ کی بارگاہ تک پیدل جانے کا انتخاب کیوں کرتے ہیں؟ پس یہی سادہ سا سوال، زیارتِ اربعین کے فلسفے کو سمجھنے کا ایک وسیع دروازہ کھول دیتا ہے۔کیونکہ درحقیقت انسان ہمیشہ آسان راستہ اختیار نہیں کرتا،اور نہ ہی ہر موقع پر مختصر ترین راستہ چنتا ہے بلکہ بسا اوقات وہ جان بوجھ کر طویل راستہ اختیار کرتا ہے، کیونکہ وہ محسوس کرتا ہے کہ منزل تک پہنچنے کا راستہ بذاتِ خود اسکے مقصد کا ایک حصہ ہے، اور سفر کے دوران اس کے اندر جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، وہ منزل پر پہنچنے کے بعد حاصل ہونے والی کیفیت سے کسی طور کم اہم نہیں ہوتیں۔

جو شخص امام حسینؑ کی بارگاہ کی طرف پیدل روانہ ہوتا ہے، وہ محض ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر نہیں کرتا،اور نہ ہی اپنی مسافت کو طے کیے گئے کلومیٹرز سے ناپتا ہے، بلکہ وہ ایک ایسے تجربے میں داخل ہوتا ہے جو اس کے اپنے جسم، آرام، وقت، اور دیگر ہمسفر افراد کے ساتھ اس مقصدیت کو ازسرِنو ترتیب دیتا ہے جس سے وہ وابستہ ہے۔بالفرض اگر مقصد صرف روضۂ امام حسینؑ تک پہنچنا ہی ہوتا، تو سواری اس کے لیے زیادہ تیز اور آسان ذریعہ تھی۔ لیکن پیدل چلنا اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ زائر صرف اپنے جسم کو کربلا تک نہیں پہنچانا چاہتا، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ خود یہ سفر اس کی محبت، وفاداری اور اس آمادگی کا اظہار بن جائے کہ وہ امام حسینؑ کی نمائندہ اقدار کی خاطر کچھ مشقت بھی برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔

جدید تہذیب نے انسان کو یہ سکھایا ہے کہ ترقی کا معیار وقت اور محنت کی زیادہ سے زیادہ بچت ہے۔ اچھی مشین وہ ہے جو انسان کو حرکت سے بے نیاز کر دے، کامیاب خدمت وہ ہے جو انتظار کی زحمت سے بچا لے، اور بہتر زندگی وہ سمجھی جاتی ہے جو کم سے کم مشقت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ آسائش فراہم کرے۔اور اس میں بذاتِ خود کوئی برائی نہیں، کیونکہ انسان کو ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مسخر کی ہیں۔ اسی طرح مشقت بھی کوئی ایسی مستقل قدر نہیں کہ اسے محض مشقت ہونے کی وجہ سے اختیار کیا جائے۔البتہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب راحت، زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ بننے کے بجائے خود زندگی کا مقصد بن جائے، اور انسان اس مقام تک پہنچ جائے کہ وہ کسی بھی قسم کی مشقت برداشت کرنے سے قاصر ہو، خواہ وہ کسی عظیم مقصد یا اخلاقی ذمہ داری تک پہنچنے ہی کا راستہ کیوں نہ ہو۔

پس یہیں سے امام حسینؑ کی بارگاہ تک پیدل چلنے کا فلسفہ اپنی معنویت آشکار کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر یہ ایک اعلان ہے کہ انسان کی قدر صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ وہ کتنی محنت یا وقت بچا لیتا ہے، بلکہ اس سے بھی ہوتی ہے کہ جب کوئی مقصد اس کا تقاضا کرے تو وہ کتنا ایثار اور قربانی پیش کر سکتا ہے۔زائر نہ تو درد کی پرستش کرتا ہے اور نہ ہی محض مشقت اٹھانے کا خواہاں ہوتا ہے، بلکہ وہ اپنے قدموں سے یہ پیغام دیتا ہے کہ بعض اقدار ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے صرف زبان سے اظہارِ عقیدت کافی نہیں ہوتا، بلکہ ان سے وابستگی کا ثبوت اپنے وقت، اپنی توانائی اور اپنی راحت کا کچھ حصہ قربان کر کے دینا پڑتا ہے۔ وہ محبت جو اپنے حامل سے کسی قربانی کا مطالبہ نہ کرے، اکثر ایک عارضی جذبے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، لیکن جب یہی محبت عمل، انتخاب اور استقامت کی صورت اختیار کر لے تو یہ ایک مضبوط موقف بن جاتی ہے۔

اسی لیے پیدل چلنا محض جسم کی حرکت کا عملی اظہار ہی ، بلکہ یہ انسان کو راحت کی غلامی سے آزاد کرنے کی ایک عملی مشق بھی ہے۔ جو شخص ہمیشہ قریب ترین منزل، تیز ترین خدمت اور سبک ترین ذمہ داری کا عادی ہو، وہ اربعین کے سفر میں خود کو گھنٹوں پیدل چلتے، انتظار کرتے، تھکن برداشت کرتے، دوسروں کے ساتھ راستہ بانٹتے اور اپنی ذاتی ضروریات کو مؤخر کرتے ہوئے پاتا ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی سابقہ سوچ سے کہیں زیادہ صبر، حوصلہ اور برداشت کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس تجربے میں جدید دور کے اس انسان کا وہ وہم بھی ٹوٹ جاتا ہے کہ خوشی صرف مشقت سے نجات میں پوشیدہ ہے، جبکہ زیارتِ اربعین یہ حقیقت آشکار کرتی ہے کہ بعض اوقات یہی مشقت انسان کو وہ معنویت عطا کرتی ہے جو تمام آسائشیں بھی نہیں دے سکتیں۔

واضح رہے کہ پیدل چلنے کا فلسفہ صرف مشقت برداشت کرنے تک محدود نہیں بلکہ اسکی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ انسان کس سمت جا رہا ہے، کیوں جا رہا ہے، اور اس کی منزل کیا ہے۔کیونکہ ہر حرکت ترقی نہیں ہوتی، ہر راستہ ہدایت تک نہیں پہنچاتا، اور ہر مشقت درست مقصد کی علامت نہیں ہوتی۔امام حسینؑ کی طرف پیدل سفر کی قدر و منزلت درحقیقت خود امام حسینؑ کی عظمت، ان کے قیام کے مقصد، اور اس موقف سے وابستہ ہے جس کا انہوں نے عملی نمونہ اس وقت پیش کیا کہ جب انہوں نے حق کی ذمہ داری کو اپنی ذاتی سلامتی پر ترجیح دی۔پس یہیں سے سوال کا رخ بدل جاتا ہے کہ اب سوال یہ نہیں رہتا کہ انسان امام حسینؑ کی طرف پیدل کیوں چلتا ہے؟ بلکہ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ انسان کا راہِ حسینؑ پر ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟

راہِ حسینؑ کوئی جغرافیائی راستہ نہیں جو کربلا کی سرحدوں پر ختم ہو جائے، بلکہ یہ ایک اخلاقی سمت ہے جو حق و باطل، عدل و ظلم، اور عزت و ذلت کے حوالے سے انسان کے مقام کا تعین کرتی ہے۔ ممکن ہے کوئی شخص روضۂ امام حسینؑ تک پہنچ جائے، لیکن ان کے راستے پر نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی اپنے جسم کے اعتبار سے کربلا سے دور ہو، مگر اپنے موقف اور کردار کے اعتبار سے امام حسینؑ کے قریب ہو۔اس صورتحال میں حقیقی سفر اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ سے یہ سوال کرے: میں کس سمت کا مسافر ہوں؟ کن اقدار کو اپنی زندگی کا معیار بناتا ہوں؟ اور جذباتی وابستگی کے بموجب میری عملی وفاداری کس کے ساتھ ہے ؟

یہ حقیقت ہے کہ انسان کسی وابستگی کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا، خواہ وہ خود کو کتنا ہی آزاد اور خودمختار کیوں نہ سمجھے۔ یا تو وہ حق کو اپنا معیار بناتا ہے، یا پھر ذاتی مفاد، خواہشاتِ نفس، خوف اور معاشرتی قبولیت کو اپنا رہنما بنا لیتا ہے۔ یا وہ اس راستے پر چلتا ہے جو اسے سرکشی سے آزاد کرتا ہے، یا پھر وہ ایسے راستے پر گامزن ہوتا ہے جو خاموشی اور سرِ تسلیم خم کرنے کے ذریعے سرکشی ونافرمانی کو جواز فراہم کرتا ہے۔اسی لیے امام حسینؑ کا قیام محض تاریخ کا ایک ایساواقعہ نہیں جسے انسان دور کھڑے ہو کر جذبات کے ساتھ یاد کر لے، بلکہ یہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک مسلسل امتحان ہے کہ وہ حق و باطل کی کشمکش میں کس صف میں کھڑا ہونے کا انتخاب کرتا ہے۔

لہٰذا جب ایک زائر یہ کہتا ہے کہ وہ راہِ حسینؑ کا مسافر ہے، تو اس کا مفہوم صرف یہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک مخصوص جغرافیائی راستے پر چل رہا ہے، بلکہ وہ اسوقت اپنی پوری زندگی کی سمت کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔ گویا وہ یہ کہہ رہا ہے کہ امام حسینؑ محض ایسی شخصیت نہیں جن کی زیارت کر کے انسان جوں کا توں واپس لوٹ آئے، بلکہ وہ ایک ایسا معیار ہیں جس کی روشنی میں انسان اپنے افکار، اپنے فیصلوں اور اپنے کردار کا ازسرِنو جائزہ لیتا ہے۔وہ اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ کیا میں مظلوم کا ساتھ دیتا ہوں،کہ جب اس کی قیمت ادا کرنا پڑے؟ کیا میں فساد کو اس وقت بھی رد کرتا ہوں، جب وہ میرے لیے فائدے کا باعث بن رہا ہو؟ کیا میں کمزور انسان کی عزت و حرمت کا پاس رکھتا ہوں، جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو؟ اور کیا میں باطل کے سامنے "نہیں"کہنے کا حوصلہ رکھتا ہوں، کہ جب خاموش رہنا زیادہ محفوظ اور آسان ہو؟

اسی معنی میں زیارتِ اربعین عصرِ حاضر کے انسان کو درپیش شناخت کے بحران کے مقابل ایک عملی رویہ بن جاتی ہے۔ آج کا انسان اپنے بارے میں بہت سی تفصیلات جانتا ہے: اس کی ملازمت کیا ہے، اس کی قومیت کیا ہے، اس کی آمدنی کتنی ہے، اس کا تعلیمی معیار کیا ہے، اس کا ذوق کیا ہے، وہ کن کھیلوں کی ٹیم کو پسند کرتا ہے، اس کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس کون سے ہیں، اور اسے کیا پسند ہے اور کیا ناپسند۔ لیکن وہ شاید اس بنیادی سوال کا جواب نہ دے سکے کہ میں کس اخلاقی منصوبے سے وابستہ ہوں؟ وہ کون سا مقصد ہے جس کے لیے میں قربانی دے سکتا ہوں؟ اور وہ کیا چیز ہے جسے کھو کر مجھے یوں محسوس ہو کہ گویامیں نے خود کو کھو دیا ہے؟

مصرفیت پر مبنی ثقافت نے ایسا انسان تو پیدا کیا ہے جو اشیا کے درمیان انتخاب کرنا تو جانتا ہے، مگر اقدار کے درمیان انتخاب کرنا ہمیشہ نہیں جانتا۔ وہ ثقافت اسے کھانے، لباس اور تفریح میں بے شمار انتخاب فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے اندر بڑے اخلاقی فیصلے کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ نتیجتاً وہ اپنی راحت میں خلل پر تو بہت حساس ہو جاتا ہے، لیکن حق، عدل اور انسانی وقار پر ہونے والی ضربوں کے بارے میں اس کی حساسیت کم ہو جاتی ہے۔اس کے برعکس، راہِ اربعین انسان کی ترجیحات کو ازسرِنو مرتب کرتی ہے، کیونکہ یہ اسے یاد دلاتی ہے کہ وہ محض ایک صارف نہیں، جو صرف اپنے لیے بہتر چیز کی تلاش میں ہو، بلکہ وہ واضح موقف، احساس ذمہ داری اور حقیقی وابستگی انسان بھی ہے۔

پس یہیں سے زیارتِ اربعین کا وہ اہم ترین پہلو نمایاں ہوتا ہےکہ یہ درحقیقت اس انفرادیت پسند طرزِ فکر کے خلاف ایک عملی احتجاج ہے جو انسان کو اس کی اپنی ذات کے حصار میں قید کر دیتا ہے۔ انفرادیت سے مراد صرف فرد کی آزادی اور اس کی نجی زندگی کا احترام نہیں، کیونکہ یہ ایک جائز امر ہے، بلکہ اس حصارسے مراد اپنی ذات کو اس مقام پر لابٹھا نا ہے کہ ہر چیز کا معیار وہی بن جائے۔ چنانچہ اس مقام پر انسان ہر وقت یہی سوچتا رہتا ہے کہ مجھے اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ میرے حصے میں کیا آئے گا؟ مجھے کتنی راحت ملے گی؟ اور اس سے میری ذاتی منفعت کیا ہے؟

جبکہ راہِ حسینؑ میں سوال کی زبان بدل جاتی ہے۔ یہاں انسان صرف یہ نہیں پوچھتا کہ مجھے کیا ملے گا؟ بلکہ یہاں وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ میں کیا دے سکتا ہوں؟ پیدل چلنے والا زائر دیکھتا ہے کہ ہزاروں افراد اپنے گھروں سے صرف اس کی خدمت کے لیے نکل آئے ہیں، حالانکہ نہ وہ اسے جانتے ہیں، نہ ان سے کسی صلے کی توقع رکھتے ہیں، نہ وہ کسی منصب یا شہرت کا حامل ہے، بلکہ اس کی شناخت صرف اس لیے ہے کہ وہ زائرِ حسینؑ ہے۔

یہاں میزبان دوسرے انسان کو نہ اپنا حریف سمجھتا ہے، نہ گاہک، اور نہ ہی نفع کمانے کا ذریعہ، بلکہ وہ اس موقع کو ایک امانت اور خدمت کا موقع تصور کرتا ہے۔ اسی فضا میں بازار کی منطق پس منظر میں چلی جاتی ہے اور ایثار و خدمت کی منطق نمایاں ہو جاتی ہے۔بازار کی منطق اپنے دائرۂ کار میں قابلِ مذمت نہیں۔ خرید و فروخت، محنت اور باہمی لین دین زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ لیکن خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی منطق انسانی تعلقات کی مکمل تعبیر بن جائے، یہاں تک کہ انسان کسی کو کچھ دینے پر اس وقت آمادہ ہو جب اسے اس کے بدلے میں کچھ حاصل ہونے کی ضمانت ہو۔ایسی صورت میں رحمت کے جذبات ماند پڑ جاتے ہیں، باہمی اعتماد کمزور ہو جاتا ہے، اور معاشرہ تعاون کرنے والی ایک جماعت کے بجائے محض ایک دوسرے کے ساتھ گزر بسر کرنے والے افراد کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے۔

اس کے برعکس، زیارتِ اربعین ایک مختلف منظر پیش کرتی ہے۔ یہاں کھانا بلا معاوضہ پیش کیا جاتا ہے، رہائش بغیر کسی کرائے کے مہیا کی جاتی ہے، وقت کسی معاہدے کے بغیر دوسروں کے لیے وقف کیا جاتا ہے، اور انسان ایسے افراد کی خدمت کرتا ہے جنہیں وہ نہ جانتا ہے اور نہ ہی ان سے کسی صلے یا بدلے کی امید رکھتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ راہِ اربعین خطاؤں یا منفی رویّوں سے بالکل پاک ہے، یا اس میں شریک ہونے والا ہر شخص مکمل طور پر خود غرضی سے آزاد ہو جاتا ہے۔ بلکہ اس عظیم مظہر کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ اس امکان کو نمایاں کرتا ہے کہ ایک ایسا معاشرہ بھی وجود میں آ سکتا ہے جہاں انسانی تعلقات صرف ذاتی مفاد کے تابع نہ ہوں۔

یہ زیارت ہمیں بتاتی ہے کہ انسان ایثار اور عطا کی صلاحیت رکھتا ہے، معاشرہ باہمی اعتماد کی فضا قائم کر سکتا ہے، اور اخلاقی اقدار محض خطابات اور نصیحتوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ یہ ایک ایسےعملی کردار کی صورت اختیار کر لیتی ہیں، جسے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور اپنی زندگی میں برتتے ہیں۔اس سفر میں انسان تنہا نہیں چلتا، اگرچہ وہ اکیلا ہی کیوں نہ آیا ہو۔ بلکہ وہ ایک ایسے عظیم انسانی قافلے کا حصہ بن جاتا ہے جس میں مختلف سن و سال، زبانوں، قومیتوں اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوتے ہیں۔اس سفر میں دولت مند غریب کے شانہ بشانہ چلتا ہے، صاحبِ منصب ایک مزدور کے ساتھ بیٹھتا ہے، اور عراقی عوام اپنے اس مہمان کا استقبال کرتے ہیں جس کے وطن کو انہوں نے شاید کبھی دیکھا بھی نہ ہو۔ ایسے میں امام حسینؑ سے وابستگی وہ پل بن جاتی ہے جو مفادات اور گروہ بندیوں سے کھڑی ہونے والی بہت سی دیواروں کو کمزور کر دیتی ہے۔

اس منظر میں انسان یہ سیکھتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں خودکفیل نہیں، بلکہ جس طرح اسے دوسروں کی ضرورت ہے، اسی طرح دوسرے بھی اس کے محتاج ہیں۔ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں یہ گمان کر سکتا ہے کہ وہ خودمختار ہے اور اپنے تمام معاملات تنہا انجام دے سکتا ہے، لیکن یہ سفر اسے سکھاتا ہے کہ وہ وہی پانی پیتا ہے جو کوئی اور اٹھا کر لایا ہے، اسی جگہ آرام کرتا ہے جسے کسی اور نے تیار کیا ہے، ایسے شخص سے علاج حاصل کرتا ہے جسے وہ جانتا بھی نہیں، اور کبھی وہ خود بھی راستے میں ٹھوکر کھانے والے کسی دوسرے کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ پس یوں یہ زیارت انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ وہ ایک معاشرتی وجود ہے، جس کی زندگی تنہائی میں مکمل نہیں ہو سکتی۔

البتہ ایک اہم سوال باقی رہتا ہےاور وہ یہ کہ کیا یہی کافی ہے کہ انسان چند دن اس طور و طریقے سے جئے اور پھر اپنی سابقہ زندگی کی طرف لوٹ جائے؟ کیا اربعین صرف ایک خوبصورت استثنا ہے، جس میں ہم کچھ دن گزار کر دوبارہ پہلے جیسے ہو جائیں؟ یا یہ زیارت اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ راستے کی اخلاقیات کو راستہ ختم ہونے کے بعد بھی اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ زیارت محض ایک جذباتی تجربہ بن کر زندگی سے جدا نہ ہو جائے۔ ممکن ہے انسان ایامِ زیارت میں زائر کی خدمت بڑے جذبے سے کرے، لیکن اپنے ملازمین اور مزدوروں کے ساتھ ناروا سلوک کرے۔ ممکن ہے وہ زیارت کے دنوں میں اجنبیوں کے لیے اپنے گھر کے دروازے کھول دے، لیکن اپنے غریب رشتہ دار کے لیے اپنے دل کے دروازے بند رکھے۔ ممکن ہے وہ سفر کی مشقت برداشت کر لے، مگر اپنے گھر یا اپنے کام کی ایک معمولی ذمہ داری اٹھانے سے گریز کرے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ خود تو امام حسینؑ کی مظلومیت پر آنسو بہائے، لیکن جب اسے اختیار ملے تو وہ خود ظلم کا مرتکب ہو۔

یہ تنقید زیارت کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اسی کے حقیقی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے کی جاتی ہے۔ کیونکہ عظیم شعائر سوالوں سے نہیں گھبراتے، بلکہ ان کی عظمت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب وہ انسان کی زندگی پر حقیقی اثر ڈالیں۔ زیارت کا مقصد صرف یہ نہیں کہ انسان چند قدم چلے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا اثر اس کے دل و دماغ اور کردار تک پہنچے۔ یہ محض ایک جذباتی موقع نہیں کہ جس سے انسان وقتی طور پر متاثر ہو،اور پھر بغیر کسی تبدیلی کے اپنی سابقہ زندگی گزارنے لگے۔

اگر امام حسینؑ نے ایمان کو عمل سے جدا نہیں ہونے دیا، تو ان کے زائر کے لیے بھی یہ درست نہیں کہ وہ زیارت کو اپنے کردار سے الگ کر دے۔ کربلا نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ صرف دعویٰ کافی نہیں ہوتا۔ اس وقت بھی بہت سے لوگ امام حسینؑ کی عظمت کو جانتے تھے، لیکن وہ ان کی نصرت نہ کر سکے۔ اسی لیے زیارتِ اربعین ہر انسان سے یہ سوال کرتی ہےکہ کیا میرا تعلق امام حسینؑ سے صرف جذباتی ہے، یا میں اس وقت بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوں جب حق مجھ سے اپنی کسی غلط عادت کو چھوڑنے، ناجائز فائدے سے دست بردار ہونے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے یا اپنی غلطی تسلیم کرنے کا مطالبہ کرے؟

سچ تو یہ ہے کہ حقیقی سفر روضۂ امام حسینؑ پر پہنچ کر ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہیں سے شروع ہوتا ہے۔ زائر امام حسینؑ کے حضور اس لیے حاضر ہوتا ہے تاکہ واپس جا کر اپنی زندگی میں ہر اس چیز کا مقابلہ کر سکے جو حسینی فکر کے خلاف ہو۔ وہ اپنی راحت پرستی، خود غرضی اور حق کے معاملے میں ہچکچاہٹ سے نجات حاصل کرنے کے لیے آتا ہے۔ وہ یہ سیکھنے آتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے دعوے نہیں، بلکہ وہ فیصلے ہیں جو وہ اس وقت کرتا ہے جب ذاتی مفاد اور اصول آپس میں ٹکرا جائیں۔

اسی لیے ممکن ہے کہ زائر کے قدموں کا سفر گھر واپسی پر ختم ہو جائے، لیکن شعور اور فکر کا سفر ختم نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اصل امتحان تو واپسی کے بعد شروع ہوتا ہے، جب سفر کا ماحول ختم ہو جاتا ہے، مواکب اٹھ جاتے ہیں، اور انسان دوبارہ اپنے گھر، دفتر، بازار اور روزمرہ زندگی میں لوٹ آتا ہے، جہاں نہ نعروں کی گونج ہوتی ہے، نہ ہجوم کا جوش، اور نہ ہی ہر لمحہ کوئی اسے یاد دلاتا ہے کہ وہ زائرِ حسینؑ ہے۔

پس اسی صورتحال میں معلوم ہوتا ہے کہ اس سفر نے انسان پر کوئی اثر چھوڑا بھی ہے یا نہیں۔ اس سفر کا اثر اس کی امانت داری میں ظاہر ہوتا ہے، جب اسے خیانت کا موقع ملے، اس کے انصاف میں، جب وہ غصے میں ہو۔ اس کی رحمدلی میں، جب وہ طاقت رکھتا ہو۔ اس کی وفاداری میں، جب بے وفائی آسان ہو۔ اور اس کی جرأت میں، جب خاموش رہنا اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔ مقصود یہ نہیں کہ انسان پورا سال پیدل چلتا رہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا دل ہمیشہ اسی راستے پر قائم رہے جس کی طرف وہ چل کر گیا تھا۔

انسان امام حسینؑ کی طرف اس لیے پیدل چلتا ہے کہ کبھی کبھی اسے روزمرہ زندگی کی عادتوں سے نکل کر خود کو نئے سرے سے پہچاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اس لیے چلتا ہے تاکہ جان سکے کہ وہ نہ راحت کا غلام ہے، نہ ذاتی مفاد کا اسیر، نہ دوسروں سے کٹا ہوا ایک فرد، اور نہ ہی صرف ایک مادیت پرست معاشرے کا بے نام حصہ۔ وہ اس لیے چلتا ہے کہ یہ اعلان کرے کہ زندگی میں کچھ اقدار ایسی بھی ہیں جن کے لیے مشقت اٹھانا معنی رکھتا ہے، اور یہ کہ انسان کی شناخت صرف اس کے نعروں سے نہیں، بلکہ اس راستے سے ہوتی ہے جسے وہ اختیار کرتا ہے۔

چنانچہ ہر زیارت کے بعد اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کتنے قدم چلے، کتنے دن سفر کیا، یا کتنی مرتبہ کربلا پہنچے؛ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ امام حسینؑ ہماری زندگی اور ہمارے کردار میں کس حد تک اتر آئے ہیں۔ممکن ہے جسم کربلا پہنچ جائے، لیکن شعور وہاں تک نہ پہنچے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سفر تو ختم ہو جائے، مگر انسان اپنی جگہ سے نہ ہلے۔پس حقیقی زیارت وہ ہے جو انسان کو امام حسینؑ کی بارگاہ سے واپس لوٹنے کے بعد اپنی خواہشات کے سامنے زیادہ مضبوط، ظلم کے بارے میں زیادہ حساس، دوسروں کے لیے زیادہ ایثار کرنے والا، اور اپنی زندگی کی صحیح سمت سے زیادہ باخبر بنا دے۔

تبھی امام حسینؑ کی طرف پیدل چلنا محض ایک سالانہ رسمی عمل نہیں رہتا، بلکہ پوری زندگی کا راستہ بن جاتا ہے۔

شیئر: