الشيخ معتصم السيد أحمد
زیارتِ اربعین کے سیاسی پہلو پر عموماً دو متضاد آرا سامنے آتی ہیں۔ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس زیارت کو صرف غمِ حسینؑ، محبت، عقیدت اور عبادت تک محدود رکھا جائے اور اس کی تقدیس برقرار رکھنے کے لیے اسے سیاست سے الگ رکھا جائےجبکہ دوسرا نقطۂ نظر اسے جماعتی سیاست، کسی حکومت یا مخصوص سیاسی منصوبے کی حمایت کے لیے ایک پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اصل حقیقت کہیں گم ہو جاتی ہےکیونکہ امام حسینؑ کی ذات اور ان کی تحریک کو سیاست سے مکمل طور پر جدا نہیں کیا جا سکتا لیکن انہیں تنگ نظر جماعتی سیاست یا محدود سیاسی مفادات تک محدود کرنا بھی ہرگز درست نہیں۔
زیارتِ اربعین بلا شبہ ایک عظیم دینی شعارہے۔یہ ایسی تحریک ہے جو اقتدار، حقِ حکمرانی، عدل اور امت کی ذمہ داری جیسے اہم اجتماعی مسائل سے بھی گہرا تعلق رکھتی تھی۔ امام حسینؑ کسی ذاتی دشمنی، خاندانی اختلاف یا دنیاوی اقتدار کے حصول کی خواہش کی وجہ سے شہید نہیں ہوئے،بلکہ انہوں نے اس حکومت کو جائز تسلیم کرنے سے انکار کیا جسے وہ دینِ اسلام اور امتِ مسلمہ کے لیے خطرہ سمجھتے تھے اور اسی حق پر قائم رہتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
اسی لیے سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ زیارت کا کوئی سیاسی پہلو ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس سیاسی پہلو کی نوعیت کیا ہے؟ کیا یہ ایسا شعور ہے جو انسان کو باطل کے سامنے جھکنے سے آزاد کرتا ہےیا پھر یہ ایسا ذریعہ بن جاتا ہے جسے جماعتیں اور حکومتیں امام حسینؑ کے نام پر لوگوں کو اپنے تابع بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں؟
حسینی ؑ تحریک سیاسی کیوں تھی؟
جب اموی حکومت نے امام حسینؑ سے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا تو یہ محض ایک ذاتی معاملے یا ایسے فیصلے کا تقاضا نہیں تھا جس کا کوئی اثر نہ ہوتا۔ اس دور میں بیعت صرف ایک فردی حمایت نہیں بلکہ حکمران کی جائز حیثیت کو تسلیم کرنے، اسے امت کی قیادت کا حق دینے اور اس کے نظامِ حکومت کو دینی و اخلاقی جواز فراہم کرنے کے مترادف تھی۔ امام حسینؑ کی بیعت کو خاص اہمیت حاصل تھی کیونکہ آپؑ رسولِ اکرم ﷺ کے قریبی اہلِ بیت میں سے تھے اور مسلمانوں کے دلوں میں آپؑ کو بلند مقام حاصل تھا۔
اسی لیے امام حسینؑ نے اپنے دینی مقام کو ایسی حکومت کے لیے سہارا بننے سے انکار کر دیا جسے آپؑ امت کی قیادت کے لائق نہیں سمجھتے تھے۔ آپؑ کا یہ انکار کسی ذاتی اختلاف یا دشمنی کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ اس بات پر اعتراض تھا کہ حکمرانی کو موروثی اقتدار اور طاقت کے زور پر حاصل کی جانے والی حکومت میں تبدیل کر دیا گیا ہےاور لوگوں سے صرف اس لیے اطاعت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکمران نے کسی طرح اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔یہ موقف سیاست کے گہرے ترین مفہوم میں ایک سیاسی موقف ہےکیونکہ سیاست کا مطلب صرف انتخابات، جماعتوں یا اقتدار کے حصول کی کشمکش تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق عوامی معاملات کے نظم و نسق، حکومت اور معاشرے کے باہمی تعلق کی نوعیت، اقتدار کے جواز کے سرچشمے اور اطاعت کی حدود کے تعین سے بھی ہوتا ہے۔
امام حسینؑ نے واضح کر دیا کہ صرف طاقت کا ہونا حق کو ثابت نہیں کرتا اور کسی حکمران کا اقتدار میں آجانا اسے عادل نہیں بنا دیتا۔ آپؑ نے یہ پیغام دیا کہ انسان اپنی سلامتی کی خاطر ظلم کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔ اسی لیے آپؑ کی تحریک کو اصلاحِ معاشرہ، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے اصولوں سے جوڑا جاتا ہے نہ کہ اسے کسی ذاتی مفاد یا اقتدار کی خواہش کی بنیاد پر ہونے والی کشمکش کے طور پر پیش کیا گیا۔تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم امام حسینؑ کی زیارت بھی کریں، ان کی شہادت پر غم بھی منائیں اور اس کے باوجود ان کی جدوجہد کو اقتدار، عدل، ظلم و فساد اور انسانی وقار جیسے اہم مسائل سے الگ کر دیں؟ امام حسینؑ کو سیاست سے بالکل جدا کر دینا ان کی تحریک کی حفاظت نہیں کرتابلکہ اسے ایک ایسی محض غم انگیز داستان بنا دیتا ہے جس میں کوئی واضح مقصد باقی نہیں رہتا اور ایسا غم جس کے ساتھ کوئی عملی پیغام یا موقف وابستہ نہیں رہتا۔
سیاست اور سیاسی جماعت بندی کے درمیان امتیاز
زیارت(اربعین واک) کے سیاسی پہلو کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے کسی جماعتی یا گروہی سرگرمی میں تبدیل کر دیا جائے۔ سیاست اور جماعتی وابستگی میں واضح فرق ہے۔سیاست سے مراد عدل، حقوق، اقتداراور معاشرے کی ذمہ داری جیسے اجتماعی معاملات سے دلچسپی رکھنا ہے جبکہ جماعتی سیاست کسی مخصوص تنظیم، قیادت یا سیاسی منصوبے سے وابستگی کا نام ہے۔
زیارتِ اربعین سیاسی اہمیت رکھ سکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی جماعت کی ملکیت بن جائے، انتخابی مہم کا ذریعہ بنے یا موجودہ دور کی شخصیات کی وفاداری ثابت کرنے کا موقع بنا دی جائے۔ بلکہ اسے جماعتی مفادات کے لیے استعمال کرنا اس کے حقیقی سیاسی پیغام کے خلاف ہےکیونکہ امام حسینؑ کی جدوجہد کا مقصد اقتدار کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کرنا تھا جبکہ سیاسی مفاد کے لیے اس کا استعمال امام حسینؑ کو اقتدار کے مفاد میں استعمال کرنے کی کوشش بن جاتا ہے۔
جو شخص زیارت کے ماحول کو کسی جماعت یا سیاسی رہنما کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتا ہےیا لوگوں کو یہ تاثر دیتا ہے کہ امام حسینؑ سے وفاداری کا مطلب کسی مخصوص سیاسی قیادت کی حمایت کرنا ہےوہ دراصل امام حسینؑ کے سیاسی پیغام کو پیش نہیں کر رہا بلکہ لوگوں کے دلوں میں موجود ان کی محبت سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ امام حسینؑ کسی ایک ریاست، جماعت یا گروہ کی ملکیت نہیں ہو سکتے بلکہ آپؑ کا مقام اس سے کہیں بلند ہے کہ آپؑ کو کسی انتخابی یا جماعتی کشمکش کا محض ایک نعرہ یا علامت بنا دیا جائے۔
امام حسینؑ ایک ایسا معیار ہیں جس پر قیادتوں کو پرکھا جاتا ہے نہ کہ وہ کوئی ایسا پل ہیں جس کے ذریعے قیادتیں لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ جو بھی شخص، حکمران، جماعت یا فرد امام حسینؑ سے نسبت کا دعویٰ کرے، اسے چاہیے کہ وہ عدل، امانت داری اور حقوق کی پاسداری کے حسینؑ کے معیار پر خود کو پرکھے نہ کہ صرف اس لیے لوگوں سے قبولیت کا مطالبہ کرے کہ وہ امام حسینؑ کا پرچم اٹھائے ہوئے ہے۔
اسی لیے زیارتِ اربعین کو سیاسی رنگ دینے اور اس کے سیاسی مفہوم کو سمجھنے کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے محدود مفادات، گروہی حساب کتاب اور اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے اس کے اجتماعات اور نعروں کو استعمال کیا جائے۔ جبکہ اس کے سیاسی مفہوم کو سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ جان سکے کہ امام حسینؑ ظلم کے خلاف ایک واضح موقف کی علامت ہیں اور ان کی زیارت انسان کے اندر اپنے معاشرے کے تئیں ذمہ داری اور شعور کو مزید بیدار کرے۔
صرف امام حسینؑ کا نام لینے والا ہر شخص حقیقتاً حسینی نہیں بن جاتااور نہ ہی شعائر پر خرچ کرنے والا ہر فرد لازماً امام حسینؑ کے حقیقی پیغام کے قریب ہو جاتا ہے۔ اصل وابستگی کا اظہار نعروں کی کثرت سے نہیں ہوتا بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے مفاد کے مقابلے میں عدل کا ساتھ دے، طاقت رکھنے کے باوجود دوسروں کے حقوق پامال نہ کرے اور اگر بدعنوانی اپنے ہی گروہ یا جماعت میں موجود ہو تو بھی اس کے خلاف کھڑا ہو۔وہ حکمران یا ذمہ دار شخص جو لوگوں کے مال کی حفاظت کرے، ان کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے اور بدعنوان عناصر کا احتساب کرے، وہ امام حسینؑ کے پیغام کے زیادہ قریب ہے بہ نسبت اس شخص کے جو ہزاروں پرچم بلند کرے لیکن ظلم اور آمریت کا راستہ اختیار کرے۔ امام حسینؑ کو ہمیشہ اقتدار اور حکومت کو پرکھنے کا معیار رہنا چاہیے نہ کہ ایسی آڑ بنا دیا جائے جو اس کی غلطیوں کو چھپا دے۔ آپؑ کا پیغام حکمران کے لیے ایک دائمی اخلاقی بیداری اور جواب دہی کا احساس ہونا چاہیےنہ کہ ایسا ذریعہ جس سے اسے تنقید سے بالاتر سمجھ لیا جائے۔
ایسی طاقت جس کی بنیاد ریاست نہیں
زیارتِ اربعین ایک ایسی عوامی قوت کو بھی ظاہر کرتی ہے جو کسی حکومتی فیصلے یا سرکاری اجازت سے وجود میں نہیں آئی۔ ریاست امن و امان، راستوں اور سہولیات کا انتظام کر سکتی ہے لیکن اس زیارت کی اصل بنیاد اس نے قائم نہیں کی، نہ ہی وہ اسے جائز حیثیت عطا کرنے یا اس سے چھین لینے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ روایت لوگوں کے دلوں اور شعور میں گہری جڑیں رکھتی ہے اور ایسے ادوار میں بھی جاری رہی جب بعض حکومتوں نے اسے روکنے اور زائرین کو سزا دینے کی کوشش کی۔
یہی وجہ ہے کہ بعض حکومتیں زیارتِ امام حسینؑ سے خوف محسوس کرتی رہی ہیں؛ اس لیے نہیں کہ زائرین کی آمد و رفت بذاتِ خود کوئی خطرہ ہے بلکہ اس لیے کہ یہ زیارت ایک ایسی زندہ یاد کو برقرار رکھتی ہے جو یہ پیغام دیتی ہے کہ حکمران کے احکامات سے بالاتر بھی کچھ اقدار موجود ہیں، اطاعت ہر حال میں مطلق نہیں ہوتی اور طاقت کسی شخص کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ لوگوں کے ضمیر پر اپنا اختیار قائم کرے۔
زائر جب امام حسینؑ کو یاد کرتا ہے تو وہ ایک ایسے عظیم انسان کی یاد تازہ کرتا ہے جس نے دباؤ اور جبر کے باوجود بیعت قبول کرنے سے انکار کیا اور اپنی ذاتی سلامتی کو اپنی ذمہ داری پر مقدم نہیں رکھا۔ اس یاد میں ایک گہرا سیاسی مفہوم بھی موجود ہے کہ انسان کو صرف اس وجہ سے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرنا چاہیے کہ اقتدار طاقتور ہے۔اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ زیارت کو کسی سیاسی تصادم کا میدان بنا دیا جائےیا ہر زائر کو ایک سیاسی مخالف تصور کیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زیارت امت کے اندر اخلاقی مزاحمت کے شعور کو زندہ رکھتی ہے اور اقتدار کو اس بات سے روکتی ہے کہ وہ دین کو اپنی اجارہ داری بنا لے یا اسے اپنے مفادات کے مطابق اپنی مرضی سے بیان کرے۔
جب ریاست زائرین کے لیے سہولیات فراہم کرتی ہے تو وہ ایک قابلِ قدر ذمہ داری انجام دیتی ہے لیکن اس بنیاد پر وہ اس دینی شعائر کی مالک نہیں بن جاتی اور نہ ہی اسے یہ حق حاصل ہے کہ ان خدمات کو احسان جتانے کا ذریعہ بنا کر لوگوں سے اس کے بدلے خاموشی کا مطالبہ کرے۔ راستے بنانا، امن و امان قائم رکھنا اور علاج کی سہولت فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے، اسی طرح زائرین کی خدمت پورے سال عام شہریوں کی خدمت میں ہونے والی کوتاہیوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔یہ قابلِ قبول نہیں کہ کسی شخص کو زیارت کے راستے میں تو عزت و احترام دیا جائے لیکن سرکاری دفاتر میں اس کی توہین کی جائےیا ریاست ایک مذہبی اجتماع کے انتظام میں کامیاب ہو جائے مگر لوگوں کے حقوق اور ان کے مال و جان کے تحفظ میں ناکام رہے۔ امام حسینؑ کی جدوجہد صرف رسومات کی کامیابی کے لیے نہیں تھی بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسانی عزت، انصاف اور دین کی حقیقی اقدار امت کی زندگی میں ہمیشہ زندہ رہیں۔
زیارتِ اربعین حکمرانوں اور معاشرے کو کیا سبق دیتی ہے؟
زیارتِ اربعین حکمران کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اقتدار کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا، طاقت کے زور پر حاصل کی گئی برتری حکمرانی کا جواز فراہم نہیں کرتی اور حقیقی استحکام لوگوں کی آواز دبانے سے نہیں بلکہ عدل قائم کرنے اور حقوق کی حفاظت سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ زیارت حکمران کو یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ذمہ دار کی ضرورت نہیں جو صرف امام حسینؑ کا ذکر زیادہ کرے بلکہ ایسے ذمہ دار کی ضرورت ہے جو ظلم کے اس دائرے کو کم کرے جس کے خلاف امام حسینؑ نے قیام کیا تھا۔
یہ پیغام صرف حکمران تک محدود نہیں کیونکہ کربلا کا واقعہ صرف ایک ظالم حکومت کی داستان نہیں تھابلکہ ایک ایسے معاشرے کی کہانی بھی تھا جہاں کچھ لوگ تذبذب کا شکار ہوئے، کچھ خوف کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے اور بہت سے لوگوں نے اپنی ذمہ داری پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔ اسی لیے زیارتِ اربعین معاشرے کے سامنے بھی ایک اہم سوال رکھتی ہے کہ کیا ہم ظلم کو صرف اس لیے رد کرتے ہیں کہ وہ ظلم ہے یا ہم اسے صرف اس وقت مسترد کرتے ہیں جب وہ ہمارے مخالفین کی طرف سے ہو؟
انسان صرف اس وقت حسینیؑ نہیں بن جاتا جب وہ کسی دوسرے گروہ کی بدعنوانی کی مذمت کرے اور اپنے گروہ کی بدعنوانی کا جواز پیش کرےیا جب وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائے لیکن دوسروں پر ہونے والے ظلم پر خاموش رہے۔ حسینیؑ سیاسی فکر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ایک ایسا ثابت قدم معیار اختیار کرے جس کے مطابق وہ سب کا احتساب کرےاور جماعتی یا گروہی وابستگی کو حق و انصاف سے بالاتر نہ سمجھے۔
اسی طرح امام حسینؑ کو سیاست سے جوڑنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر وقت بغاوت یا انتشار کی دعوت دی جائے۔ نہ ہر حکمران یزید ہوتا ہے نہ ہر مخالف حسینؑ کے راستے پر ہوتا ہے اور نہ ہی ہر سیاسی کشمکش کو نئی کربلا قرار دیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات کچھ مخالفین اپنے ذاتی یا سیاسی مقاصد کو جائز ثابت کرنے کے لیے امام حسینؑ کے نام کو استعمال کرتے ہیں جبکہ بعض حکومتیں اپنے اقتدار کو درست ثابت کرنے کے لیے اسی نام سے سہارا لینے کی کوشش کرتی ہیں۔امام حسینؑ ہمیں محض بغاوت برائے بغاوت کا سبق نہیں دیتےاور نہ ہی بغیر سوچے سمجھے صرف اطاعت کرنا سکھاتے ہیں بلکہ آپؑ یہ تعلیم دیتے ہیں کہ حق کو معیار بنایا جائے اور معاشرے کو انتشار سے بھی محفوظ رکھا جائےلیکن انتشار کے خوف کو ظلم کو مقدس قرار دینے یا اسے جائز سمجھنے کا بہانہ نہ بنایا جائے۔
ایسی زیارت جو کسی جماعت سے وابستہ نہیں
زیارتِ اربعین کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہونے سے محفوظ رکھنے کا طریقہ یہ نہیں کہ اس کے سیاسی مفہوم ہی کو ختم کر دیا جائےبلکہ یہ ہے کہ اسے کسی ایک جماعت کی اجارہ داری بننے سے روکا جائے اور امام حسینؑ کے مقام کو حکومتوں اور گروہوں سے بلند رکھا جائے۔ حسینیؑ منبر کا مقصد لوگوں میں شعور، بصیرت اور حق کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا کرنا ہونا چاہیےنہ کہ اسے کسی سیاسی تشہیر کے ادارے میں تبدیل کر دیا جائے۔ اسی طرح حسینیؑ شعائر اور علامتوں کو تنقید اور احتساب کا معیار بنے رہنا چاہیے نہ کہ ایسا پردہ جو موجودہ شخصیات کو جواب دہی سے بالاتر تقدس عطا کر دے۔
زیارتِ اربعین ایک عظیم دینی شعار ہے جو اپنے اندر ایک حقیقی سیاسی شعور بھی رکھتی ہےلیکن یہ کسی جماعت سے وابستہ نہیں اور نہ ہی کسی حکومت یا مخالف سیاسی گروہ کو ازخود جواز فراہم کرتی ہے۔ یہ زیارت سب کو یاد دلاتی ہے کہ اقتدار حق سے بالاتر نہیں اور ایسی اطاعت کو کوئی فضیلت نہیں جو انسان کو ظلم میں شریک بنا دے۔ امام حسینؑ سے وابستگی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ سب سے پہلے ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔
امام حسینؑ کو سیاست سے بالکل الگ کر دینا دراصل ان کی تحریک کو اس کے بنیادی اسباب سے جدا کر دینا ہے اور کربلا کو ایسے غم تک محدود کر دینا ہے جو ظلم کے خلاف کوئی چیلنج پیدا نہیں کرتا۔ جبکہ امام حسینؑ کو کسی جماعتی نعرے میں تبدیل کر دینا آپؑ کے عظیم مقام کو گھٹا کر امت کے امام سے ایک مخصوص گروہ کے مفاد کے لیے استعمال ہونے والے وسیلے تک محدود کر دینا ہے۔درست راستہ یہ ہے کہ امام حسینؑ کو ایک ایسے معیار کے طور پر باقی رکھا جائے جس پر ہر ایک کو پرکھا جائے کہ حکمران ہو یا عوام، حامی ہو یا مخالف، جماعت ہو یا فرد۔ ہمیں امام حسینؑ کو اپنے سیاسی نظریات اور مفادات کے تابع نہیں بنانا چاہیےبلکہ اپنی سوچ اور فیصلوں کو ان کی تعلیمات میں موجود عدل، انسانی وقار اور امانت داری کے اصولوں کے تابع کرنا چاہیے۔
اس صورت میں سیاست کا ذکر زیارتِ اربعین میں کسی اجنبی چیز کو شامل کرنا نہیں ہوگا بلکہ اس کے ایک دقیق ترین مفہوم کو دوبارہ سمجھنا ہوگا۔ دین انسانی عزت و وقار سے جدا نہیں ہے، طاقت حق کو ثابت نہیں کرتی اور امام حسینؑ ہمیشہ ایک ایسا معیار رہیں گے جس کے ذریعے لوگوں سے اطاعت کا مطالبہ کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔