الشيخ معتصم السيد أحمد
اقتدار انسان کو قتل کر سکتا ہے لیکن اُس فکر، مقصد اور پیغام کو ختم نہیں کر سکتا جس کی وہ نمائندگی کرتا ہے۔ وہ تلوار کے زور پر وقتی طور پر جنگ جیت سکتا ہے مگر تاریخ کا آخری فیصلہ اپنے حق میں نہیں لکھوا سکتا۔ کربلا میں بھی یہی ہوا۔ اموی حکومت کے پاس فوج، دولت، منبر اور ریاست کی تمام طاقت موجود تھی جبکہ امام حسینؑ اپنے چند وفادار ساتھیوں کے ساتھ ایک دور افتادہ سرزمین میں محصور تھے۔ ان کے پاس ظاہری اور مادی طاقت کے ایسے وسائل نہیں تھے جن سے وہ میدانِ جنگ کا پلڑا اپنے حق میں موڑ سکتے۔
اگر صرف عسکری نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو جنگ کا اختتام امام حسینؑ، ان کے اہلِ بیتؑ اور وفادار ساتھیوں کی شہادت، خواتین کی اسیری اور حکومتی لشکر کی فتح کے اعلان کے ساتھ ہوا۔ لیکن اس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے واضح کر دیا کہ حکومت نے پوری جنگ نہیں جیتی تھی بلکہ وہ صرف فوجی قبضہ ہی کر سکی تھی۔ وہ جسموں پر تو ظلم کر سکی مگر اس خون کے پیغام اور معنی کو مٹا نہ سکی جو اس نے بہایا تھا۔ وہ شہداء کے سروں کو مختلف شہروں میں پھراتی رہی لیکن انہیں اپنے سنگین جرم کی ہمیشہ زندہ رہنے والی گواہی بننے سے نہ روک سکی۔
اسی تناظر میں زیارتِ اربعین کو محض ایک مذہبی اجتماع نہیں سمجھنا چاہیے جو صدیوں پہلے پیش آنے والے ایک سانحے کی یاد تازہ کرتا ہو بلکہ یہ اس حقیقت کا مسلسل اعلان ہے کہ امام حسینؑ کے قاتل جس معرکے کو کربلا میں اپنے حق میں ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے تھے وہ ان کی خواہش کے مطابق انجام تک نہیں پہنچا۔ بلکہ امام حسینؑ، جنہیں حکومت امت سے جدا کرنا چاہتی تھی اپنی شہادت کے بعد امت کے ضمیر اور شعور میں پہلے سے کہیں زیادہ زندہ اور مؤثر بن گئے۔ کربلا کی طرف اٹھنے والا ہر قدم یہ پیغام دیتا ہے کہ طاقت اپنی من پسند داستان لوگوں پر مسلط نہیں کر سکی۔ جس حکومت نے امام حسینؑ کو ایک باغی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی وہ خود تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہو گئی جبکہ امام حسینؑ ایک ایسے معیار بن گئے جس کے ذریعے نسلیں فتح و شکست، حق و باطل اور اقتدار و اصولوں کے درمیان فرق کو پرکھتی ہیں۔
تاریخ کا رخ کون متعین کرتا ہے؟
حکومتیں عموماً صرف واقعات کو جنم دینے پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ ان کی تشریح اور مفہوم بھی اپنی مرضی کے مطابق تشکیل دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ اقتدار کبھی یہ تسلیم نہیں کرتا کہ اس نے ظلم کیا ہے بلکہ اپنے ظلم کو ایسے نام دے دیتا ہے جو بظاہر قابلِ قبول محسوس ہوں جیسے امن و امان کا قیام، فتنہ روکنا، معاشرتی اتحاد کا تحفظ اور ریاست کا دفاع وغیرہ۔ اسی زبان کے ذریعے اموی حکومت نے امام حسینؑ کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جو جماعت سے الگ ہو گئے تھے اور امت کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن گئے تھے۔اگر اس بیانیے کو قبول کر لیا جاتا تو امام حسینؑ ہی خونریزی کے ذمہ دار قرار پاتے جبکہ ان کے قاتل نظام کے تحفظ کے لیے اپنا فرض ادا کرنے والے سپاہی سمجھے جاتے۔ اس طرح اقتدار کا سب سے خطرناک عمل صرف اپنے مخالفین کو قتل کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ صلاحیت بھی ہوتی ہے کہ وہ مقتول کو ہی مجرم اور قاتل کو قانون کا محافظ بنا کر پیش کر دے۔
لیکن اموی بیانیہ ابتدا ہی سے ایک ایسی آواز سے ٹکرا گیا جسے وہ خاموش نہ کر سکا۔ حضرت زینبؑ اور امام زین العابدینؑ نے کربلا کی حقیقت کو کوفہ اور شام تک پہنچایا اور فاتح سمجھے جانے والے دربار کو ایک اخلاقی عدالت میں بدل دیا۔ وہ اقتدار کے سامنے ایسے قیدیوں کی حیثیت سے کھڑے نہیں ہوئے جو رحم کی درخواست کر رہے ہوں بلکہ ایسے گواہوں کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے ظلم کو بے نقاب کیا اور قاتل کو واقعے کی اپنی مرضی کی تشریح کرنے سے روک دیا۔
حکومت نے چاہا کہ اہلِ بیتؑ کی اسیری کو اپنی طاقت کی علامت کے طور پر پیش کرے لیکن ان کی موجودگی ہی اس کے ظلم اور سفاکی کو بے نقاب کرنے والی دلیل بن گئی۔ وہ امام حسینؑ کے سرِ اقدس کو بغاوت کے خاتمے کی نشانی بنانا چاہتی تھی مگر وہی سرِ اقدس اس حکومت کی اخلاقی ساکھ کے زوال کی علامت بن گیا۔ اسی وقت سے دو بیانیوں کے درمیان اصل کشمکش شروع ہوئی: ایک وہ بیانیہ جو اقتدار کا تھا جو کربلا کو ایک ختم شدہ سیاسی و انتظامی واقعہ کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا اور دوسرا وہ بیانیہ جو زندہ یادداشت کا تھا، جس نے کربلا کو حق، عزتِ نفس اور امت کی ذمہ داری کے بارے میں ایک ہمیشہ باقی رہنے والے سوال میں بدل دیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ اموی حکومت کا خاتمہ ہو گیا، اس کی فوجیں، محلات اور منبر سب تاریخ کا حصہ بن گئے لیکن امام حسینؑ باقی رہے۔ وہ اس لیے باقی نہیں رہے کہ انہوں نے ہتھیاروں کے ترازو میں فتح حاصل کی تھی بلکہ اس لیے کہ ان کے پاس وہ اخلاقی حق اور سچائی تھی جسے طاقت مٹا نہیں سکی۔
یادِ حسینؑ نے جابرانہ اقتدار کو کیسے شکست دی؟
یاد کی فتح کی بات کبھی کبھی محض جذباتی اظہار محسوس ہو سکتی ہے لیکن یادداشت صرف ماضی کو یاد کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی قوت ہے جو واقعات کے مفہوم اور معنی کو دوبارہ متعین کرتی ہے۔ اقتدار لوگوں کو خاموش تو کر سکتا ہے مگر ہمیشہ انہیں قائل نہیں کر سکتا۔ وہ کچھ عرصے کے لیے کسی بیانیے کو روک بھی سکتا ہےلیکن خوف کے ختم ہو جانے کے بعد اپنی من پسند تشریح کو برقرار رکھنے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
امام حسینؑ کے قاتل میدانِ جنگ میں تو کامیاب ہو گئے لیکن وہ امت کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے کہ آپؑ کا قتل کوئی عدل یا ناگزیر ضرورت تھی۔ یہاں تک کہ اموی حکومت کا دفاع کرنے والوں کو بھی اکثر اس سانحے سے لاتعلقی اختیار کرنا پڑی یا اس کی ذمہ داری چند افراد پر ڈالنی پڑی کیونکہ کربلا کا سانحہ اتنا بڑا اور سنگین تھا کہ کوئی بھی اقتدار اسے اپنے جواز اور ساکھ کے ساتھ قبول نہیں کر سکتا تھا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ امام حسینؑ نےاہل اقتدار کو اس معرکے کے معنی طے کرنے کا اختیار نہیں دیا۔ حکومت اسے صرف حاکم کی اطاعت اور اس کے خلاف خروج کا مسئلہ بنانا چاہتی تھی مگر امام حسینؑ نے اسے حق اور باطل کے درمیان فرق کا معاملہ بنا دیا۔ وہ اسے ایسا بغاوت کا واقعہ قرار دینا چاہتی تھی جو امن و استحکام کے لیے خطرہ تھالیکن امام حسینؑ نے اسے حکومت کی گمراہی اور انحراف کے خلاف ایک گواہی بنا دیا۔ وہ کربلا کے صحرا تک اس واقعے کو محدود کرنا چاہتی تھی مگر امام حسینؑ نے اسے پوری تاریخ کے لیے ایک زندہ پیغام بنا دیا۔
یہی فتح کی عظیم ترین صورت ہے کہ انسان اپنے مخالف کو یہ موقع نہ دے کہ وہ معرکے کی زبان اور مفہوم خود طے کرے۔ انسان اس وقت شکست کھا سکتا ہے جب وہ اپنے دشمن کے مقرر کردہ پیمانوں کو قبول کر لے، چاہے وہ زندہ ہی کیوں نہ رہے۔ اور وہ اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ اپنے موقف کے حقیقی معنی کو محفوظ رکھے، چاہے میدان میں اس کا جسم گر جائے۔
یزید چاہتا تھا کہ سوال یہ بن جائے کہ: کیا حسینؑ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں؟ لیکن امام حسینؑ نے سوال کا رخ بدل دیا اور اسے یہ بنا دیا کہ: کیا ان کے لیے یزید کی حکومت کو تسلیم کرنا جائز تھا؟ اس طرح معاملہ اس بات سے وابستہ نہیں رہا کہ میدان سے کتنے سپاہی زندہ واپس آئے بلکہ اصل اہمیت اس موقف کی ہو گئی جس نے حق کے معنی کو زندہ اور محفوظ رکھا۔
اربعین: اس بات کی گواہ ہے کہ یاد کو مٹایا نہیں جا سکا
آج زیارتِ اربعین اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ کربلا کو مٹانے کی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ وہ حکومت جو لوگوں کو امام حسینؑ کے گرد جمع ہونے سے روکنا چاہتی تھی، آج باقی نہیں رہی جبکہ ہر سال لاکھوں افراد ان کے مزار کی طرف سفر کرتے ہیں۔ جس شخصیت کو اموی حکمران ریاست کے لیے خطرہ قرار دینا چاہتے تھے، وہ عزت و وقار کی علامت بن گئی جبکہ ان کے قاتلوں کے نام دھوکے اور جرم کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ یہاں اہم بات صرف لوگوں کی بڑی تعداد نہیں بلکہ اس کا مسلسل جاری رہنا ہے۔ کیونکہ وقتی طور پر جمع ہو جانے والا ہجوم کسی فکر کی مضبوطی کی لازمی دلیل نہیں ہوتالیکن صدیوں تک زیارت کا جاری رہناجبکہ مختلف ادوار میں اسے روکنے اور دبانے کی کوششیں بھی کی جاتی رہیں، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ امام حسینؑ اب صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں رہے بلکہ انسانی شعور اور اجتماعی فکر کا ایک بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔
حسینی یاد صرف کتابوں میں محفوظ نہیں رہی بلکہ مجالس، زیارات، شاعری، گریہ و ماتم، خدمت اور سفرِ زیارت کے ذریعے بھی زندہ رہی۔ یعنی یہ صرف ایک ایسی علمی یادداشت بن کر نہیں رہ گئی جسے چند مؤرخین محفوظ رکھتے ہوں بلکہ ایک عوامی اور اجتماعی یاد بن گئی جسے نسل در نسل لوگ اپنے ساتھ منتقل کرتے اور سنبھالتے رہے۔
یہ بات بہت اہم ہے کیونکہ اگر کوئی حقیقت صرف کتابوں کے صفحات تک محدود رہے تو اسے دبایا یا بھلایا جا سکتا ہےلیکن جب وہ ایک مسلسل جاری رہنے والی اجتماعی روایت اور عمل بن جائے تو وہ نگرانی اور پابندیوں سے زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے۔ کربلا کی داستان بیان کرنے والی ہر مجلس، امام حسینؑ کی کی جانے والی ہر زیارت اور ہر والد کا اپنے بیٹے کو اس واقعے سے آگاہ کرنا، اس یاد کو دوبارہ زندہ کرتا ہے اور اقتدار کو یہ موقع نہیں دیتا کہ وہ اس باب کو تاریخ سے مٹا سکے۔
اسی لیے بعض حکمرانوں کی جانب سے زیارت کو روکنے کی کوششیں صرف لوگوں کے قبرِ امام حسینؑ کی طرف جانے کو محدود کرنے کی کوشش نہیں تھیں بلکہ یہ امت اور اس کی تاریخی یاد کے درمیان تعلق کو توڑنے کی کوشش بھی تھیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ جو شخص حسینؑ کو یاد رکھتا ہےاسے یہ باور کرانا آسان نہیں کہ صرف طاقت اور غلبہ ہی حق کی دلیل بن سکتے ہیں۔
وہ یاد جو حال کا محاسبہ کرتی ہے
یادداشت کی اصل اہمیت صرف ماضی کو محفوظ رکھنے میں نہیں بلکہ اس صلاحیت میں ہے کہ وہ حال کو روشنی دکھائے۔ کیونکہ ایسی یاد جو بصیرت پیدا نہ کرے، محض ماضی کی یاد اور جذباتی وابستگی بن کر رہ سکتی ہے اور ایسی یاد جو انسان کو اپنے موجودہ حالات کو سمجھنے کا معیار نہ دے، اس مقصد اور حقیقت سے دور ہو سکتی ہے جسے وہ یاد کر رہی ہوتی ہے۔
زیارتِ اربعین انسان سے یہ تقاضا نہیں کرتی کہ وہ پہلی صدی ہجری میں ہی زندگی گزارنے لگے اور نہ یہ کہ وہ ہر موجودہ واقعے کو سطحی انداز میں کربلا کی صورت قرار دے۔ بلکہ یہ اسے ان اصولوں اور رویّوں کو سمجھنے کی بصیرت عطا کرتی ہے جو بار بار دہرائے جاتے ہیں: ایک ایسا اقتدار جو اطاعت کو حق پر مقدم کرنا چاہتا ہے، ایسے مفادات جو لوگوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرتے ہیں، ایسا خوف جو بہت سے لوگوں کو موقف اختیار کرنے سے پہلے انجامِ معرکہ کا انتظار کرواتا ہےاور ایک مختصر تعداد جو اپنے ضمیر کا سودا کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔
اسی لیے امام حسینؑ صرف اس وجہ سے ایک تاریخی قوت نہیں بن جاتے کہ لوگ ان پر گریہ کرتے ہیں بلکہ اس وقت بنتے ہیں جب ان کا موقف ایک ایسا معیار بن جائے جس کے ذریعے لوگ اپنے آپ اور اپنے حالات کا جائزہ لیں۔ اصل سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ: اہلِ کوفہ نے امام حسینؑ کا ساتھ کیوں چھوڑ دیا؟ بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ: وہ بے وفائی اور مدد سے گریز کا رویہ آج بھی کیسے دہرایا جاتا ہے، جب انسان حق کو پہچاننے کے باوجود اپنے مفاد کے خوف سے اس کا ساتھ دینے سے رک جاتا ہے؟
ضرورت صرف یہ نہیں کہ ہم ان لوگوں کی مذمت کریں جنہوں نے کربلا کے ظلم کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر اس کمزوری کو پہچانیں کہ اگر ظلم ہمارے پسندیدہ لوگوں کی طرف سے ہویا اسے تسلیم کرنا ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوتو کیا ہم بھی اسے جواز دینے کی کوشش کر سکتے ہیں؟ کیونکہ امام حسینؑ کی یاد اس وقت زندہ نہیں رہتی جب ہم اسے صرف ماضی کے لوگوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے استعمال کریں مگر اس کے اصولوں اور معیاروں کو اپنے حال پر نافذ نہ کریں۔
حسینؑ کیسے مسالک سے بلند ہوا؟
زیارتِ اربعین واضح طور پر شیعہ شناخت رکھتی ہےکیونکہ اسے اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں نے زندہ رکھا اور امام حسینؑ کی یاد کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی قربانیاں دیں۔ یہ انصاف نہیں کہ دوسروں کی قبولیت حاصل کرنے کے لیے اس شناخت کو چھپا دیا جائے یا اسے ختم کر دیا جائے۔ تاہم مسلکی خصوصیت اس بات میں رکاوٹ نہیں بنتی کہ حسینی پیغام ایک وسیع انسانی مفہوم اور عالمگیر معنی کا حامل ہو۔امام حسینؑ اس لیے عالمگیر علامت نہیں بنے کہ انہیں ان کے عقیدے اور دین سے الگ کر دیا گیابلکہ اس لیے کہ ان کا پیش کردہ موقف ایسا انسانی پیغام رکھتا ہے جس کی قدر و قیمت ہر ثقافت سے تعلق رکھنے والا انسان سمجھ سکتا ہے۔ یعنی انسان اپنے ضمیر کا سودا نہ کرے، جبر کے سامنے اپنی عزتِ نفس کو محفوظ رکھے، حق کے ساتھ کھڑا ہو خواہ وہ تنہا ہی کیوں نہ ہو اور درست موقف کو حامیوں کی تعداد سے نہ پرکھے۔
امام حسینؑ کی عالمگیریت کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ان کے اسلامی پس منظر اور اصل فکر سے خالی ایک عمومی انسانی نعرہ بنا دیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دینی وابستگی سے پیدا ہونے والی اقدار انسانی فطرت سے مخاطب ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ دنیا کو ایسے حسینؑ کی ضرورت نہیں جن کی شناخت ختم کر دی گئی ہوبلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امام حسینؑ کو اسی حقیقی صورت میں پہچانا جائے جیسے وہ تھے۔ ایک مسلمان امام، جنہوں نے دین، عدل اور امت کی عزت و کرامت کے دفاع کے لیے قیام کیا۔اسی لیے ہم زیارتِ اربعین میں مختلف قومیتوں، زبانوں اور ملکوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بلکہ بعض اوقات مختلف مذاہب سے وابستہ افراد کو بھی کربلا میں جمع ہوتے دیکھتے ہیں۔ انہیں جو چیز متحد کرتی ہے وہ کوئی سیاسی یا معاشی مفاد نہیں بلکہ یہ احساس ہے کہ امام حسینؑ کا موقف ان تمام حدود سے بلند ایک ایسا پیغام رکھتا ہے جو لوگوں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔
کربلا کا پیغام عالمی ضمیر تک
کربلا اب صرف ایک جگہ کا نام نہیں رہی بلکہ یہ ایک خاص نوعیت کی جدوجہد کی علامت بن چکی ہے: ضمیر کے جبر کے مقابل، عزتِ نفس کا ذلت کے مقابل، اور بظاہر کمزور نظر آنے والے حق کا بظاہر بے حد طاقتور باطل کے مقابل کھڑے ہونے کی جدوجہد ہے۔ اسی لیے امام حسینؑ کی داستان انسانی ضمیر کو متاثر کر سکی کیونکہ یہ ایک ایسا سوال اٹھاتی ہے جو کسی ایک دور تک محدود نہیں۔ جب امن و سلامتی کی قیمت باطل کو تسلیم کرنا بن جائے تو انسان کو کیا کرنا چاہیے؟
اس کے باوجود کربلا کی عالمگیریت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کشمکش کو کربلا سے تشبیہ دی جائے اور نہ یہ کہ ہر مخالف کو امام حسینؑ کا مقام دے دیا جائے۔ کیونکہ ہر کمزور اور طاقتور کے درمیان ہونے والی لڑائی حق و باطل کی لڑائی نہیں ہوتی؛ کمزور بھی ظالم ہو سکتا ہے اور طاقتور بھی ظالم ہو سکتا ہے۔ لیکن کربلا انسان کو وہ معیار فراہم کرتی ہے جس کی مدد سے وہ فرق کر سکے: مسئلہ کیا ہے؟ موقف کیا ہے؟ قربانی کون دے رہا ہے؟ اور مقصد لوگوں کی اصلاح ہے یا اقتدار حاصل کرنا؟
امام حسینؑ ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتے کہ صرف شکست کھانے والے کی شکست کی وجہ سے اس کا ساتھ دیا جائے بلکہ یہ سکھاتے ہیں کہ حق صرف اس لیے باطل نہیں بن جاتا کہ اسے شکست ہوئی اور باطل صرف اس لیے حق نہیں بن جاتا کہ وہ کامیاب ہو گیا۔ یہی ایک فکر انسان کو اس غلامی سے آزاد کرنے کے لیے کافی ہے جس میں وہ طاقتوروں کی بنائی ہوئی اپنی عظمت اور برتری کی تصویر کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔
وہ یاد جو ماضی میں قید نہیں رہتی
زیارتِ اربعین ماضی کو اس لیے یاد کرنے کا نام نہیں کہ انسان حال سے فرار اختیار کرے یہ ماضی کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے تاکہ حال بے اصول اور بے معیار نہ بن جائے۔ کیونکہ جو انسان اپنی یادداشت کھو دیتا ہے طاقتور لوگوں کے لیے اسے یہ باور کرانا آسان ہو جاتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھ رہا ہے وہی معمول کا نظام ہے، ظلم کا کوئی متبادل نہیں اور جو غالب آ گیا وہی حق پر ہے۔
لیکن حسینی یاد انسان کو اس سوچ کو قبول کرنے سے روکتی ہے۔ یہ اسے یاد دلاتی ہے کہ ایک ایسی حکومت جس کے پاس طاقت کے تمام وسائل موجود تھے، آخرکار زوال کا شکار ہو گئی جبکہ ایک ایسا شخص جو اپنے اہلِ بیتؑ کے ساتھ گھیر لیا گیا تھا، آج بھی اپنے قاتلوں سے کہیں زیادہ مؤثر اور زیادہ اثر رکھتا ہے۔ یہ یاد انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ زمانہ ہمیشہ تخت و تاج کے مالکوں کے نام محفوظ نہیں رکھتابلکہ کبھی کبھی وہ ان لوگوں کے موقف کو یاد رکھتا ہے جنہوں نے ان کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔
امام حسینؑ کے قاتلوں نے چند گھنٹوں کے لیے کربلا کی زمین پر قبضہ حاصل کیا لیکن امام حسینؑ نے صدیوں کے لیے اس کے معنی کو اپنے نام کر دیا۔ ان کی حکومت ختم ہو گئی مگر امام حسینؑ کا راستہ آج بھی کھلا ہے۔ ان کے منبر خاموش ہو گئےمگر امام حسینؑ کی آواز آج بھی زندہ ہے۔ ان کے لشکر بکھر گئےمگر ان کا پرچم آج بھی لاکھوں لوگوں کو جمع کرتا ہے۔ وہ کربلا کو ایک اختتام بنانا چاہتے تھے لیکن اس یادداشت نے اسے ایک دائمی آغاز بنا دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ امام حسینؑ کو اس شخص کی مثال بنا کر پیش کیا جائے جو اقتدار کی مخالفت کرے اور پھر ختم کر دیا جائے مگر وہ اس بات کی علامت بن گئے کہ حکومت کسی انسان کے جسم کو تو مٹا سکتی ہےلیکن اس کے اصولی موقف کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔ اسی لیے لوگ کربلا کی طرف کسی مردہ ماضی کی زیارت کے لیے نہیں جاتےبلکہ اس اعلان کے لیے جاتے ہیں کہ جس مقصد اور پیغام کے لیے امام حسینؑ نے قربانی دی، وہ آج بھی زندہ ہے۔ یہ پیغام نہ سرحدوں میں محدود کیا جا سکتا ہے، نہ طاقت اسے اپنی ملکیت بنا سکتی ہےاور نہ تاریخ صرف فاتحین ہی لکھتے ہیں۔
زیارتِ اربعین صرف اس بات کی دلیل نہیں کہ لوگوں نے امام حسینؑ کو فراموش نہیں کیا بلکہ یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ امام حسینؑ آج بھی لوگوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ یاد کیسے رکھی جاتی ہے اور اس فرق کو کیسے پہچانا جاتا ہے جو تلواروں سے حاصل ہونے والی فتح اور تاریخ میں رقم ہونے والی فتح کے درمیان ہے۔