الشيخ معتصم السيد أحمد
آج کی دنیا ایک ایسی پیچیدہ اور کثیرالجہتی کشمکش کے دور سے گزر رہی ہے جس کی حقیقت کو صرف فوجی یا سیاسی تنازعات کے تناظر میں نہیں سمجھا جا سکتا۔درحقیقت اس کے پیچھے ایک بڑا فکری اور ثقافتی اختلاف موجود ہے، جو اس بات سے جڑا ہے کہ انسان خود کو کیسے دیکھتا ہے، کائنات میں اپنی حیثیت کو کیا سمجھتا ہے اور زندگی کے مقصد کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟ اسی لیے مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو دو دشمن شناختوں کے لازمی ٹکراؤ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیےبلکہ یہ مختلف نظریات اور تصورات کا فرق ہے جو علم، اخلاقی اقدار اور زندگی کے معنی کے بارے میں انسان کی سوچ کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ اس سے یہ معاملہ محض ہم اور وہ کی لڑائی نہیں رہتا بلکہ یہ واضح ہوتا ہے کہ اختلاف کے باوجود مکالمے، باہمی سمجھ بوجھ اور مثبت تعامل کے دروازے ہمیشہ کھلے رہ سکتے ہیں۔
اس لیے تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کو کوئی اٹل تاریخی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیےبلکہ اسے ایک ایسی پیش گوئی یا جزوی تجزیہ سمجھنا چاہیے جو بعض پہلوؤں میں درست اور بعض میں غلط بھی ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا تمام تر کشیدگیوں اور تنازعات کے باوجود پہلے سے کہیں زیادہ باہمی رابطے اور ثقافتی تعامل کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ خیالات، علوم اور اقدار بڑی تیزی سے سرحدوں کے پار منتقل ہو رہے ہیں۔معیشت، ٹیکنالوجی اور تعلیم جیسے شعبوں میں مختلف قوموں اور معاشروں کے تجربات ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال باہمی سمجھ بوجھ، تعاون اور ہم آہنگی کے وسیع مواقع پیدا کرتی ہےبشرطیکہ انسانیت ایسی سوچ اور ارادے کا مظاہرہ کرے جو خود غرضی اور بالادستی کی سیاست سے بلند ہو۔
تاریخ میں ہمیں تہذیبوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور ساتھ رہنے کی کئی مثالیں ملتی ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ ان کے درمیان ہر وقت ٹکراؤ ہی رہا ہو۔ ان میں ایک نمایاں مثال اندلس کی ہے جہاں تاریخ کے بعض ادوار میں مختلف مذہبی اور ثقافتی گروہ ایک ہی تہذیبی ماحول میں ساتھ ساتھ رہے۔ اس باہمی اکٹھا رہنے اور میل جول نے علم، فنون اور فلسفے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ تاریخی تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اختلاف لازماً دشمنی یا تصادم کا سبب نہیں بنتااور تنوع اگر انصاف اور باہمی احترام کے اصولوں کے تحت ہو تو یہ معاشرے کے لیے طاقت اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
تاہم آج کے دور کا اصل مسئلہ صرف تہذیبی اختلاف نہیں ہے بلکہ طاقت کے توازن میں بگاڑ ہےاور یہ کہ ایک فریق دنیا میں غالب اور مرکزی حیثیت اختیار کر کے اپنی سوچ اور نظریہ دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی بالادستی کا مسئلہ سامنے آتا ہے، جو اس عدم توازن کی ایک نمایاں شکل ہے۔ یہاں معاملہ صرف معاشی یا عسکری برتری تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ کوشش بھی شامل ہے کہ پوری دنیا کو ایک مخصوص ثقافتی اور فکری ماڈل کے مطابق ڈھالا جائے اور اس ماڈل کو انسانی ترقی کا فطری اور حتمی راستہ قرار دیا جائے۔
یہ بالادستی صرف طاقت جیسے فوج یا معیشت کے ذریعے نافذ نہیں کی جاتی بلکہ زیادہ پیچیدہ اور مؤثر ذرائع کے ذریعے بھی نافذ ہوتی ہےجیسے عالمی میڈیا، ثقافتی ادارے، تعلیمی نظام اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی وغیرہ۔ یہ تمام ذرائع انسانی سوچ اور شعور کو غیر محسوس طریقے سے تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں اکثر افراد، خاص طور پر مسلم معاشروں میں، بغیر سوچنے سمجھے اور برتنے درآمد شدہ رہن سہن قبول کرنے لگتے ہیں حالانکہ انہیں ان کے پیچھے موجود فکری اور فلسفیانہ بنیادوں کا شعور نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ ایک طرح کی ثقافتی اجنبیت کی صورت میں نکلتا ہے، جہاں انسان دو مختلف اقدار کے نظاموں کے درمیان زندگی گزارتا ہے مگر ان کے فرق کو واضح طور پر سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
اس بالادستی کے سب سے خطرناک نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ اقدار کو ایسی اشیاء میں بدل دیا جاتا ہے جنہیں برآمد اور فروخت کیا جا سکتا ہے اور ایک مخصوص طرزِ زندگی کو پوری دنیا کے لیے معیارِ زندگی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے ثقافتی اور اخلاقی نظاموں کو یا تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا انہیں پسماندہ اور ناقابلِ عمل قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف مختلف معاشروں کی ثقافتی شناخت کمزور ہوتی ہے بلکہ اندرونی طور پر تقسیم بھی پیدا ہوتی ہے۔ یوں معاشرے کے اندر ایک خلیج پیدا ہو جاتی ہے جہاں ایک طرف نئی نسل یا کچھ طبقات مغربی ماڈل کو نجات اور ترقی کا راستہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ اسے اپنی شناخت اور ثقافت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
تاہم اپنی سختی کے باوجود اب صورتحال پہلے کی طرح یک طرفہ نہیں رہی۔ دنیا میں پیش آنے والے بڑے واقعات، خصوصاً غزہ میں ہونے والی صورتحال نے عالمی سطح پر شعور میں ایک گہری تبدیلی کو ظاہر کیا ہے اور اس بیانیے میں دراڑ ڈال دی ہے جس کے ذریعے مغرب خود کو ہمیشہ آزادی اور انسانی حقوق کا واحد محافظ پیش کرتا رہا ہے۔ یہ واقعات دراصل ایک عالمی اخلاقی امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں، صرف سیاسی نظاموں کے لیے نہیں بلکہ ان کی اقدار کے پورے ڈھانچے کے لیے جن پر یہ نظام قائم ہیں۔ ان کے نتائج نے واضح طور پر یہ تضاد ظاہر کیا ہے کہ جو باتیں زبان پر کہی جاتی ہیں اور جو عمل میں کیا جاتا ہےان میں بڑا فرق موجود ہےاور بہت سے ایسے نعروں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے جنہیں عالمی اور غیر جانبدار اصولوں کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔
یہ انکشاف صرف ایک وقتی یا عارضی میڈیا لمحہ نہیں تھا بلکہ اسے ایک عالمی ثقافتی لہر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس نے انصاف، دوہرے معیار اور سچائی کو طاقت کے ذریعے مسلط کرنے کی حدود جیسے بڑے سوالات کو دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا۔ جب دنیا کے دور دراز حصوں میں انسان یہ دیکھتا ہے کہ واضح انسانی مصائب موجود ہیں لیکن انسانیت کے نام پر بات کرنے والے ادارے ان کے ساتھ پک اینڈ چوزوالا رویہ اختیار کرتے ہیں تو اس سے اعتماد میں ایک گہری دراڑ پیدا ہوتی ہے۔ یہی صورتحال لوگوں کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ معنی اور معیار کے لیے متبادل ذرائع تلاش کریں اور موجودہ بیانیوں پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے انہیں دوبارہ پرکھیں۔
اس تبدیلی کی ایک نمایاں علامت خود مغربی جامعات میں ہونے والی وسیع طلبہ تحریکیں ہیں جہاں امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک میں بڑی تعداد میں طلبہ سڑکوں پر نکلے۔ وہ ایسے نعرے بلند کر رہے تھے جو اپنی روح کے اعتبار سے ان اقدار کے قریب تھے جن کا اسلامی فکر میں ہمیشہ دفاع کیا جاتا رہا ہے جیسے انصاف، ظلم کے خلاف مزاحمت اور اقوام کے لیے عزت و وقار کا حق وغیرہ۔ یہ ہم آہنگی کسی روایتی دعوتی یا براہِ راست اثر کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ انسانی سطح پر اقدار کے ایک مشترکہ کا حصول تھا خاص طور پر اس وقت جب یہ اقدار سیاسی اور میڈیا کی بالادستی سے آزاد ہو کر سامنے آئیں۔
یہاں معاصر ثقافتی کشمکش کی ایک گہری حقیقت سامنے آتی ہے کہ اب یہ تصادم دو الگ تہذیبوں کے درمیان کم اور ایک ہی تہذیب کے اندر زیادہ ہو گیا ہے۔ ایک طرف ایک غالب نظام ہے جو اپنی مخصوص کہانی اور بیانیہ دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف ایک بڑھتا ہوا انسانی شعور ہے جو اخلاقی اصولوں کو دوبارہ دریافت کرنے اور انہیں سیاست کے اثر سے آزاد رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا اب دو سخت اور واضح بلاکس میں تقسیم نہیں رہی بلکہ مختلف اور باہم ملے جلے رجحانات میں بٹ چکی ہے، جن میں بعض ایسے ہیں جو ان اقدار کو دوبارہ دریافت کر رہے ہیں جو کئی صورتوں میں خود بعض مسلم معاشروں کے سرکاری بیانیوں سے زیادہ اسلامی نقطہ نظر کے قریب محسوس ہوتی ہیں۔
یہ تبدیلیاں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ثقافتی اثر و رسوخ اب صرف ریاستوں یا بڑی ادارہ جاتی قوتوں کی اجارہ داری نہیں رہا بلکہ اب یہ عام لوگوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ خاص طور پر نوجوان طبقے تک، جو روایتی دائرہ کار سے باہر جا کر رابطے اور اظہار کے نئے ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا اپنے اندر کئی مسائل بھی رکھتا ہےلیکن اس نے متبادل بیانیوں کے لیے راستہ کھولا ہے، معلومات پر موجود اجارہ داری کو کمزور کیا ہےاور عام انسان کو بھی اس قابل بنایا ہے کہ وہ اجتماعی شعور کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر سکے۔
اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا آج ایک نئے مرحلے کے دروازے پر کھڑی ہے جہاں کوئی ایک ہی ماڈل بغیر سوال اٹھائے اپنے آپ کو دوسروں پر مسلط نہیں کر سکتااور نہ ہی ثقافتی بالادستی اب بغیر مزاحمت کے جاری رہ سکتی ہے۔ یہ مزاحمت ہمیشہ براہِ راست تصادم کی شکل میں نہیں ہوتی بلکہ اکثر یہ اقدار کی نئی تعبیر، سرحدوں سے ماورا باہمی تعاون کے نیٹ ورکس کی تشکیل اور ایک نئے انسانی بیانیے کی صورت میں سامنے آتی ہے جو انسان کی عزتِ نفس اور انصاف کو اپنی بنیاد بناتا ہے۔
اس تناظر میں اسلامی فکر اور وژن میں یہ حقیقی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اس تبدیلی میں مثبت کردار ادا کرےکیونکہ یہ خود کو ایک بند تہذیبی متبادل کے طور پر پیش نہیں کرتابلکہ ایک ایسے اخلاقی اور فکری نظام کے طور پر سامنے آتا ہے جو پوری انسانیت کے لیے مشترکہ بنیاد بن سکتا ہے۔ اسلام انصاف کو ایک ایسی آفاقی قدر کے طور پر پیش کرتا ہے جو مفادات کے تابع نہیں ہوتی، رحمت کو انسانوں کے درمیان تعلق کی بنیاد قرار دیتا ہےاور انسانی وقار کو ہر انسان کا بنیادی حق مانتا ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، نسل یا قوم سے ہو۔
تاہم اس امکان کو حقیقت میں بدلنے کے لیے موجودہ دور کی نوعیت کا گہرا شعور ضروری ہے اور یہ سمجھنا بھی کہ اصل چیلنج صرف دوسرے فریق کے ساتھ نہیں بلکہ خود ہماری اپنی خود فہمی اور اپنے بارے میں تصورات کے ساتھ بھی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایسی عملی مثالیں پیش کریں جو ان اقدار کو حقیقت میں زندہ کر کے دکھائیں۔ کیونکہ دنیا نعرے سن کر کم متاثر ہوتی ہے اور عملی نمونوں سے زیادہ متاثر ہوتی ہےاور مجرد نظریات سے اتنی نہیں جڑتی جتنی ان تجربات سے جو یہ ثابت کریں کہ ان نظریات کو واقعی زندگی میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔
اس تناظر میں ہم ایک ایسی دنیا کا تصور کر سکتے ہیں جہاں تہذیبوں کے درمیان تعلقات غلبے اور برتری کے اصول پر نہیں بلکہ باہمی تکامل کے اصول پر قائم ہوں، جہاں مختلف تجربات اور تہذیبی روایات مشترکہ انسانی اقدار کے سائے میں ایک دوسرے سے ملیں مگر اپنی انفرادی شناخت اور خصوصیات کو بھی برقرار رکھیں۔ اس کا مطلب اختلافات کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ انہیں ایک ایسے اخلاقی فریم ورک کے اندر منظم کرنا ہے جو سب کے لیے انصاف اور برابری کو یقینی بنائے۔
غزہ میں جو کچھ ہوا اور اس کے بعد عالمی سطح پر جو ردِعمل اور تحریک دیکھی گئی وہ کسی کشمکش کا خاتمہ نہیں ہے، لیکن یہ ضرور ایک اشارہ ہے کہ شعور کا توازن بدل رہا ہے اور یہ کہ کسی بھی طرح کی بالادستی، چاہے وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایک ابدی اور حتمی حقیقت نہیں بن سکتی۔ جب انسان دوبارہ سوال کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے اور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اصل حقیقت اور محض بیانیے میں کیا فرق ہے تو وہ ایک نئے امکان کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ ایسا امکان جہاں اقدار اوپر سے مسلط نہیں کی جاتیں بلکہ انسانی شعور اور مشترکہ اخلاقی فہم سے جنم لیتی ہیں۔
اب سوال یہ نہیں رہا کہ کیا اسلامی دنیا عالمی سطح پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ اثر کس طرح اس انداز سے سامنے آئے جو توازن کو دوبارہ قائم کرے اور ہم آہنگی کےنئے افق کھولے۔ ایسے افق جو طاقت کے بجائے اقدار پر اور غلبے کے بجائے انسان کی مرکزیت پر قائم ہوں۔