شیخ معتصم السید احمد
عصرِ حاضر کا انسان ایک ایسے عہد میں زندگی بسر کر رہا ہے جو انسانی تاریخ کے پیچیدہ ترین اور چیلنجنگ ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ دنیا پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ یا زیادہ پُرتشدد ہو چکی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ آج کے تنازعات محض زمین، معیشت یا سیاسی طاقت کے حصول تک محدود نہیں رہے ۔ آج اصل کشمکش اس بات پر ہے کہ حقیقت کی تشریح اور تعبیر کا حق کس کے پاس ہے ؟ خیر و شر، عدل و ظلم، آزادی و جبر، بلکہ خود حقیقت کے مفہوم اور معیار کا تعین کرنے کا اختیار کس کو حاصل ہے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جو آج کے فکری، ثقافتی اور سیاسی معرکوں کی بنیاد بن چکا ہے۔
تاریخ کے مختلف ادوار میں طاقت نے ہمیشہ اپنے دائرۂ اثر کو وسیع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا کام صرف کسی خاص صورتِ حال یا واقعیت کو مسلط کرنا نہیں رہا، بلکہ اکثر اس نے یہ بھی چاہا کہ اسی مسلط شدہ صورتِ حال کو واحد قابلِ قبول حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔ اس طرح طاقت صرف سیاسی یا عسکری غلبے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ انسانی شعور، سوچ اور فہمِ حقیقت پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے۔اسی لیے آج اصل سوال یہ نہیں کہ سب سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا طاقت رکھنے والا یہ حق بھی رکھتا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے حق، باطل اور حقیقت کے معیار متعین کرے؟ کیا محض قوت و اقتدار کسی نظریے یا دعوے کو سچ ثابت کر سکتے ہیں، یا حقیقت ایک ایسی مستقل قدر ہے جو طاقت سے بالاتر ہوتی ہے؟ یہیں سے ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے جو بظاہر سادہ مگر اپنے اثرات کے اعتبار سے نہایت اہم ہے: کیا قوت حقیقت کو تخلیق کر سکتی ہے؟
بادیٔ نظر میں اس سوال کا جواب اثبات میں معلوم ہوتا ہے۔ جب کوئی ریاست یا طاقتور نظام عالمی ذرائع ابلاغ، معاشی قوت، بین الاقوامی اداروں، اور عسکری و تکنیکی برتری پر حاوی ہو تو بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے اور حقائق کا رخ متعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم گہرا غور و فکر اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ یہاں ایک اہم فکری مغالطہ موجود ہے، جو تین مختلف امور کو ایک دوسرے سے خلط ملط کر دیتا ہے۔ واقعیت کو مسلط کرنے کی قدرت، انسانی ادراک کو تشکیل دینے کی صلاحیت، اور حقیقت کو تخلیق کرنے کا اختیار۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی طاقت کے لیے ایک مخصوص صورتِ حال کو نافذ کرنا، واقعات کے رخ کو متاثر کرنا، یا لوگوں کے شعور اور زاویۂ نگاہ پر اثر انداز ہونا ممکن ہے، لیکن یہ ہرگز لازم نہیں کہ وہ حقیقت کو بھی ازسرِ نو وضع کر سکے۔ قوت ذرائع ابلاغ، تعلیم، زبان اور مسلسل تکرار کے ذریعے لوگوں کے ادراک کو متاثر کر سکتی ہے، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ کسی باطل کو حق یا کسی غیر حقیقی امر کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
یہی دراصل مسئلے کا بنیادی نقطۂ آغاز ہے۔
عصرِ حاضر کے نمایاں فکری تغیرات میں سے ایک یہ ہے کہ حقیقت کو کشفِ واقع اور جستجوئے حق کے بجائے بعض اوقات قوت اور غلبے کی پیداوار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ گویا جس بات کی مسلسل تشہیر کی جائے وہی حقیقت بن جاتی ہے، اور جس حقیقت کو طویل عرصے تک چھپا دیا جائے وہ گویا نظروں سے اوجھل ہو کر اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہے۔ اسی لیے آج کے تنازعات کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ اب اصل معرکہ خود واقعات پر نہیں، بلکہ ان کی تعبیر و تفہیم پر ہے۔ نزاع اس بات پر نہیں کہ کیا ہوا، بلکہ اس پر ہے کہ اسے کس مفہوم اور معنی میں پیش کیا جائے۔
یہ توقع کی جاتی تھی کہ ڈیجیٹل دور حقیقت تک رسائی کو آسان بنا دے گا اور معلوماتی اجارہ داری کا خاتمہ کر دے گا، لیکن عملاً انسان معلومات کے ایسے سیلاب میں گھر گیا ہے جہاں خبر اور بیانیے، حقیقت اور اس کی تعبیر کے درمیان فرق دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ثقافتی بالادستی عسکری بالادستی سے زیادہ مؤثر دکھائی دیتی ہے، کیونکہ عسکری قوت جسموں پر اقتدار قائم کرتی ہے، جبکہ ثقافتی غلبہ شعور، افکار اور نظامِ اقدار کی تشکیل کرتا ہے۔ اسی لیے تاریخ کی بڑی طاقتیں ہمیشہ ایسے اخلاقی بیانیے تخلیق کرتی رہی ہیں جو ان کے غلبے کو مشروعیت فراہم کر سکیں۔ قدیم سلطنتیں اسے نظم و استحکام کا نام دیتی تھیں، یورپی استعمار تہذیب و تمدن کی ترویج کا دعویٰ کرتا تھا، جبکہ جدید دور میں آزادی، انسانی حقوق، عالمی اقدار کے تحفظ اور بین الاقوامی نظام کے دفاع جیسے تصورات اسی مقصد کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔گویا زمانے کے بدلنے کے ساتھ زبان، اصطلاحات اور نعرے تو بدلتے رہے، لیکن طاقت کو اخلاقی جواز فراہم کرنے کی ضرورت کبھی ختم نہیں ہوئی۔ تاریخ میں مختلف طاقتوں نے اپنے غلبے کو مختلف عنوانات کے تحت پیش کیا، مگر مقصد ہمیشہ اپنے اقتدار کو قابلِ قبول بنانا رہا۔
تاہم مسئلہ خود ان اقدار میں نہیں ہے۔ آزادی، عدل اور انسانی کرامت ایسی عظیم اور آفاقی قدریں ہیں جن کے بغیر ایک مہذب اور عادلانہ معاشرے کا تصور ممکن نہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی اقدار حق اور انصاف کا معیار بننے کے بجائے مفادات کے حصول کا ذریعہ بن جائیں، اور ان کا استعمال سب کے لیے یکساں ہونے کے بجائے انتخابی اور امتیازی انداز میں ہونے لگے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقت اور طاقت کے راستے جدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب اقدار کو صداقت کے بجائے مفادات کی خدمت کے لیے استعمال کیا جائے تو طاقت اپنا غلبہ برقرار رکھ سکتی ہے، لیکن حقیقت کو اپنی ملکیت نہیں بنا سکتی۔ قوت خاموشی مسلط کر سکتی ہے، زبانوں کو روک سکتی ہے اور بعض آوازوں کو دبانے میں کامیاب ہو سکتی ہے، لیکن وہ انسان کے ضمیر اور یقین پر ہمیشہ کے لیے حکمرانی نہیں کر سکتی۔
اسی زاویۂ نظر سے حالیہ برسوں میں رونما ہونے والی بعض بڑی عالمی تبدیلیوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ محض سیاسی واقعات نہیں تھے، بلکہ ایسے فکری اور تہذیبی لمحات تھے جنہوں نے موجودہ اخلاقی بالادستی کی حدود کو نمایاں کر دیا۔ ان واقعات نے یہ واضح کیا کہ طاقت خواہ کتنی ہی وسیع اور مؤثر کیوں نہ ہو، حقیقت پر مستقل اجارہ داری قائم نہیں رکھ سکتی۔ خصوصاً غزہ کے واقعات کے ساتھ سامنے آنے والی فکری اور سماجی ردِعمل کی لہروں نے صرف ایک سیاسی تنازع کو نمایاں نہیں کیا، بلکہ عالمی سطح پر کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا۔ لوگوں نے یہ پوچھنا شروع کیا کہ کیا اصول اور اقدار واقعی سب کے لیے یکساں ہیں، یا ان کا اطلاق بھی طاقت اور مفادات کے مطابق ہوتا ہے؟ کیا انسانی حقوق ایک مستقل اخلاقی قدر ہیں، یا انہیں صرف وہاں اہمیت دی جاتی ہے جہاں سیاسی مفادات اجازت دیتے ہیں؟
ان تمام صورتِ حال میں سب سے اہم تبدیلی سرکاری اداروں کے اندر نہیں، بلکہ ان کے باہر دیکھی گئی۔ جامعات، نوجوانوں کی تحریکوں، فکری حلقوں اور عالمی سطح پر اظہارِ یکجہتی کی مختلف صورتوں میں ایک نئی شعوری بیداری سامنے آئی۔ اس بیداری نے ان غالب بیانیوں کو سوالات کی زد میں لا کھڑا کیا جو طویل عرصے سے عالمی رائے عامہ اور اجتماعی شعور پر اثر انداز ہوتے رہے تھے۔ یوں دہائیوں سے قائم بہت سے فکری مسلمات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جانے لگا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا نے اسلامی نقطۂ نظر کو مکمل طور پر قبول کر لیا ہے یا اپنی تہذیبی سمت تبدیل کر لی ہے۔ البتہ اس صورتِ حال نے ایک اہم حقیقت کو ضرور واضح کر دیا ہے کہ جب دعووں اور حقائق، یا بیانیے اور واقعیت کے درمیان فرق بڑھ جاتا ہے تو انسان کسی نئے اور زیادہ معتبر معیار کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔ جب الفاظ اپنی تاثیر کھو دیں اور بیانیہ حقیقت کی درست ترجمانی نہ کر سکے تو انسانی شعور فطری طور پر سچائی کو پرکھنے کے لیے ایک نئے میزان کی جستجو کرتا ہے۔ یہی ہمارے دور کی ایک اہم ثقافتی حقیقت ہے۔ آج دنیا صرف طاقتور ریاستوں اور اقتدار کے مراکز کے فیصلوں سے تشکیل نہیں پاتی، بلکہ عوامی شعور، تنقیدی فکر اور مسلمہ تصورات پر ازسرِ نو غور کرنے کی صلاحیت بھی عالمی حالات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
یعنی آج تاریخ کا رخ صرف طاقتور ریاستوں، حکمرانوں یا بالادست قوتوں کے فیصلوں سے متعین نہیں ہوتا، بلکہ عوامی شعور، اجتماعی آگہی اور معاشروں میں پیدا ہونے والے سوالات بھی اس کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ موجودہ دور کے بعض تنازعات کو صرف جغرافیہ، سیاست یا مفادات کے زاویے سے نہ دیکھا جائے، بلکہ انہیں ایک وسیع تر فکری اور تہذیبی تناظر میں سمجھا جائے۔ کیونکہ ان میں سے بہت سے تنازعات درحقیقت صرف سیاسی مفادات کی کشمکش نہیں، بلکہ طاقت، بیانیے اور حقیقت کے باہمی تعلق سے متعلق ایک گہری جدوجہد کی نمائندگی کرتے ہیں۔
چنانچہ آج کے بہت سے عالمی تنازعات کو دو مختلف تصورات کے درمیان کشمکش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک تصور یہ ہے کہ جو فریق زیادہ طاقت رکھتا ہے، وہ دوسروں کے لیے اصول، حدود اور معیارات متعین کرنے کا حق بھی رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا تصور یہ اصرار کرتا ہے کہ طاقت کسی فرد، ریاست یا نظام کو حقیقت پر اجارہ داری کا حق نہیں دے سکتی۔ یوں اصل نزاع طاقت کے وجود پر نہیں، بلکہ اس کی حدود پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قوت صرف غلبہ عطا کرتی ہے یا وہ حق و باطل اور حقیقت و معنویت کی تعیین کا اختیار بھی حاصل کر لیتی ہے؟
اسی لیے بعض معاصر تحریکوں اور نمونوں کی عالمی سطح پر گونج صرف اس وجہ سے نہیں کہ لوگ ان سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ فکری اجارہ داری اور یک طرفہ بیانیے کے تصور کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کی اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ ہر اس کوشش کے مقابلے میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں جو طاقت کے بل پر دوسروں کے لیے حقیقت اور مفہوم متعین کرنا چاہتی ہے۔
اسی تناظر میں بعض حلقوں میں ایران کے موقف کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ضروری نہیں کہ لوگ اس کی تمام پالیسیوں یا نظریات سے متفق ہوں، بلکہ بہت سے افراد اس میں خودمختاری، آزادانہ فیصلہ سازی اور بیرونی دباؤ کے مقابلے میں اپنے حقِ انتخاب کے دفاع کی ایک مثال دیکھتے ہیں۔ اس سے ایک بنیادی سوال دوبارہ سامنے آتا ہے: کیا زیادہ طاقت رکھنے والا فریق دوسروں کے لیے ممکن اور ناممکن، جائز اور ناجائز، یا قابلِ قبول اور ناقابلِ قبول کی حدود متعین کرنے کا حق رکھتا ہے؟
یہ سوال کسی ایک ملک یا مخصوص تنازع تک محدود نہیں، بلکہ تاریخ میں بار بار سامنے آنے والا ایک بنیادی انسانی سوال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کے بڑے تغیرات ہمیشہ طاقت کی فتح سے نہیں، بلکہ افکار کی استقامت اور اصولوں کی پائیداری سے جنم لیتے ہیں۔ حق ہمیشہ اس لیے کامیاب نہیں ہوتا کہ ابتدا ہی میں اس کے پاس قوت موجود ہو، بلکہ اس لیے کہ وہ وقت کی آزمائشوں کے باوجود باقی رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر صرف طاقت ہی حقیقت کا معیار ہوتی تو نہ سلطنتیں زوال پذیر ہوتیں اور نہ وہ افکار زندہ رہتے جو صدیوں کے جبر کے باوجود باقی رہے۔
انسانی فکر کی ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ حقانیت کو فوری نتائج اور وقتی کامیابیوں سے وابستہ کر دیتی ہے۔ حالانکہ سیاسی اور عسکری کامیابیاں ہمیشہ سچائی کا معیار نہیں ہوتیں۔ اسی مقام پر اسلامی فکر ایک متوازن نقطۂ نظر پیش کرتی ہے۔ قرآنِ مجید نہ کثرتِ تعداد کو حق کی دلیل قرار دیتا ہے اور نہ غلبۂ قوت کو حقانیت کا معیار بناتا ہے، بلکہ تاریخ کو آزمائش اور گردشِ احوال کا ایسا میدان قرار دیتا ہے جہاں وقت گزرنے کے ساتھ قوت کی حدود اور حقیقت کی پائیداری نمایاں ہوتی جاتی ہے۔
اسی لیے قرآن بارہا اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ حالات اور زمانے کے دن لوگوں کے درمیان گردش کرتے رہتے ہیں، اور الٰہی سنّتیں اپنے اٹل نظام کے تحت جاری رہتی ہیں، خواہ کسی خاص مرحلے میں ظاہری صورتِ حال کسی ایک فریق کے حق میں کیوں نہ دکھائی دے۔ قرآن کا زاویۂ نظر یہ نہیں کہ حق اپنی قوت کے باعث غالب آتا ہے، بلکہ وہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ جب قوت حق سے اپنا رشتہ منقطع کر لیتی ہے تو وہ اپنے باطن ہی میں زوال اور انہدام کے اسباب پرورش دینے لگتی ہے۔ اسی لیے غلبے اور بالادستی کے خلاف مزاحمت ہمیشہ عسکری یا سیاسی میدان تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اپنی اصل میں ایک گہرا ثقافتی اور شعوری عمل بھی ہے۔ یہ انسان کے اس حق کے تحفظ کا نام ہے کہ وہ خود دیکھے، خود سوچے، خود سوال اٹھائے، اور حقیقت کے مفہوم کو محض طاقت کے مراکز کے سپرد نہ کر دے۔
چنانچہ حقیقی مزاحمت کا ایک بنیادی مظہر یہ ہے کہ انسان قوت کو حقیقت کا واحد معیار تسلیم کرنے سے انکار کر دے، اور اپنے حقِ فکر، حقِ سوال اور حقِ قضاوت کو زندہ رکھے۔ بالآخر اصل سوال یہ نہیں کہ کیا قوت حقیقت کو تخلیق کر سکتی ہے؟ بلکہ اس سے بھی زیادہ دقیق سوال یہ ہے کہ قوت حقیقت کو ظاہر ہونے سے آخر کب تک مؤخر رکھ سکتی ہے؟ رہی خود حقیقت، تو ممکن ہے اسے محاصرے میں لے لیا جائے، اس کی صورت مسخ کر دی جائے، یا لوگوں کو اس سے خوف زدہ اور اس سے بے اعتنا بنا دیا جائے۔ لیکن حقیقت نہ قوت کے حکم سے وجود میں آتی ہے اور نہ ہی توجہ کے زوال سے معدوم ہو جاتی ہے۔ اور یہی تاریخ کی گہری ترین سنّتوں میں سے ایک ہے۔قوت ایک مدت تک منظرنامے کو اپنے زیرِ اثر رکھ سکتی ہے، لیکن وہ معنی اور حقیقت پر ہمیشہ کے لیے اجارہ داری قائم نہیں کر سکتی۔