واپس
عقل اور فطرت کے درمیان تصورِ خدا: کانٹ اور اسلامی نقطۂ نظر

عقل اور فطرت کے درمیان تصورِ خدا: کانٹ اور اسلامی نقطۂ نظر

انسانی فکر میں خدا کی معرفت کا سوال محض ایک سادہ علمی یا فلسفیانہ بحث نہیں، بلکہ ایسا بنیادی مسئلہ ہے جو عقل کی حدود اور انسان کے وجودی شعور کے درمیان ایک نقطۂ اتصال کی حیثیت رکھتا ہے۔

شیخ معتصم السید احمد

انسانی فکر میں خدا کی معرفت کا سوال محض ایک سادہ علمی یا فلسفیانہ بحث نہیں، بلکہ ایسا بنیادی مسئلہ ہے جو عقل کی حدود اور انسان کے وجودی شعور کے درمیان ایک نقطۂ اتصال کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فلسفہ اور مذہبی فکر کے دو نمایاں رجحانات ایک دوسرے سے جدا نظر آتے ہیں۔ ایک طرف ایمانوئل کانٹ کی تنقیدی فلسفیانہ روایت، اور دوسری جانب اسلامی تصورِ معرفت، خصوصاً مکتبِ اہلِ بیتؑ کی پیش کردہ فطری معرفت کی تعلیمات۔

ان دونوں زاویۂ نگاہوں کے درمیان اختلاف صرف نتائج اور نظریات کا نہیں، بلکہ سوال کی بنیاد اور اس کی نوعیت کا بھی ہے۔ اصل بحث یہ ہے کہ آیا خدا کو ایک ایسے موضوع کے طور پر دیکھا جائے جسے انسانی عقل اور ادراک کے ذریعے جاننے کی کوشش کی جاتی ہے، یا اسے ایسی مطلق اور بنیادی حقیقت سمجھا جائے جو خود ہر قسم کی معرفت، شعور اور ادراک کی اساس اور سرچشمہ ہے؟

اپنے فلسفیانہ منصوبے میں کانٹ نے انسانی معرفت کی ازسرِ نو تشکیل ایک سخت تنقیدی بنیاد پر کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے اس نے اُن امور کے درمیان واضح امتیاز قائم کیا جو عقل کی دسترس میں ہیں اور اُن حقائق کے درمیان جو عقل کے دائرۂ ادراک سے ماورا ہیں۔

کانٹ کے نزدیک خدا ایسی ہستی نہیں جس کے وجود کو نظری عقل کے ذریعے قطعی طور پر ثابت کیا جا سکے، کیونکہ عقلِ نظری کا میدان صرف مظاہر تک محدود ہے، جبکہ خدا، بطورِ "شے فی نفسہ"، اس دائرے سے بالاتر ہے۔ اسی بنا پر کانٹ نے خدا کے وجود کے حق میں پیش کیے جانے والے روایتی فلسفیانہ دلائل کو قبول نہیں کیا۔ البتہ اس کا یہ موقف خدا کے وجود کے انکار پر مبنی نہیں تھا، بلکہ اس اعتقاد پر قائم تھا کہ یہ دلائل عقل کی اُن حدود سے تجاوز کرتے ہیں جنہیں وہ انسانی معرفت کے لیے متعین سمجھتا تھا۔

تاہم کانٹ نے ایمان کا انکار نہیں کیا، بلکہ اسے ایک نئے دائرے، یعنی اخلاقی میدان میں ازسرِ نو بنیاد فراہم کی۔ اس کے نزدیک خدا کوئی ایسا وجود نہیں جس تک انسان خالص معرفت کے ذریعے پہنچ سکے، بلکہ وہ ایک اخلاقی ضرورت ہے۔ کیونکہ اخلاقی نظام، جو اپنے اندر عدلِ کامل اور جزا و سزا کے حتمی تصور کو سموئے ہوئے ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ایک ایسی برتر ہستی کا وجود فرض کیا جائے جو اس عدل کے کامل تحقق کی ضامن ہو۔

اسی بنا پر کانٹ کے ہاں خدا پر ایمان ایک عملی مفروضہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، نہ کہ ایک ایسی معرفتی حقیقت جسے نظری عقل قطعی طور پر ثابت کر سکے۔یہ نقطۂ نظر درحقیقت انسان کی ماہیت کے بارے میں کانٹ کے مخصوص تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ اس تصور کے مطابق انسان خدا کو جاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، لیکن اپنے اخلاقی نظام کی بقا اور معنویت کے لیے خدا کا محتاج ہے۔ یوں خدا کے ساتھ انسان کا تعلق معرفت اور شناخت کے رشتے سے منتقل ہو کر ایک اخلاقی اور عملی ضرورت کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جہاں خدا انسان کے اخلاقی شعور کی تکمیل کا لازمہ تو ہے، مگر اس کی براہِ راست معرفت کا موضوع نہیں۔

اس کے برعکس اسلامی فکر، بالخصوص مکتبِ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات، خدا کی معرفت کے بارے میں ایک بالکل مختلف اور بنیادی طور پر جداگانہ نقطۂ نظر پیش کرتی ہے۔ یہ تصور عقل کی حدود سے بحث کا آغاز نہیں کرتا، بلکہ خود انسان کی فطرت کو نقطۂ آغاز قرار دیتا ہے۔ اس کے مطابق خدا کی معرفت کسی منطقی استدلال یا فلسفیانہ برہان کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ایسی فطری اور ودیعت شدہ حقیقت ہے جو انسان کی سرشت میں پوشیدہ ہے اور جسے ایجاد یا ثابت کرنے کے بجائے صرف بیدار اور یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

قرآنِ کریم اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ﴾، ’’پس آپ نصیحت کیجیے، آپ تو صرف یاد دہانی کرانے والے ہیں‘‘۔ اسی طرح ارشاد ہوتا ہے:﴿أَفِي اللهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ کیا اللہ کے بارے میں کوئی شک ہو سکتا ہے، جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے؟‘

ان آیات میں مقصود خدا کے وجود کو ثابت کرنا نہیں، بلکہ اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ اس کا وجود انسانی فطرت کے لیے ایک بدیہی امر ہے۔ چنانچہ اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق خدا کی معرفت کوئی خارجی طور پر حاصل کی جانے والی شے نہیں، بلکہ انسانی وجود کا ایک بنیادی حصہ ہے، اگرچہ غفلت، خواہشاتِ نفس اور دنیاوی مشغولیات بعض اوقات اس فطری شعور پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔

اہلِ بیتؑ سے منقول روایات بھی اسی حقیقت کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ زرارہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امام جعفر صادقؑ سے آیت ﴿فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا﴾ کے بارے میں سوال کیا تو آپؑ نے فرمایا: «فُطِرُوا عَلَى التَّوْحِيدِ»، ’’لوگوں کو توحید کی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے۔ اسی طرح امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں(فَطَرَهُمْ عَلَى مَعْرِفَةِ أَنَّهُ رَبُّهُمْ، وَلَوْلَا ذٰلِكَ لَمْ يَعْلَمُوا إِذَا سُئِلُوا مَنْ رَبُّهُمْ وَلَا مَنْ رَازِقُهُمْ) ’’اللہ نے انہیں اس معرفت کے ساتھ پیدا کیا کہ وہی ان کا پروردگار ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یہ بھی نہ جان پاتے کہ ان کا رب کون ہے اور انہیں رزق دینے والا کون ہے۔‘‘

یہ نصوص اس امر کو واضح کرتی ہیں کہ خدا کی معرفت محض عقلی استدلال کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سادہ اور براہِ راست وجدانی شعور ہے جسے انسان اپنی گہرائی میں محسوس کرتا ہے، اگرچہ ہمیشہ اس کی طرف متوجہ نہیں رہتا۔ اسی بنیاد پر انبیائے الٰہی کا کردار بھی نئے سرے سے معرفت پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس فطری شعور کو بیدار کرنا ہے۔ چنانچہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ انبیاء کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں(لِيَسْتَأْدُوهُمْ مِيثَاقَ فِطْرَتِهِ، وَيُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِهِ، وَيُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ) ’’تاکہ وہ لوگوں سے فطرت کے عہد کی پاسداری کا مطالبہ کریں، انہیں بھولی ہوئی نعمتوں کی یاد دلائیں، اور ان کی عقلوں میں پوشیدہ خزانوں کو بیدار کریں۔‘‘

البتہ اسلامی نقطۂ نظر عقل کے کردار کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک نئے مفہوم میں پیش کرتا ہے۔ اس کے مطابق عقل خدا کو دریافت نہیں کرتی، بلکہ فطرت میں موجود اس کی معرفت کا ادراک اور اقرار کرتی ہے۔ یوں عقل معرفت کا سرچشمہ نہیں، بلکہ تکلیف اور ذمہ داری کی بنیاد بنتی ہے۔

اسی لیے خدا کی معرفت بنیادی طور پر انسانی کوشش کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک الٰہی عطیہ ہے۔ روایت میں ہے (ليس لله على الخلق أن يعرفوا قبل أن يعرّفهم) یعنی خدا پہلے خود اپنی معرفت عطا کرتا ہے، پھر بندوں سے اس کے قبول کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

اس طرح اسلامی تصور میں معرفتِ الٰہی انسان کی فکری پیداوار نہیں، بلکہ ایک ربانی ودیعت ہے، جبکہ عقل اس کی پہچان اور قبولیت کا ذریعہ بنتی ہے۔

یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں کانٹ اور اسلامی تصورِ معرفت کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے۔ کانٹ کے نزدیک عقل کی حدود انسان کو خدا کی معرفت سے محروم کر دیتی ہیں، جبکہ اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق مسئلہ عقل کی محدودیت کا نہیں، بلکہ خود موضوع کی حقیقت کا ہے۔ خدا کو کسی ذہنی تصور یا احاطے میں نہیں لایا جا سکتا، کیونکہ ہر تصور کسی نہ کسی درجے میں احاطے کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ ذاتِ الٰہی ہر قسم کے احاطے سے ماورا ہے۔ اس لیے خدا کو ایک "موضوعِ معرفت" بنا کر جاننے کی کوشش خود معرفت کے صحیح راستے سے انحراف ہے۔

اسی حقیقت کو امام حسینؑ نے دعائے عرفہ میں نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا ہے (كيف يُستدل عليك بما هو في وجوده مفتقر إليك؟ ... متى غبت حتى تحتاج إلى دليل يدل عليك) یعنی: "اس چیز کے ذریعے تجھ پر کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے جو اپنے وجود میں خود تیری محتاج ہے؟ ... تو کب غائب تھا کہ تجھے پہچاننے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت پیش آئے؟"

یہ کلمات دلیل کی نفی نہیں کرتے، بلکہ اس کے مفہوم کو واضح کرتے ہیں۔ خدا کوئی مخفی حقیقت نہیں جسے دلائل کے ذریعے ظاہر کیا جائے، بلکہ وہ خود سب سے زیادہ ظاہر ہے، جبکہ اس کے سوا ہر چیز اپنے وجود اور ظہور میں اسی کی محتاج ہے۔ اسی بنا پر اسلامی نقطۂ نظر میں خدا کے ساتھ انسان کا تعلق غیبت نہیں بلکہ حضور کا، اور جستجو نہیں بلکہ یاد آوری کا تعلق ہے۔ انسان خدا کو خارج میں تلاش کرنے سے زیادہ اپنے باطن میں اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے؛ فطرت، خود شناسی، کائنات میں غور و فکر، اور زندگی کے وہ گہرے تجربات اس شعور کو بیدار کرتے ہیں جو پہلے ہی اس کے وجود میں ودیعت کیا جا چکا ہے۔ خصوصاً خطرات اور شدید آزمائش کے لمحات میں انسان بے اختیار اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے، اور یہی اس فطری معرفت کا ایک واضح مظہر ہے۔

قرآنِ کریم اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے﴿سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ﴾عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفوس میں بھی۔

یہ نشانیاں محض فلسفیانہ دلائل نہیں، بلکہ ایسے اشارات ہیں جو انسان کے اندر موجود فطری شعور اور معرفتِ الٰہی کو بیدار اور متحرک کرتے ہیں۔

اس پوری بحث کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ کانٹ اور اسلامی تصورِ معرفت کے درمیان اختلاف محض طریقۂ کار کا نہیں، بلکہ خود معرفت کی حقیقت کا ہے۔ کانٹ خدا کو ایک ایسے موضوع کے طور پر دیکھتا ہے جسے ثابت کرنا ضروری ہے، لیکن جب عقل اس مقصد میں ناکام دکھائی دیتی ہے تو وہ خدا کو اخلاقی دائرے میں منتقل کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی نقطۂ نظر ابتدا ہی سے خدا کو معرفت کا موضوع نہیں، بلکہ ہر معرفت کی بنیاد اور شرط قرار دیتا ہے۔

اسی لیے قرآنِ کریم فلسفیانہ مکاتبِ فکر کی طرح خدا کے وجود کے اثبات میں نہیں الجھتا، بلکہ انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے جو اس کی فطرت میں پہلے سے موجود ہے۔ قرآن کا پیغام یہ ہے کہ انسان خدا سے ناواقف نہیں، بلکہ غفلت کا شکار ہے۔ لہٰذا اصل مسئلہ دلیل کی کمی نہیں، بلکہ یادِ حق سے دوری اور فراموشی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ کانٹ نے ایمان کو بے بنیاد عقلی دعووں سے محفوظ تو کیا، لیکن ساتھ ہی اسے ایک محدود دائرے میں مقید کرکے اخلاق کا تابع بنا دیا۔ اس کے برعکس اسلامی نقطۂ نظر ایک وسیع تر افق پیش کرتا ہے، جہاں ایمان باللہ ہر معرفت کی بنیاد ہے، نہ کہ اس کا نتیجہ۔ یہاں توحید کسی استدلال کا حاصل نہیں، بلکہ خود معرفت کی روح اور اساس ہے۔

چنانچہ اصل سوال یہ نہیں کہ "کیا خدا کے وجود کو ثابت کیا جا سکتا ہے؟" بلکہ یہ ہے کہ "انسان اس حقیقت سے کیوں غافل ہو جاتا ہے جو اس کی اپنی ذات سے بھی زیادہ قریب ہے؟" یہی وہ مقام ہے جہاں زاویۂ نگاہ بنیادی طور پر بدل جاتا ہے؛ خدا کو ایک غائب حقیقت سمجھ کر اس کی تلاش کرنے کے بجائے، اس کے ازلی و دائمی حضور کو یاد کرنے اور اس کی طرف لوٹ آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔

شیئر: