واپس
کیا آپ  نے رمضان کو رخصت کیا یا رمضان آپ سے رخصت ہو گیا؟

کیا آپ نے رمضان کو رخصت کیا یا رمضان آپ سے رخصت ہو گیا؟

ہر سال جب ماہِ رمضان اپنے اختتام کے قریب پہنچتا ہے اور عید کا دن آ جاتا ہے تو دل میں ایک عجیب سی ملی جلی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے—ایسی کیفیت جو پورے سال میں کسی اور وقت محسوس نہیں ہوتی۔ ایک طرف خوشی کی لہر ہوتی ہے اور دوسری طرف ایک ہلکی سی اداسی دل میں اتر آتی ہے۔ انسان ان دونوں احساسات کے درمیان کھڑا رہ جاتا ہے۔ شاید روزہ دار پورے سال میں پہلی بار خود سے ایک سچا اور اہم سوال کرتا ہے، ایک ایسا سوال جس پر ٹھہر کر غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کیا میں نے رمضان کو الوداع کہا ہے یا رمضان ہی مجھے چھوڑ کر جا رہا ہے؟

الشيخ مقداد الربيعي

ہر سال جب ماہِ رمضان اپنے اختتام کے قریب پہنچتا ہے اور عید کا دن آ جاتا ہے تو دل میں ایک عجیب سی ملی جلی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے—ایسی کیفیت جو پورے سال میں کسی اور وقت محسوس نہیں ہوتی۔ ایک طرف خوشی کی لہر ہوتی ہے اور دوسری طرف ایک ہلکی سی اداسی دل میں اتر آتی ہے۔ انسان ان دونوں احساسات کے درمیان کھڑا رہ جاتا ہے۔ شاید روزہ دار پورے سال میں پہلی بار خود سے ایک سچا اور اہم سوال کرتا ہے، ایک ایسا سوال جس پر ٹھہر کر غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کیا میں نے رمضان کو الوداع کہا ہے یا رمضان ہی مجھے چھوڑ کر جا رہا ہے؟

ماہ مبارک رمضان سے متعلق ایک سوال، جس کا کوئی جواب نہیں

ہر سال ایسی ہی ایک رات میں لوگ آسمان کے نیچے کھڑے ہو جاتے تھے، اُن کی آنکھوں کے آنسو اُن کے الفاظ سے پہلے بہہ نکلتے تھے، پھر ان کی آواز کانوں سے پہلے دل کو ہلا دیتی تھی کہ اےماہ رمضان! کیا تو میرے حق میں گواہی دے گا یا میرے خلاف گواہی دے گا؟

یہ صرف ایک خوبصورت جملہ نہیں ہے جو ماہ رمضان کی الواداعی راتوں میں کہہ دیا جائے، بلکہ یہ وہ سب سے بنیادی اور سچا سوال ہے جو انسان اس بابرکت مہینے کے اختتام پر خود سے پوچھ سکتا ہے۔

آسان سوال تو یہ ہے کہ: کیا میں نے روزے رکھے؟ کیا میں نے نمازیں پڑھیں؟ کیا میں نے قرآن کی تلاوت کی؟

اور ان سوالوں کا جواب عموماً یہی ہوتا ہے: ہاں۔

لیکن اصل مشکل سوال، وہ سوال جس کا جواب جلدی نہیں دیا جا سکتایہ ہے: کیا رمضان اللہ کے حضور ہمارے حق میں گواہی دے گا؟ یا قیامت کے دن ہمارے خلاف گواہ بن کر کھڑا ہوگا؟

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جب رمضان کا ذکر کیا تو صرف روزوں کا ہی حکم بیان نہیں کیابلکہ اس کے پیچھے کی اصل غرض اور مقصد کو بھی واضح فرمایا:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ البقرة: 183

اے ایمان والو! تم پر روزے کا حکم لکھ دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر لکھ دیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

ماہِ رمضان اس لیے نہیں آیا کہ تم صرف بھوکے رہو یا تھکن برداشت کرو، بلکہ اس لیے آیا ہے کہ تم پرہیزگار بن سکو۔ پرہیزگاری کوئی ایسی بات نہیں جو صرف خطبوں میں بیان کی جائے، بلکہ یہ ایک حقیقی ڈھال ہے جو انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے۔ یہ وہ زندہ احساس ہے کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اور یہی احساس انسان کے رویّے اور کردار کو بدل دیتا ہے۔

تو کیا تم بدل گئے؟


رمضان ایک آئینہ ہے… تو اس میں تم نے کیا دیکھا؟

رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں ہے۔ رمضان ایک بڑا صاف آئینہ ہے جو اللہ تعالی  سال میں ایک بار انسان کے سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے نفس کی حقیقت دیکھ سکے۔ماہ رمضان میں دنیا کے معاملات ہلکے ہو جاتے ہیں اور شیطان کے وسوسے بھی کم ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ جکڑا ہوا ہے اور انسان کا نفس اپنی سب سے پاکیزہ حالت میں ہوتا ہے اور اپنے ساتھ سچائی کے لیے سب سے زیادہ تیار ہوتا ہے۔

تو تم نے اس آئینے میں کس کو دیکھا؟ کیا تم نے ایک ایسا انسان دیکھا جو اللہ کے قریب ہونے کی آرزو رکھتا ہے یا ایک ایسا انسان جو صرف افطار کا انتظار کر رہا ہے؟ کیا تم نے ایک ایسا انسان دیکھا جو سحر کے وقت روتا ہے یا ایسا انسان جو ساری سحر سو کر گزار دیتا ہے؟ کیا تم نے ایک ایسا انسان دیکھا جس کا اپنے اہل و عیال اور پڑوسیوں کے ساتھ برتاؤ بہتر ہو گیا ہے یا ایسا انسان جو بھوک کو بہانہ بنا کر اپنا برا اخلاق درست قرار دیتا ہے؟

اللہ تعالی  نے رمضان کو فرقان کا مہینہ کہا ہے:

﴿ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ﴾ البقرة: 185

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ایسے دلائل پر مشتمل ہے جو ہدایت اور(حق و باطل میں)امتیاز کرنے والے ہیں۔

فرقان کا مطلب ہے واقعی پاکیزگی اور واضح تبدیلی۔ یعنی رمضان تمہارے اندر ایک صاف لکیر چھوڑ جائے  جو یہ دکھائے کہ تم رمضان سے پہلے کیا تھے اور اب تم کیا بن گئے ہو۔

اگر تم رمضان سے ویسے ہی باہر نکلے جیسے اس میں داخل ہوئے تھے  وہی عادات، وہی اللہ کے ساتھ تعلق، وہی لوگوں کے ساتھ برتاؤ  تو یہ خود ایک بڑی مصیبت ہے، جس پر انسان کو پوری سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

الوداع کے آنسو… کیا یہ محبت کے آنسو ہیں یا پچھتاوے کے؟

ایک منظر جو ہر سال ماہ رمضان کو  الوداع کرنے کی رات دہرایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ  بہت سے لوگ ماہ  رمضان کے رخصت ہونے پر روتے ہیں اور مساجد آنسو بہانے والوں اور دعا کرنے والوں  سے بھر جاتی ہیں۔ ظاہری طور پر یہ خوبصورت منظر ہے لیکن اصل بنیادی سوال یہ ہے: تم کیوں رو رہے ہو؟

اس رات کے آنسوؤں میں دو بنیادی فرق ہیں:

 محبت کے آنسو:یہ وہ آنسو ہیں جو اس شخص کے ہیں جس نے واقعی رمضان سے محبت کی کیونکہ اس کی روح نےماہ رمضان میں وہ پایا جو باقی مہینوں میں نہیں ملتا اور اس کا دل اللہ کے قریب تھا، اس لیے اس قرب سے جدا ہونے پر دکھ ہوتا ہے۔

 پچھتاوے کے آنسو:یہ وہ آنسو ہیں جو اس شخص کے ہیں جو محسوس کرتا ہے کہ اس نے ایک موقع ضائع کر دیا جو دوبارہ نہیں آئے گااور دن گزر گئے مگر اس نے ان سے وہ حاصل نہیں کیا جو کر سکتا تھا۔

دونوں قسم کے آنسو اچھی بات ہیں لیکن پچھتاوے کے آنسو اس وقت تک کسی کام کے نہیں جب تک ان کے بعد حقیقی تبدیلی کا قدم نہ اٹھایا جائے۔ اللہ نے فرمایا:

﴿ وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ ﴾. الزمر: 54

اور اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ قبل اس کے کہ تم پر عذاب آ جائے،پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔

توبہ صرف بہنے والے آنسو نہیں ہے جو بہہ جائیں اور پھر خشک ہو جائیں۔ توبہ اصل میں دل کی سچی واپسی، عمل میں تبدیلی اور روزمرہ کے فیصلوں میں درست راستے پر چلنے کا نام ہے۔

اگر تم اس رات روتے ہو تو اپنے آنسوؤں کو صرف احساس تک محدود نہ رہنے دو بلکہ اسے ایک وعدہ بنا لو۔ اسے صرف ایک لمحے کی کیفیت نہ بناؤ بلکہ یہ تبدیلی کے سفر کی شروعات ہو۔ کیونکہ وہ آنسو جو کسی فیصلہ یا عمل میں نہیں بدلتےکچھ بھی بدل نہیں سکتے۔

اصل خطرہ رمضان سے پہلے نہیں،رمضان کے بعد ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے بہت سے لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں: روزہ دار کی زندگی کا سب سے اہم لمحہ رمضان سے پہلے نہیں  بلکہ رمضان کے بعد ہے۔

رمضان سے پہلے انسان جانتا ہے کہ وہ نامکمل ہے اور اسے اپنے اور اللہ کے درمیان فاصلے کا شعور ہوتا ہے اور یہی احساس اسے تکبر سے بچاتا ہے اور تبدیلی کی طرف مائل کرتا ہے۔

ماہ رمضان کے بعدشیطان آزاد ہو جاتا ہے، وہ بھوکا اور انتقام کا خواہاں ہوتا ہے اور انسان کے کان میں نرم مگر شرارتی باتیں پھونک دیتا ہے: تم نے روزہ رکھا، نماز پڑھی، قرآن پڑھا اور صدقہ دیا۔ اب تم ٹھیک ہو۔ تھوڑا آرام کرو۔ اور یہی اصل تباہی کی شروعات ہوتی ہے۔اللہ نے اس سے بڑے اچھے انداز میں خبردار کیا ہے:

﴿ وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَاثًا﴾ النحل: 92

اور تم اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے پوری طاقت سے سوت کاتنے کے بعد اسے تار تار کر ڈالا۔

یہ عورت محنت، مشقت اور صبر سے جو کچھ بناتی ہے پھر وہ سب کچھ اپنی ہی ہاتھوں سے برباد کر دیتی ہے۔ کیا یہ بالکل وہی نہیں جو بہت سے لوگ رمضان کے بعد کرتے ہیں؟ ماہ رمضان میں وہ تیس دن میں جس کی بنیاد رکھتے ہیں، پھر تین دن میں سب کچھ تباہ کر دیتے ہیں۔ ایک پورا مہینہ اللہ کے قریب ہوتے ہیں اور پھر ایک ہفتے میں اُس سے دور ہو جاتے ہیں۔

اسی لیے صالح لوگ رمضان کے بعد اللہ سے ایک خاص دعا مانگتے ہیں، جو وہ کبھی نہیں بھولتے: (اللهم لا تجعل رمضان آخر عهدنا بالطاعة) اے اللہ! رمضان کو ہماری اطاعت کا آخری وعدہ نہ بنانا۔

کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اصل خطرہ رمضان میں نہیں  بلکہ رمضان کے بعد ہے۔

عیدانعام نہیں بلکہ پہلا امتحان ہے۔

لوگ عید کو صرف روزے مکمل کرنے کا انعام سمجھتے ہیں جیسے روزے ختم ہو گئے اور اب آرام اور آزادی کا وقت آ گیا۔ لیکن یہ سوچ بالکل الٹ ہے۔

عید راستے کا اختتام نہیں بلکہ رمضان کے بعد پہلا حقیقی امتحان ہے۔ وہ امتحان جو صاف بتاتا ہے: کیا رمضان نے واقعی تمہیں بدل دیا؟ یا تم صرف اس لیے مذہبی تھے کیونکہ ماحول ماہ  رمضان والا تھا؟

عید میں اصل حالات آئیں گے۔ وہ چیزیں جن سے تم ماہ رمضان میں دور رہے، اب سامنے آئیں گی، کیا تم پھر بھی ان سے دور رہو گے؟ وہ اخلاق جو تم نے رمضان میں بہتر کیے، کیا تم ان پر قائم رہو گے؟ اور وہ تعلق اللہ سے جو تم نے رمضان میں مضبوط کیا، کیا تم اس کو برقرار رکھو گے؟

اللہ  تعالی نے فرمایا:

﴿ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ فصلت: 30 جو کہتے ہیں: ہمارا رب اللہ  تعالی ہے پھر ثابت قدم رہتے ہیں ۔

اس آیت کا پیغام یہ ہے کہ پھر وہ راستے پر قائم ہو گئے۔ اللہ پر ایمان رکھنا آسان ہے، زبان سے کہنا بھی آسان ہے۔ لیکن ماہ رمضان کے بعد، عام دنوں میں، جب ماحول ماہ رمضان جیسا نہیں اور لوگ سب روزے دار نہیں اس وقت کی استقامت ہی اصل استقامت ہے۔ اور یہی عید کا حقیقی انعام ہے۔

آپ ماہ  رمضان  کی تربیت کو کیسے  پورے سال اپنے ساتھ رکھ سکتے ہو؟

اس کے بعد ایک عملی سوال باقی رہ جاتا ہے: ہم کیا کریں؟ رمضان کو اپنے دلوں میں کیسے زندہ رکھیں جب یہ کیلنڈر سے چلا  بھی جائے؟

پہلا قدم: ایک چیز یاد رکھیں

کوئی نہیں کہتا کہ تم پورے سال رمضان جیسا ماحول برقرار رکھو لیکن اس ماہ  رمضان میں جو تبدیلی آ  گئی ہے، اسے سنبھالو۔ جو دو رکعتیں تم رات میں پڑھتے تھے، انہیں برقرار رکھو۔ جو ذکر تم مستقل کرتے تھے، اسے نہ چھوڑو۔ اپنے اہل خانہ کے ساتھ جو برتاؤ بہتر ہوا، اسے پہلے جیسا نہ ہونے دو۔ اللہ نے فرمایا:

﴿ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ المزمل: 20

اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں بہتر اور ثواب میں عظیم تر پاؤ گے ۔

دوسرا قدم: عید کے دن کو ایک وعدے کا دن بناؤ۔

کل جب تم عید کا لباس پہن کر گھر سے نکلنے والے ہوتو اپنے آپ کے ساتھ ایک منٹ کے لیے رُک کر کہو: اے اللہ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رمضان میں جو کچھ حاصل کیا اسے ضائع نہیں ہونے دوں گا۔ صرف ایک منٹ اور ایک وعدہ لیکن یہ پورے سال کا راستہ بدل سکتا ہے۔

تیسرا قدم: یاد رکھو کہ اللہ مہینوں کے بدلنے سے نہیں بدلتا۔

ہم  ماہ رمضان کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں لیکن اللہ نہیں بدلتا۔ وہ شعبان میں ویسا ہی ہے جیسا رمضان میں، شوال میں ویسے ہی سنتا ہے جیسا رماہ مضان میں سنتا ہے، اور ذی الحجہ میں ویسے ہی قبول کرتا ہے جیسا رماہ مضان میں کرتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾ البقرة: 186

 اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو (کہدیں کہ) میں (ان سے) قریب ہوں، دعا کرنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔

تمہارے اور اللہ کے درمیان فاصلہ مہینے میں نہیں بلکہ تمہارے دل میں ہے۔

آخری الوداع

رمضان آج رات ہم سے رخصت ہو رہا ہے۔

اگر ہم اس سے پوچھ سکتے کہ  جانے سے پہلے تم ہم سے کیا کہنا چاہتے ہو؟ شاید وہ جواب دیتا کہ میں تمہارے پاس آیا اور اللہ کی رحمت تمہارے لیے لایا، کیا تم نے اس سے اتنا لیا جتنا  تمہارے لیےکافی ہے؟میں نے ہر رات تمہارے لیے آسمان کے دروازے کھولے، کیا تم نے انہیں کھٹکھٹایا؟

میں نے تمہارے ساتھ تیس دن گزارے، کیا تم بدل گئے؟

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ماہ رمضان کی ساعتوں کو یوں بیان کیا ہے:

﴿وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ البقرة: 185

اور اللہ نے تمہیں جس ہدایت سے نوازا ہے اس پر اللہ کی عظمت و کبریائی کا اظہار کرو شاید تم شکر گزار بن جاؤ۔

 عید کی تکبیر  زبان سے پہلے دل سے نکلے۔ عید کی خوشی وہ خوشی ہو جو اس شخص کی ہو جو جانتا ہے کہ وہ ابھی بھی راستے پر ہےنہ کہ وہ خوشی جو اس شخص کی ہو جو سوچتا ہے کہ وہ مقصد تک پہنچ گیا ہے۔ اللہ ہماری اور آپ کی عبادات قبول فرمائےاور ہر سال آپ اللہ کے قریب تر ہوں۔

شیئر: