واپس
بنیامین نیتن یاہو: کیا مسیح کو چنگیز خان پر کوئی برتری حاصل نہیں؟

بنیامین نیتن یاہو: کیا مسیح کو چنگیز خان پر کوئی برتری حاصل نہیں؟

اخلاقی اقدار کے مقابلے میں طاقت کی منطق کو برتری دینے کی کوشش میں صہیونی ریاست کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے معروف امریکی مؤرخ وِل ڈیورانٹ کی کتاب (دروسِ تاریخ)سے ایک متنازعہ اقتباس نقل کیا ہے کہ اس اقتباس میں کہا گیا ہے کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسیح کو چنگیز خان پر کوئی خاص برتری حاصل نہیں۔نتن یاہو کے اس بیان نے دنیا بھر میں ناگوار حیرت، ناپسندیدگی اور ناقدانہ ردِّ عمل کی ایک لہر پیدا کر دی۔

شیخ مقداد الربیعی

اخلاقی اقدار کے مقابلے میں طاقت کی منطق کو برتری دینے کی کوشش میں صہیونی ریاست کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے معروف امریکی مؤرخ وِل ڈیورانٹ کی کتاب  (دروسِ تاریخ)سے ایک متنازعہ اقتباس نقل کیا ہے کہ اس اقتباس میں کہا گیا ہے کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسیح کو چنگیز خان پر کوئی خاص برتری حاصل نہیں۔نتن یاہو کے اس بیان نے دنیا بھر میں ناگوار حیرت، ناپسندیدگی اور ناقدانہ ردِّ عمل کی ایک لہر پیدا کر دی۔ اسی ٹیلی وژن گفتگو میں اس نے مزید کہا کہ کہ اس دنیا میں صرف باخلاق ہونا کافی نہیں ہے اور صرف حق پر ہونا بھی کسی کامیابی کی ضمانت نہیں۔اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس نے کہا کہ اگر آپ آج کی دنیا کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں تو آپ کو اس حقیقت سے انکار کےلئے اندھا ہونا پڑے گا کہ اگر آپ یہ نہ باور کرسکیں کہ امریکہ کی قیادت میں جمہوری طاقتوں کو اپنی بقا اور سالمیت کے لیے دوبارہ اپنی قوت اور ارادے کو نافذ کرنا ہوگا۔

اس بیان سے  یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ عالمی سیاست میں اخلاقی اصولوں کے بجائے طاقت اور غلبے کی منطق کو بنیاد بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس پر دنیا بھر سے شیدید ناقدانہ رد عمل سامنے آرہا ہے۔

ہم یہاں اس درندے کی درندگی میں پہلے سے زیادہ شدت ثابت کرنے کی کوشش نہیں کر رہئے بلکہ صرف ایک سوال اٹھانا چاہتے ہیں کہ کیا یہ بات دراصل تاریخ میں ہونے والے انسان جرائم کے لیے ایک کھلی اور واضح توجیہ نہیں بن جاتی ہیں؟ کیا یہی منطق دوسری عالمی جنگ کے دوران ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کو جلائے جانے کے عمل کے لیے بھی جواز فراہم نہیں کرتی؟

کیونکہ اگر طاقت کو عدل اور اخلاقی اقدار کی پابندی سے آزاد کر دیا جائے، تو پھر اس منطق کے مطابق ہمیں ہر اس شخص کو حق دینا پڑے گا جو اپنے نقطۂ نظر سے یہ سمجھتا ہو کہ اس کی قوم کا امن اور بقا دوسری قوموں کے مکمل خاتمے میں مضمر ہے۔

اسی حقیقت کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿أَفَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا﴾

کیا وہ شخص جس کے برے اعمال اسے خوشنما بنا کر دکھائے گئے ہوں اور وہ انہیں اچھا سمجھنے لگے (ہدایت یافتہ ہو سکتا ہے؟  (فاطر: 8

اور ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ۝ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ﴾

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار! درحقیقت یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں، مگر انہیں شعور نہیں۔(البقرہ: 11–12)

اگر اسی منطق کو درست مان لیا جائے تو پھر یہ لازم آتا ہے کہ ہر وہ شخص جو محض طاقت کے بل بوتے پر کمزور کو کچل سکتا ہو اسے ایسا کرنے کا حق دیا جائے، اور اس کے لیے وہ کسی بھی سادہ سی دلیل خواہ وہ سراسر جھوٹی ہی کیوں نہ ہو اسے ظلم ڈھانے کےلئےجواز بنا لے۔ پس اسی منطق کے تحت ہر دور میں کبھی تو مقدس سرزمین کو بچانے کا نعرہ لگایا جاتا رہا ہے، جیسا کہ صلیبی جنگوں میں ہوا، اور کبھی پسماندہ اقوام کو مہذب بنانے کا بہانہ تراشا جاتا رہا۔انسانی تاریخ اس طرح کے دعووں اور بہانوں سے بھری پڑی ہے۔ ذیل میں اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

مصنف ضرغام الکَیار اپنی کتاب وجوہِ ہیمنہ میں لکھتے ہیں کہ جب 1095ء میں پوپ اربن دوم نے کلیئر مونٹ کی محفل میں پہلی صلیبی جنگ کی چنگاری بھڑکائی تو اس نے مغربی افواج کو اس نعرے کے تحت جمع کیا کہ مشرق میں مسلمانوں کو غلام بنانا اور قتل کرنا خدا کی مرضی ہے، تاکہ وحشیوں سے مقدس سرزمین کو نجات دلائی جا سکے۔

آٹھ صدیوں کے بعد، بالخصوص 1885ء میں، فرانس کے سیکولر وزیرِ اعظم جول فِیری فرانسیسی قومی اسمبلی (پارلیمان) کے سامنے کھڑے ہوئے تاکہ ایشیا اور افریقہ پر استعماری یلغار کا جواز فراہم کرسکیں۔ اس موقع پر انہوں نے نہایت صراحت اور چونکا دینے والے انداز میں کہا کہ ہمیں کھلے لفظوں میں یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ اعلیٰ نسلوں کو ادنیٰ نسلوں پربرتری کے حقوق حاصل ہیں کیونکہ ان پر ایک ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے، اور وہ ذمہ داری ان اقوام کو مہذب بنانا ہے۔

یوں استعمار کے خطابات سے صلیب کا نام تو غائب ہو گیا، اور اس کی جگہ روشن خیالی اور ترقی جیسے دلکش تصورات نے لے لی۔ لیکن زمین پر نتیجہ وہی رہا کہ قتل و غارت گری، وسائل کی لوٹ مار، اور دوسروں کو غلام بنانے کا عمل اس دعوے کے ساتھ کہ انہیں ترقی اور بلندی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔اسی حقیقت کو بعد میں انگریز شاعر روڈیارد کپلنگ نے اپنے معروف تصورمیں "سفید فام انسان کا بوجھ " کا نام دیا۔

درحقیقت مغربی ذہن کے سب سے ہولناک تضادات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ انسانیت اور علم کے پُرکشش نعروں کی اوٹ میں انتہائی درندگی کا ارتکاب کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاریخ میں اس منافقت کی سب سے واضح اور لرزہ خیز مثال بیلجیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم کی داستان میں دیکھی جا سکتی ہے۔

انیسویں صدی کے اواخر میں بیلجیم کے بادشاہ لیوپولڈ دوم نے ایک ادارہ قائم کیا جسے اس نے  بین الاقوامی افریقی انجمن  کا نام دیا۔ اس تنظیم کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کا مقصد محض علمی اور انسانی خدمت ہے؛ یعنی وسطی افریقہ میں عرب غلام تجارت کا خاتمہ کرنا اور دریائے کانگو کے خطے میں تہذیب اور آزاد تجارت کو فروغ دینا۔ مغربی دنیا نے اس انسان دوست اور لبرل بیانیے کو یا تو سچ مان لیا، یا کم از کم مان لینے کا تاثر ضرور دیا۔

لیکن حقیقت کیا تھی؟

لیوپولڈ نے کانگو کوربڑ کی فراہمی کےلئے اپنی ذاتی جاگیر بنا ڈالا اور وہاں ایسا استحصالی و غلامانہ نظام قائم کیا جو انسانی تاریخ کے بدترین مظالم میں شمار ہوتا ہے۔ اس نام نہاد  سیکولر تمدن  کے طریقۂ کار میں یہ ہولناک رسم بھی شامل تھی کہ اگر کسی گاؤں کے مرد مطلوبہ مقدار میں ربڑ فراہم نہ کر پاتے تو سزا کے طور پر ان کے بچوں اور عورتوں کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے تھے۔

یہ مظالم محض قصے کہانیوں کی حد تک محدود نہیں رہے؛ بلکہ عینی شواہد کے طور پر ان کی خوفناک فوٹوگرافی تصاویر بھی محفوظ ہیں، جو عیسائی پروٹسٹنٹ مبلغین نے اس وقت کھینچیں جب وہ اس قتلِ عام اور سفاکیوں کے چشم دید گواہ بنے۔

مصدقہ تاریخی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ بیلجیم کی اس نام نہاد  انسانی مہم  کے نتیجے میں 1885ء سے 1908ء کے درمیان تقریباً ایک کروڑ کانگولی باشندے لقمۂ اجل بن گئے، جو اُس وقت کی آبادی کا تقریباً نصف بنتے تھے۔ یہ تباہی صرف براہِ راست قتل و غارت تک محدود نہ تھی؛ بلکہ لیوپولڈ نے کانگو کی دولت کو بھی بے دردی سے لوٹا۔ اندازوں کے مطابق وہ ہر سال وہاں سے تقریباً 220 ملین سونے کے فرانک نکالتا تھا جو آج کے حساب سے اربوں ڈالر کے برابر بنتے ہیں اور اس دولت کو بیلجیم میں اپنے محلات اور ذاتی منصوبوں پر خرچ کرتا تھا۔

اس سانحے کی سنگینی اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ برلن کی بین الاقوامی کانفرنس (1884–1885) میں لیوپولڈ کو کانگو پر ذاتی حاکمیت عطا کر دی گئی۔ یہ اختیار اسے  تمدن کے فروغ  اور  آزاد تجارت  کے دلکش نعروں کے پسِ پردہ دیا گیا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اُس دور کا بین الاقوامی نظام خود بھی اس ظلم و استبداد میں کسی نہ کسی درجے میں شریک تھا، اور  روشن خیالی کی اقدار  کے نام پر ایک وسیع انسانی المیے کو جواز فراہم کر رہا تھا۔ (ماخوذ از: وجوہُ الہیمنہ بین صلیبیۃ السیاسۃ ولیبرالیۃ الثقافۃ)


شیئر: